(حربِ فجار:حصہ دوم)
1980ء میں جب طائف کی زیارت کا شرف نصیب ہوا تو میں اپنے احباب کے ہمراہ عکاظ بھی گیا۔ یہ ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ جہاں اس وقت اگرچہ کوئی آبادی نہیں لیکن مکانوں کی بنیادیں اب بھی موجود ہیں۔ اس کی ایک جانب ایک پہاڑی ٹیلہ ہے۔ وہاں بھی ایک عمارت کے کھنڈر تھے بتایا گیا کہ یہاں ان کی ادبی محفل منعقد ہوتی تھی۔ میرے لئے اس میں دلچسپی کی یہ چیز تھی کہ یہی وہ میدان ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا محبوبﷺ اپنے خالق اور مالک کی توحید کی دعوت دینے کے لئے تشریف لایا کرتا تھا۔ اور جب یہ صدائے حق بلند ہوتی تھی تو چاروں طرف سے طعن و تشنیع کے تیروں کی بارش برسنے لگتی تھی لیکن حبیب کبریاءﷺ ہر چیز سے بے نیاز اپنے فریضہ نبوت کو ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے وہ جھاڑیاں ، وہ پگڈنڈیاں، وہ گری ہوئی دیواریں اس ماضی کے دھندلے نقوش کو تازہ کرنے کا باعث بنی تھیں۔
جب یہ براض کی خبر اس موقع پر قریش کو پہنچی تو انہوں نے مشورہ کے لئے ایک خصوصی مجلس مشاورت کا اہتمام کیا۔ بنو قیس نے جب یہ سنا کہ براض نے ان کے سردار عروۃ الرحال کو قتل کر دیا ہے تو وہ ابو براء بن مالک کی قیادت میں جنگ کے لئے تیار ہو کر نکلے ۔ اتنے میں قریش حدود حرم میں داخل ہو گئے تھے۔ بنو قیس نے بلند آواز سے اعلان کیا اے گروہ قریش! ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ عروہ کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور تم میں سے ایک بڑے سردار کو اس کے بدلے میں قتل کر کے رہیں گے اور آئندہ سال انہیں ایام میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا۔ حرب بن امیہ ، جو قریش کا سالار تھا اس نے اپنے بیٹے حضرت ابو سفیان کو کہا کہ تم انہیں کہو کہ ہمارا تمہارا مقابلہ آئندہ سال اسی دن اسی مقام پر ہو گا۔ آئندہ سال قریش اپنے تمام حلفاء بنو کنانہ ، احابیش (الاحابیش، اس کی وضاحت کرتے ہوئے صاحب عقد الفرید لکھتے ہیں: “سُمُوۡا بِذٰلِكَ كَاَنَّهُمْ تَخَالَفُوۡا باللهِ اَنَّهُمۡ يَدٌ عَلٰى غَيْرِهِمْ مَا سَجَا لَيْلٌ وَّ مَا وَضَحَ نَهَارُٗ وَّ مَا رَسَا حُبَيْشُٗ وَّ هُوَ جَبَلٌ اَسْفَلَ مَكَّةً”
ترجمہ: ان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلہ میں یک جان رہیں گے جب تک رات تاریک ہو اور دن روشن ہو جب تک حبیش کا پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس حبیش کی نسبت سے وہ احابیش کہلائے۔
(عقد الفرید : صفحہ 256 جلد پنجم)
اور بنو اسد کے ساتھ پوری طرح مسلح ہو کر بنو ہوازن کا مقابلہ کرنے کے لئے تاریخ مقررہ پر میدان میں نکلے۔ عبداللہ بن جدعان نے سو تیر اندازوں کو پوری طرح مسلح کرنے کے اخراجات برداشت کئے تھے بنی سلیم اور بنو ہوازن بھی اپنے حلیفوں کے لشکروں سمیت میدان میں آ کر ڈٹ گئے۔ قریش اور اس کے حلیف قبائل کا سپہ سالار حرب بن امیہ تھا۔ اور ان کے میمنہ پر عبداللہ بن جدعان اور میسرہ پر کریز بن ربیعہ اور قلب میں حرب بن امیہ لشکر کی کمان کر رہا تھا۔ ہوازن کا سالار مسعود بن معتب الثقفی تھا۔ دونوں اٹھے اور اپنے مد مقابل پر حملہ آور ہوئے۔ دن کے پہلے حصہ میں بنو کنانہ کا پلڑا بھاری رہا۔ لیکن دن کے آخری حصہ میں ہوازن نے جان کی بازی لگا دی تیروں اور نیزوں کی بوچھاڑ میں صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑ کر ڈٹے رہے یہاں تک کہ کنانہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ان میں سے ایک سو بہادر موت کے گھاٹ اترے قریش میں سے کوئی قابل ذکر شخص اس جنگ میں کام نہیں آیا چنانچہ یہ دن جس کو یوم شمطہ کہا جاتا ہے ہوازن کو کنانہ پر فتح نصیب ہوئی۔ “شمطہ” عکاظ کے قریب ایک گاؤں ہے جہاں یہ جنگ لڑی گئی ایک سال گزرنے کے بعد پھر دونوں قبیلے “عبلاء” کے قریب آمنے سامنے ہوئے عبلاء عکاظ کے قریب ایک سفید چٹان کا نام ہے دونوں لشکروں کے سالار وہی لوگ تھے جنہوں نے گزشتہ سال اپنی اپنی فوجوں کی قیادت کی تھی اس دن بھی ہوازن کا پلڑا بھاری رہا۔ تیسرے سال پھر انہی دنوں میں “شرب” کے مقام پر جو ایک گاؤں ہے اور مکہ کے قریب ہے وہاں ان دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا دونوں لشکروں کے سالار وہی لوگ تھے عبداللہ بن جدعان نے اس مرتبہ سو شتر (اونٹ) سوار لڑاکے اس جنگ کے لئے پیش کئے قریش اور کنانہ نے صبر و استقامت اور جرأت و شجاعت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ہوازن کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا یہ وہ جنگ ہے جس میں حضورﷺ نے پندرہ بیس سال کی عمر میں شرکت کی۔ حضورﷺ ترکش سے تیر نکال نکال کر چچاؤں کو دیتے تھے۔ چوتھے سال “نخلہ” کے قریب تحریرہ کے مقام پر دونوں قبیلوں کی مڈ بھیڑ ہوئی اور آئندہ سال عکاظ کے میدان میں پھر جمع ہونے کا وعدہ کر کے دونوں قبیلے اپنے اپنے علاقہ میں لوٹ آئے۔
(العقد الفرید، جلد پنجم، صفحہ258)
حسب وعدہ جب عکاظ کے میدان میں فریقین کا اجتماع ہوا۔ شمشیر زنوں نے تلواروں کو میانوں سے نکال لیا۔ تیر افگنوں نے اپنی کمانوں کے چِلُّوں پر تیروں کو رکھا اور نیزہ برداروں نے اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر نیزوں کو اپنے ہاتھوں میں تولنا شروع کیا۔ قریب تھا کہ جنگ شروع ہو جائے اور دونوں قبیلے اپنے بہادر نوجوانوں کو لقمہ اجل بنا کر تباہ و برباد ہو جائیں، عقبہ بن ربیعہ میدان میں نکلا اور بلند آواز سے فریقین کو مخاطب کیا۔
“يَا مَعْشَرَ مُضَرَ عَلَامَ تُقَاتِلُوۡنَ”
ترجمہ:اے مضر کے فرزندو! یہ تو بتاؤ تم کیوں ایک دوسرے کا خون بہانے اور ایک دوسرے کو موت کی بھینٹ چڑھانے پر تلے ہوئے ہو۔
ہوازن کی طرف سے آواز آئی۔
“مَا تَدْعُوۡ اِلَيْهِ” ترجمہ: اے عتبہ! تم ہمیں کس چیز کی طرف بلاتے ہو۔
عتبہ نے کہا صلح کی طرف۔
انہوں نے پوچھا اس کی عملی صورت کیا ہے؟عتبہ نے کہا جتنے تمہارے مقتول ہیں ہم ان کی دیت تمہیں ادا کریں گے۔ اور ان دیتوں کی ادائیگی تک ہم اپنے بچے تمہارے پاس بطور رہن رکھیں گے اور ان جنگوں میں جو ہمارے لوگ قتل ہوئے ہیں ان کا خون ہم تمہیں معاف کر دیتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا ہمارے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ تم ان شرائط کو پورا کرو گے۔
“قَالَ اَنَا” ترجمہ: عتبہ نے کہا میں خود ضمان ہوں۔ انہوں نے پوچھا۔ تم ہو کون ؟ اس نے کہا میں عتبہ ہوں ربیعہ کا بیٹا۔ چنانچہ اس بات پر صلح ہو گئی قریش، بنی کنانہ نے اپنے چالیس آدمی بطور پرغمال ان کی طرف بھیج دیئے ان چالیس میں حکیم بن حزام جیسی شخصیت بھی تھیں۔ جب بنی عامر بن صعصاع نے ان چالیس آدمیوں کو اپنے قبضہ میں پایا جو بطور رہن ان کے پاس بھیجے گئے تھے تو انہوں نے بھی اپنے مقتولوں کی دیتوں کو معاف کر دیا۔ یوں دو قبیلوں میں پانچ سال سے خونریزی کا جو المناک سلسلہ شروع ہوا تھا اختتام پذیر ہوا۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 256- 257)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲