(حضورﷺ اور عم محترم ابو طالب)
حضرت عبد المطلب کی وصیت کے مطابق سرور عالمﷺ کی نگہداشت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصہ میں آئی۔ آپ کی مالی حالت اچھی نہ تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے خدمت گزاری کا حق ادا کر دیا آپ اپنے بچوں سے بھی زیادہ حضورﷺ سے پیار کرتے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے رات کو سوتے تو حضورﷺ کو اپنے پہلو میں لٹاتے۔ کھانے کا وقت ہوتا تو اس وقت تک دستر خوان نہ لگایا جاتا، جب تک حضورﷺ تشریف نہ لاتے۔ اگر حضورﷺ موجود نہ ہوتے تو اپنے کسی بچے کو بھیجتے تاکہ حضورﷺ کو ڈھونڈ کر لے آئے حضورﷺ کے آنے کے بعد کھانا شروع کیا جاتا۔ اپنے چچا کے دستر خواں پر جب شریک ہوتے تو اس کی برکتیں بھی ظہور پذیر ہوتیں۔ اگر آپ کے بچے کبھی حضورﷺ کے بغیر کھانا کھاتے تو کھانا پورا نہ ہوتا اور بھوکے اُٹھ آتے لیکن جب حضورﷺ تشریف فرما ہوتے تو سارے خوب سیر ہو کر کھاتے اور کھانا بھی بچ جاتا۔ یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے: “اِنَّکَ لَمُبَارَکٌ” ترجمہ: اے میرے بیٹےﷺ ! تو بڑا با برکت ہے۔ عام بچے بیدار ہوتے تو ان کے بال بکھرے ہوئے، آنکھیں چپکی ہوئی، چہرے زردی مائل کملائے ہوئے ہوتے لیکن حضورﷺ جب صبح کو بیدار ہوتے تو ہشاش بشاش چہرہ، آئینہ کی طرح صاف ہوتا، آنکھیں سرمگیں اور موئے مبارک جیسے کسی نے تیل ڈال کر کنگھی کر دی ہو۔ ام ایمن کہتی ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں بھی عام بچوں کی طرح حضورﷺ کو بھوک کی شکایت کرتے نہیں سنا۔
(السيرة النبویہ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 242)
حضرت ابو طالب کے بیٹھنے کے لئے گدّا بچھایا جاتا تھا۔ حضورﷺ تشریف لے جاتے تو بے درنگ اس پر بیٹھ جاتے ابو طالب کہتے۔
“اِنَّکَ لَمُبَارَکٌ” ترجمہ: میرے بھتیجےﷺ کا حال عظیم مستقبل کی غمازی کرتا ہے۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 88)
اسی زمانے میں عرب کے نامور قیافہ شناس گاہے بگاہے مکہ مکرمہ آیا کرتے اور جب بھی ان میں سے کوئی وہاں آتا تو لوگ اپنے بچوں کو ان کے پاس لے جاتے اور ان کے مستقبل کے بارے میں ان کی رائے معلوم کرتے اس قسم کے متعدد واقعات میں سے چند واقعات ہدیہ قارئین ہیں۔
ایک قیافہ شناس کی آمد مکہ میں: بنی ازد کا ایک خاندان ” لِہۡبۡ ” ہے جو قیافہ شناسی میں بڑی شہرت رکھتا تھا، اس کا ایک ماہر قیافہ شناس جب کبھی مکہ مکرمہ آیا کرتا۔ لوگ اپنے بچے اس کے پاس لے جاتے تاکہ ان کے مستقبل کے بارے میں اپنے علم قیافہ کی مدد سے انہیں کچھ بتائے ایک دفعہ جب وہ مکہ آیا تو حضرت ابو طالب حضورﷺکو بھی لے کر اس کے پاس گئے اس نے ایک مرتبہ دیکھا پھر وہ دوسرے بچوں کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا جب فارغ ہوا تو کہنے لگا ابھی ابھی میں نے ایک بچہ دیکھا تھا وہ کہاں ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔ حضرت ابو طالب نے جب حضورﷺ کے بارے میں اس کی شدید حرص کو دیکھا تو آپ نے حضورﷺ کو چھپا دیا۔ وہ بار بار اصرار کرتا وہ بچہ میرے پاس لاؤ ۔ وہ بچہ مجھے دکھاؤ بخدا اس کی شان بڑی بلند ہو گی۔
“فَوَاللَّهِ لَيَكُوۡنَنَّ لَهٗ شَانٌ” ترجمہ: بخدا اس کی شان بڑی بلند ہو گی ۔
لیکن حضرت ابوطالب، حضورﷺ کو لے کر چلے گئے اور اس کے اصرار کے باوجود بھی اسے نہیں دکھایا۔
(الروض الانف جلد اول، صفحہ 204 سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 242)
ابو طالب آپ کی کنیت تھی آپ کا نام عبد مناف تھا۔ روافض کا یہ کہنا کہ آپ کا نام عمران تھا۔ اور قرآن کریم کی اس آیت میں آل عمران سے مراد آل ابی طالب ہےجو کہ سراسر باطل اور غلط ہے۔آیت یہ ہے ۔
اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿33﴾
ترجمہ:بیشک اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہاں والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرما لیا۔( سورۃ آل عمران،آیۃ 33)
یہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 33 ہے اور اسی سورت کی آیت نمبر 35 میں عمران سے مقصود کیا ہے قرآن کریم نے واضح کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿35﴾
ترجمہ:اور (یاد کریں) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا: اے میرے رب! جو میرے پیٹ میں ہے میں اسے (دیگر ذمہ داریوں سے) آزاد کر کے خالص تیری نذر کرتی ہوں سو تو میری طرف سے (یہ نذرانہ) قبول فرما لے، بیشک تو خوب سننے خوب جاننے والا ہے۔
(سورۃ آل عمران،آیۃ53)
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ97)
ہر بچہ بھی جانتا ہے کہ یہ خاتون جو حضرت عمران کی بیوی ہیں وہ حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ تھیں اور حضرت عمران آپ علیہا السلام کے والد کا اسم گرامی تھا نہ کہ حضرت ابو طالب کا۔ قرآن کریم کے کلام الہیٰ ہونے کی ایک قوی دلیل یہ بھی ہے کہ وہ اپنی وضاحت خود کر دیتا ہے اور کسی تحریف کرنے والے کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اس کی آیتوں کو معانی کا جامہ پہناتا رہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲