Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 140نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ پنجم}

(حربِ فجار:حصہ اول)


عہد جاہلیت میں عرب کے باشندے عقیدہ کی گمراہی، علم سے محرومی کے علاوہ نسلی تفاخر، قبائلی عصبیت، شخصی رعونت اور انانیت کی بیماریوں میں بری طرح مبتلا تھے ذرا ذرا سی بات پر غضب ناک ہو جاتے آپس میں اُلجھ پڑتے تلواریں نیام سے باہر نکل آتیں۔ پھر اپنے بھائی بندوں کو اس بے دردی سے تہ تیغ کرتے کہ خون کے دریا بہنے لگتے اس بے مقصد قتل عام پر انہیں ذرا ندامت نہ ہوتی بلکہ ان کارستانیوں پر فخر کرتے اور اتراتے۔ ان بہادروں کی شان میں قصیدے لکھے جاتے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو زیادہ بے دردی سے اور کثیر تعداد میں قتل کیا ہوتا۔ یہاں بطور مثال ایک جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ اس میں شرکت فرمائی تھی ۔ اس جنگ کی تفصیلات میں نے “العقد الفرید ” سے نقل کی ہیں۔ اس کے مطالعہ سے زمانہ جاہلیت کی ساری لڑائیوں کی حقیقت آشکارا ہو جائے گی۔

زمانہ جاہلیت میں متعدد جنگیں ہیں جو حربِ فجار کے نام سے مشہور ہیں ہم جس حربِ فجار کا ذکر کر رہے ہیں یہ وہ جنگ ہے جو زمانہ بعثت سے بیس پچیس سال قبل اس وقت لڑی گئی جب حضورﷺ کی عمر مبارک پندرہ بیس سال کے درمیان تھی اس جنگ میں ایک فریق قریش اور بنی کنانہ تھے اور دوسرا فریق بنو ہوازن ، اور اس کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے کہ حیرہ کا بادشاہ نعمان بن منذر ہر سال جب عکاظ کا میلہ لگتا تھا ۔ اس وقت اپنا تجارتی قافلہ وہاں بھیجا کرتا اس قافلہ میں مشک و عنبر وغیرہ خوشبودار چیزیں سر فہرست ہوتیں ۔ یہ قافلہ اپنے مال کو عکاظ کی منڈی میں فروخت کرتا اور وہاں سے طائف کی چمڑے کی مصنوعات اور دیگر ضرورت کی چرمی چیزیں (چمڑے کی مصنوعات) خرید کر حیرہ لوٹ آتا۔ حیرہ سے عکاظ جاتے ہوئے اس قافلہ کو بہت سے صحرا نشین قبائل کے علاقوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ لوگ قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اس لئے نعمان ، جب اپنا تجارتی قافلہ روانہ کرتا تو عرب کے کسی رئیس کی حفاظت اور جوار میں اسے روانہ کرتا اس طرح کوئی قبیلہ اور کوئی فرد اس پر دست تعدی دراز نہ کرتا۔ اس دفعہ جب وہ قافلہ تیار ہوا تو نعمان نے اپنے اہل دربار سے پوچھا کہ اس دفعہ ہمارے قافلے کو کون اپنی پناہ میں لے گا۔ براض بن قیس النمری نے کہا کہ بنی کنانہ سے میں اسے اپنی پناہ میں لیتا ہوں ۔ نعمان نے کہا۔ مجھے تو ایسا آدمی چاہئے جو نجد اور تہامہ کے جملہ قبائل سے اس قافلہ کو پناہ دے وہاں ہوازن کا ایک رئیس عروة الرحال موجود تھا۔ اس نے کہا اے بادشاہ! کیا ایک مردود کتا ( براض) تمہارے قافلہ کو پناہ دے گا میں تیرے قافلے کو عرب کے تمام قبائل سے پناہ دیتا ہوں براض نے کہا اے عروہ! کیا تو بنی کنانہ سے بھی اس قافلہ کو پناہ دیتا ہے؟ عروہ نے کہا میں سب لوگوں سے اسے پناہ دیتا ہوں۔ چنانچہ نعمان نے اس قافلہ کی زمام کار (ذِمّہ داری) عروہ کے سپرد کر دی وہ اس کو لے کر روانہ ہوا۔ براض بھی اس کے تعاقب میں نکلا۔ عروہ کو کسی سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے علاقے سے گزر رہا تھا۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے جب وہ بنی تمیم کی ایک بستی “اُوارہ ” میں اترا تو اس نے رات کو شراب پی ایک لونڈی آئی اس نے اپنے رقص و سرور سے اس کا دل بہلایا۔ پھر وہ اٹھا اور جا کر اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔ براض نے جب اسے تنہا دیکھا تو اندر چلا گیا عروہ نے جب اس کو اس حالت میں دیکھا تو اس نے خطرہ بھانپ لیا۔ اس کی منت سماجت کرنے لگا، اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کر دو۔ لیکن براض نے اس کی منت سماجت کی ذرا پروا نہ کی اور تلوار کے ایک وار سے اس کا کام تمام کر دیا اور یہ رجز پڑھتا ہوا باہر نکلا۔

قَدْ كَانَتِ الْفِعْلَةُ مِنِّيۡ ضَلَّةٖ
هَلَّا عَلٰى غَيْرِيۡ جَعَلْتَ الزَّلَّةٖ
سَوْفَ اَعْلُوۡ بِالْحُسَامِ كُلَّۃٖ
وہ کہتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی اس نے یہ لغزش میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ کیوں نہیں کی میں اپنی تیز دھار والی تلوار کو اس کے سر پر بلند کروں گا۔ یعنی اس کا سر کاٹ دوں گا۔
عروہ جس کی امان میں نعمان کا یہ قافلہ سفر کر رہا تھا جب وہ مارا گیا تو براض نے قافلہ کو بے یار و مدد گار سمجھ کر ہانک لیا اور خیبر لے گیا۔

براض کے تعاقب میں مساور بن مالک الغطفانی اور اسد بن حثیم غنمی نکلے وہ بھی خیبر پہنچ گئے۔ وہاں سب سے پہلے جس شخص سے ان دونوں کی ملاقات ہوئی وہ خود براض تھا اس نے ان سے پوچھا۔ آپ کون صاحبان ہیں؟ انہوں نے اپنے اپنے قبیلہ کا نام لیا اور تعارف کرایا۔ براض نے کہا غطفان اور غنمی کا یہاں کیا کام انہوں نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا میں خیبر کا باشندہ ہوں۔انہوں نے کہا براض کے بارے میں تمہیں کچھ علم ہے؟ اس نے جواب دیا وہ ہمارے پاس آیا تھا گویا کسی نے اس کو دھکے مار کر اور رسوا کر کے اپنے ہاں سے نکال دیا ہوخستہ و شکستہ حال خیبر میں کسی نے اس کو اپنے ہاں پناہ نہیں دی اور نہ کسی نے اپنے گھر کا دروازہ اس کے لئے کھولا۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کہاں ہو گا؟ اس نے کہا۔ اگر میں تمہیں اس تک پہنچا دوں تو کیا تم میں اس کے مقابلہ کی طاقت ہے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، اس نے کہا پھر اپنے اونٹوں سے نیچے اترو وہ اترے اور اپنے اونٹوں کو عقالوں (وہ رسیاں جن سے اونٹوں کے گھٹنے باندھتے جائیں) سے باندھ دیا۔

براض نے ان سے دریافت کیا تم میں سے زیادہ بہادر، جرأت سے پیش قدمی کرنے والا اور تیز تلوار والا کون ہے۔ غطفانی نے کہا، میں۔ براض نے کہا میرے ساتھ چلو میں تمہیں اس کے پاس لے چلتا ہوں ۔ اور تمہارا یہ دوسرا ساتھی ان دو سواریوں کی حفاظت کرے گا چنانچہ غطفانی چلا۔ براض اس کے آگے آگے تھا وہ اسے خیبر کی آبادی سے باہر ایک کھنڈر میں لے گیا براض نے اسے کہا کہ وہ اس کھنڈر میں رہتا ہے تم انتظار کرو میں جا کر دیکھتا ہوں وہ یہاں ہے یا نہیں۔ وہ وہاں ٹھہر گیا براض اندر داخل ہوا۔ پھر باہر نکلا اور بتایا کہ وہ اس دیوار کے پیچھے جو کمرہ ہے اس میں سو رہا ہے تم جب اندر داخل ہو گے تو وہ کمرہ تمہاری دائیں طرف ہو گا۔ کیا تمہاری تلوار کی دھار تیز ہے؟ اس نے کہا ” ہاں ” براض نے کہا۔ لاؤ میں دیکھوں کہ اس کی دھار تیز ہے یا نہیں اس نے اپنی تلوار اس کو پکڑا دی۔ براض نے اس کو ہوا میں لہرایا پھر ایک وار سے اس کا سر قلم کر دیا اور تلوار کو دروازے کے پیچھے رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ غنمی کے پاس آیا جسے اونٹوں کی حفاظت کے لئے چھوڑ گیا تھا اس نے جب اس شخص کو دیکھا تو پوچھا خیریت تو ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے تیرے ساتھی سے زیادہ بزدل کوئی نہیں دیکھا میں نے اس کو اس کمرہ کے دروازے کے قریب کھڑا چھوڑا جس میں وہ آدمی سو رہا تھا تیرا ساتھی وہاں بے جان مورتی کی طرح کھڑا ہو گیا نہ آگے بڑھتا تھا نہ پیچھے ہٹتا تھا۔ گویا ایک بے جان لاشہ ہے۔ غنمی نے بصد تاسف کہا کاش اگر کوئی شخص ہمارے ان دو اونٹوں کی حفاظت کرتا تو میں خود جاتا۔ براض نے کہا ان کا میں ذمہ دار ہوں اگر کوئی شخص لے گیا تو میں ان کا تاوان ادا کروں گا۔ غنمی اس مکان کی طرف چل دیا براض اس کے پیچھے پیچھے تھا جب وہ اس کھنڈر کے دروازے کے اندر چلا گیا تو براض نے وہ تلوار اٹھا لی جسے وہ دروازے کے پیچھے چھوڑ گیا تھا اور اس کو بھی تہ تیغ کر دیا۔ دونوں مقتولوں کے ہتھیار بھی لے لئے۔ دونوں اونٹوں پر قبضہ کر لیا اور وہاں سے چلتا بنا۔ براض کے اس قتل و غارت کی خبر قریش کو اس وقت ملی جب وہ عکاظ کی منڈی میں اپنے اپنے خیموں میں امن و سکون کے ساتھ اپنے کاروبار میں مشغول تھے۔ عکاظ ایک جگہ کا نام ہے جو طائف سے تقریباً دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ جہاں ہر سال یکم ذی قعدہ سے ایک منڈی لگتی تھی لوگ دور دور سے اپنی مصنوعات وغیرہ لے آتے انہیں فروخت کرتے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر اپنے اپنے علاقے میں واپس چلے جاتے کاروباری سرگرمیوں کے علاوہ یہاں ان دنوں ثقافتی اور ادبی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتیں۔ شعراء قصیدے لکھ کر لاتے اور مجمع عام میں لوگوں کو سناتے اور سامعین سے داد وصول کرتے جو قصیدہ تمام قصائد سے اعلیٰ قرار پاتا اسے سونے کے پانی سے لکھ کر کعبہ کی دیواروں کے ساتھ آویزاں کر دیا جاتا ایک سال تک وہ وہاں لٹکا رہتا زائرین کعبہ اس قصیدہ کو سال بھر پڑھتے رہتے اور لکھنے والے کو داد دیتے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top