Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 139نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ چہارم}

(عصمت ربانی)


رحمت عالمﷺ فرمایا کرتے جب بھی میں کسی ایسے کام کا ارادہ کرتا جو میری شان کے شایاں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے ارتکاب سے مجھے بچا لیتا۔ چند واقعات زبان رسالتﷺ سے سماعت فرمائیے حضورﷺ نے فرمایا۔ ایک روز میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ہم سب پتھر اُٹھا اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہے تھے میں نے اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا تو آپ بےبہوش ہر کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کبھی کسی کے سامنے برہنہ نہیں ہوئے۔ چنانچہ میں نے اپنا تہبند باندھ لیا اور بچوں کے ساتھ پتھر اُٹھانے کے شغل میں پھر مصروف ہو گیا۔ حالانکہ سارے بچوں نے اپنی چادریں اتاری ہوئی تھیں۔
(السيرة النبویۃ، ابن ہشام، مطبوعہ مصر، جلد اول، صفحہ197)

حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے بچپن میں صرف دو مرتبہ ایسے کام کرنے کا ارادہ کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ عموماً کیا کرتے تھے لیکن دونوں مرتبہ میرے رب کریم نے مجھے بچا لیا۔ جب میں اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ تو دوسرے چرواہوں کے ساتھ میں بھی مکہ سے باہر صحرا میں شب بسر کیا کرتا تھا۔ ایک رات میں نے اپنے ساتھی چرواہے سے کہا آج تم میری بکریوں کا خیال رکھنا میں ذرا مکہ جاتا ہوں اور جہاں قصے کہانیوں کی محفلیں جمتی ہیں ان میں شرکت کرنا چاہتا ہوں میرے ساتھی نے حامی بھر لی اور میں مکہ چلا آیا۔ جب میں مکہ کے قریب پہنچا تو مجھے گانے، دفوں کے بجانے اور مزامیر (آلات موسیقی) کی آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں جو گا رہے ہیں اور دف بجا رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ فلاں شخص کی فلاں عورت کے ساتھ شادی ہے اس لئے یہ راگ رنگ کا سماں ہے میں وہاں سننے کے لئے بیٹھا ہی تھا کہ مجھے نیند نے آ لیا میری آنکھ لگ گئی رات بھر سویا رہا۔ جب سورج چڑھا اور اس کی گرم کرنیں میرے جسم کو جلانے لگیں تو میری آنکھیں کھلیں میں اُٹھا اور اپنے ساتھی کے پاس لوٹ آیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا بتاؤ رات کیسے گزری۔ مجھ پر جو بیتی تھی وہ میں نے اسے سنادی۔ ایک مرتبہ پھر میں نے مکہ کی رونقوں سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی اس کا بھی یہی انجام ہوا۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ101)

حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ” بوانہ ” کے مقام پر ایک بُت تھا جس کی قریش پوجا کیا کرتے اور بڑی تعظیم بجا لاتے ہر سال اس کا میلہ لگا کرتا دور و نزدیک سے لوگ بڑے شوق سے اس میں شامل ہوتے۔ پوجا پاٹ کی رسمیں ادا کرتے جانور بھینٹ چڑھاتے حضرت ابو طالب اپنی قوم سمیت اس میلہ میں شرکت کرتے اور حضورﷺ کو بھی مجبور کرتے کہ آپﷺ اس عید میں شامل ہوں لیکن حضورﷺ ہمیشہ انکار فرما دیتے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top