(شق صدر کے بارے شکوک اور ان کا ازالہ)
شق صدر کے بارے میں جو روایات کتب حدیث میں موجود ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ نہیں ہے بلکہ عالم بیداری میں حسی طور پر سینہ مبارک شق کیا گیا قلب انور باہر نکالا گیا اسے چیرا گیا۔ اس میں سے خون کا لوتھڑا کاٹ کر الگ کیا گیا۔ پھر اسے دھویا گیا پھر اسے اپنے مقام پر رکھ کر سینہ مبارک کو سی دیا گیا۔ عرصہ دراز تک اس واقعہ پر یہ اعتراض کیا جا تا رہا کہ ایسا ممکن نہیں اگر دل کو باہر نکالا جائے اس میں سے کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائےتو زندگی کے چراغ کا گل ہو جانا ایک یقینی امر ہے، عقل خود بین کے پرستاروں نے اس بات پر بڑا شور و غل مچایا لیکن انہوں نے اس بات پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی عقل انسانی نے طویل فکر و تدبر اور مسلسل استقرا کی ریاضت سے جو قواعد و ضوابط مرتب کئے ہیں وہ آخری اور قطعی اور کم قطعی نہیں انسانی خرد کا طائر سبک سیر ابھی مصروف پرداز ہے، علم و حکمت کی نئی اقالیم فتح کی جارہی ہیں پنہاں اسرار کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔
کئی امور جو کبھی ناممکن اور محال خیال کئے جاتے تھے وہ اب ممکن ہی نہیں، بلکہ بالفعل وقوع پذیر ہور رہے ہیں اور ہر کہ و مہ (عام و خاص) ان کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ وہ علماء جنہیں عقل کی جولانیوں کا صحیح اندازہ ہے انہوں نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ جن مخفی اسرار کو انہوں نے بے نقاب کیا ہے یہ عقل کی آخری حد ہے، عقل اس سے آگے قدم نہیں بڑھا سکتی دور حاضر کا ایک بہت بڑا سائنس دان نیوٹن، جس کی ایجادات اور انکشافات نے نوع انسانی کی مادی زندگی کو خوشگوار بنانے میں بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں اس نے بڑی وضاحت سے عقل کی نارسائی کا اعتراف کیا ہے وہ کہتا ہے کہ : میری مثال اس بچے کی سی ہے جو سمندر کے کنارے کھیل رہا ہو۔ مجھے اپنے ساتھیوں کی نسبت کوئی زیادہ خوبصورت سنگریزہ یا گھونگھا مل جاتا ہے، لیکن ابھی حقیقت، حرز خار کی طرح میرے سامنے ہے جس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ عقل انسانی کو قدرت کی فیاضیوں نے تسخیر کائنات کی جو بے پناہ قوت اور استعداد ارزانی فرمائی ہے اس کا مشاہدہ ہم صبح و شام کرتے رہتے ہیں اس لئے عقل کی موجودہ فتوحات کو اس کی قوت تسخیر کی آخری سرحد خیال کر لینا نہ قرین انصاف ہے اور نہ معقول۔
واقعہ شق صدر پر آج سے چند سال قبل جو اعتراضات کئے جاتے تھے انسانی علم کی پیش قدمی نے اب ان بنیادوں کو بھی مسمار کر دیا ہے۔ آج بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے سرجن دل کا آپریشن کر رہے ہیں وہ دل کو اپنی جگہ سے نکال کر باہر میز پر رکھ دیتے ہیں پھر اس کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ انسان اس سارے عرصہ میں زندہ رہتا ہے اور صحت یاب ہو کر پہلے سے بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جو لوگ ایک قادر و قیوم ذات پر یقین محکم رکھتے ہیں ان کے لئے تحقیق طلب امر یہ ہے کہ شق صدر کا واقعہ قابل اعتماد ذرائع سے پایہ ثبوت کو پہنچا ہے یا نہیں اگر ایسی مصدقہ روایت موجود ہے تو انہیں اس سلسلہ میں مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وقوع پذیر ہوا جس میں اس کی قدرت اور حکمت کے ان گنت جلوے دیدہ بینا کو نظر آتے ہیں۔
یہ واقعہ جملہ کتب احادیث میں مذکور ہے حتی کہ امام بخاری و امام مسلم علیہما الرحمۃ نے اپنی صحیحین میں اس کو روایت کیا ہے تو ان محدثین کی روایات پر ہم بڑے وثوق سے اعتماد کر سکتے ہیں اور اس کی صداقت پر یقین رکھ سکتے ہیں بعض روایات میں تفصیل ہے اور بعض میں جمال۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے ہم اس واقعہ کی صحت پر شک کرنے لگیں اور مستشرقین اور عقل نا تمام کے پرستاروں کی پیروی کرنے لگیں۔ اب ہم اس واقعہ کے بارے میں روایت پیش کرتے ہیں جو عقل و نقل دونوں معیاروں پر پوری اترتی ہے جسے امام مسلم علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور جسے علماء حدیث نے اصح الروايات فی القصہ قرار دیا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺبچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کے پاس آئے آپﷺ کو پکڑ لیا، پھر زمین پر لٹا دیا، پھر سینہ چاک کیا اور دل کو باہر نکالا۔ اور دل میں ایک سیاہ لوتھڑا تھا اس کو باہر نکالا اور کہا یہ شیطان کا حصہ ہے۔ پھر دل مبارک کو ایک سونے کے طشت میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا پھر اسے سی دیا۔ اور اس کو اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ وہ لڑکے جو حضورﷺ کے ساتھ کھیل رہے تھے وہ دوڑتے ہوئے حضرت حلیمہ کے پاس آئے اور آ کر بتایا کہ مجھ کو قتل کر دیا۔ وہ سارے بھاگتے ہوئے میرے پاس پہنچے دیکھا کہ حضورﷺ کھڑے ہیں اور چہرے کا رنگ زردی مائل ہے۔
(السیرۃ النبویہ ابن کثیر ، جلد اول ، صفحہ 231)
یورپ کے بعض مورخین جہاں بھی انہیں موقع ملتا ہے حضورﷺ کی بے داغ سیرت پر اعتراض کرنے سے باز نہیں آتے۔ اور جب وہ اعتراض کرتے ہیں تو اس وقت انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ علم و تحقیق کے اس بلند مرتبہ پرفائز ہونے کے باوجود وہ کیسی بچگانہ اور مضحکہ خیز بات کر رہے ہیں۔ شق صدر کا واقعہ پر بھی وہ گل فشانی سے باز نہیں آئے۔ چنانچہ پروفیسر نکلسن اپنی کتاب ” تاریخ ادب عرب” اور سر ولیم میور اپنی کتاب ” دی لائف آف محمد ” میں لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ مرگی کے ایک دورہ کی کیفیت تھی۔ لکھنے کو تو انہوں نے لکھ دیا لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ اس جھوٹے الزام کو کون تسلیم کرے گا۔ مرگی کے مریضوں کی جو ذہنی کیفیت ہوتی ہے اور جو بے سر و پا ہزیان سرائی وہ کرتے ہیں کیا اس کا دور کا بھی تعلق اس مقدس زندگی سے ہو سکتا ہے؟ جس کا ہر فعل جسکا ہر قول ، جس کی ہر حرکت اپنے اعتدال، اپنی حکمت اور اپنی ہدایت بخشی میں بے نظیر و بے مثل ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲