Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 131حضورﷺ کا معصوم بچپن حصہ سوم)

(رضاعت :حصہ دوم)


ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حضرت عبد المطلب ملے انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا میں بنی سعد کی ایک خاتون ہوں انہوں نے نام پوچھا تو میں نے بتایا حلیمہ یہ سن کر حضرت عبدالمطلب فرط مسرت سے مسکرانے لگے اور فرمایا۔
“بَخۡ بَخۡ سَعْدٌ وَّحِلۡمٌ خَصْلَتَانِ فَهُمَا خَيْرُ الدَّهْرِ وَعِزُّ الْاَبَدِ”
ترجمہ: واہ واہ سعد اور حلم، کیا کہنا یہ وہ دو خوبیاں ہیں جن میں زمانہ بھر کی بھلائی اور ابدی عزت ہے۔
پھر فرمایا میرے ہاں ایک یتیم بچہ ہے کسی نے اس کے یتیم ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا تو اس یتیم بچہ کو گود میں لینے کے لئے تیار ہے؟
“هَلْ لَكِ اَنْ تَرْضَعِيۡهِ عَسٰى اَنْ تَسْعَدِيۡ بِهٖ”
ترجمہ: کیا تو اس کو دودھ پلانے کے لئے تیار ہے ہو سکتا ہے کہ اس کی برکت سے تیرا دامن یمن (برکت) و سعادت سے لبریز ہو جائے۔
میں نے اپنے خاوند سے مشورہ کرنے کے لئے اجازت طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے میرے خاوند کے دل کو اس گَنجِ گِراں مایہ (بے بہا خزانہ) کے ملنے پر فرحت و سرور سے بھر دیا اس نے کہا حلیمہ! دیر نہ کرو فورا جاؤ اور اس بچے کو لے آؤ، میں واپس آئی تو حضرت عبدالمطلب کو اپنا منتظر پایا میں نے کہا وہ بچہ مجھے دیجئے۔ میں اس کو دودھ پلانے کے لئے تیار ہوں وہ مجھے حضرت آمنہ کے گھر لے گئے سیدہ نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے اس کمرہ میں لے گئیں جہاں یہ نور نظرﷺ لیٹا ہوا تھا آپﷺ دودھ کی طرح سفید صوف کے کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے نیچے سبز رنگ کی ریشمی چادر بچھی تھی آپﷺ اس پر آرام کر رہے تھے کستوری کی مہک اٹھ رہی تھی آپﷺ کے معصوم حسن و جمال کو دیکھ کر میں تو فریفتہ ہو گئی مجھ میں یہ جرأت نہ تھی کہ آپﷺ کو جگاؤں میں نے اپنا ہاتھ سینہ مبارک پر رکھا تو وہ جانِ جاں مسکرانے لگے اور اپنی سرمگیں آنکھیں کھولیں میں نے محسوس کیا کہ ان آنکھوں سے انوار نکل رہے ہیں اور آسمان کو چھو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور آپﷺ کو اٹھا کر اپنے سینہ سے لگا لیا اور اپنے خاوند کے پاس لے آئی۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 56 – 55)

حضرت حلیمہ سعدیہ بیان کرتی ہیں جب میں اس دولت سرمدیﷺ کو اٹھائے ہوئے واپس اپنے خیمہ میں پہنچی تو میں نے دودھ پلانے کے لئے اپنی دائیں چھاتی پیش کی حضورﷺ نے اس سے پیا جتنا چاہا۔ پھر میں نے بائیں چھاتی پیش کی ۔ آپﷺ نے پینے سے انکار کر دیا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو الہام کیا کہ تیرا ایک اور بھائی بھی ہے اسلئے آپﷺ عدل کریں اور دوسری طرف سے دودھ نہ پئیں۔ جس ہستی نے آگے چل کر سارے جہاں کو عدل وانصاف کا درس دینا تھا اس کا پروردگار یہ کیسے برداشت کر سکتا کہ اس کا اپنا دامن کسی بے انصافی میں ملوث ہو۔ حضور ﷺکے دودھ پینے سے پہلے حضرت حلیمہ کی چھاتیوں میں برائے نام دودھ تھا لیکن حضورﷺ کے دودھ پینے کی برکت سے وہ چھاتیاں دودھ سے لبا لب بھر گئیں آپﷺ کے رضاعی بھائی نے بھی خوب سیر ہو کر دودھ پیا رات کو وہ بھی خوب جی بھر کر سویا اس کو سلانے کے بعد میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا یہ دیکھ کر اس کی حیرت و خوشی کی حد نہ رہی کہ اس کی اونٹنی کی کھیری دودھ سے بھری ہوئی ہے اس نے اسے دوہا خود بھی جی بھر کر پیا اور میں نے بھی سیر ہو کر دودھ نوش کیا ہم سب رات کو خوب سوئے وہ رات ہم نے بڑے آرام و راحت کے ساتھ بسر کی رات بھر میٹھی نیند کے مزے لوٹنے کے بعد جب ہم بیدار ہوئے تو میرے خاوند نے کہا۔
“وَاللَّهِ! يَا حَلِيمَةُ لَقَدْ اَخَذْنَا نَسْمَةً مُّبَارَكَةً”
ترجمہ: بخدا! اے حلیمہ ہمیں سراپا یمن و برکت وجود نصیب ہوا ۔
میں نے کہا میں بھی یہی امید رکھتی ہوں۔ جب سب عورتوں کو رضاعت کے لئے بچے مل گئے تو ہمارا کارواں اپنے مسکن کی طرف روانہ ہوا ساری خواتین اپنے نئے بچوں کے ساتھ اپنی اپنی اونٹنیوں پر سوار ہوئیں۔ میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کے باعث چل نہیں سکتی تھی جس نے سارے قافلہ کو آتے ہوئے پریشان کر دیا تھا میں اپنے فرزند دل بند کے ساتھ اس پر سوار ہوئی اب تو اس کی حالت ہی بدل گئی تھی یوں تیزی سے قدم اٹھاتی تھی کہ قافلہ کی ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں وہ گویا چل نہیں رہی تھی بلکہ اڑ رہی تھی۔ قافلہ والیاں چیخ اٹھیں کہنے لگیں اے ابی ذویب کی بیٹی! خدا تیرا بھلا کرے ہم پر رحم کر اور اپنی گدھی کو آہستہ آہستہ چلا۔ بھلا یہ تو بتا یہ وہی پہلے والی گدھی ہے جو قدم اٹھانے سے معذور تھی اب اسے کہاں سے پر لگ گئے کہ اڑتی چلی جا رہی ہے میں انہیں کہتی بخدا یہ وہی گدھی ہے۔ خدا تمہارا بھلا کرے تم دیکھتی نہیں اس پر کون سوار ہے۔ آخر ہم اپنی قیامگاہوں پر پہنچ گئے اللہ کی ساری زمین میں یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آرہا تھا لیکن میری بکریاں شام کو جب واپس آتیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے اور ان کی کھیریاں دودھ سے لبریز ہوتیں۔ ہم دودھ دوہتے اور خوب سیر ہو کر پیتے دوسرے لوگوں کے ریوڑ بھوکے واپس آتے ان کی کھیریوں میں سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکتا وہ لوگ اپنے چرواہوں کو ڈانٹتے اور کہتے تم ہماری بھیڑ بکریاں وہاں کیوں نہیں چراتے جہاں ابو ذویب کی بیٹی کی بکریاں چرتی ہیں۔ دن بدن ان انعامات اور برکات میں اضافہ ہوتا جاتا اور ہم خوشحالی کی زندگی بسر کرنے لگے یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ ختم ہو گیا میں نے حضورﷺ کا دودھ چھڑا دیا۔ اس عرصہ میں آپﷺ کی نشوونما کی کیفیت نرالی تھی دو سال میں آپﷺ قوی اور توانا بچوں کی طرح ہو گئے۔حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ ایک روز میں حضورﷺ کو گود میں لئے بیٹھی تھی بکریوں کا ایک ریوڑ میرے قریب سے گزرا ان میں سے ایک بکری آگے آئی اور حضورﷺ کو سجدہ کیا۔ اور سر مبارک کو بوسہ دیا پھر بھاگ کر دوسری بکریوں میں مل گئی۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول صفحہ57)

حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم مکہ کے سفر سے واپس پہنچے تو ہر گھر سے کستوری کی مہک آنے لگی وہاں کے سب لوگ حضورﷺ کی محبت میں دیوانے ہو گئے جب حضورﷺ کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے تو سو جان سے فدا ہونے لگتے جب کسی کو کوئی بدنی تکلیف ہوتی وہ آتا حضورﷺ کی بابرکت ہتھیلی کو پکڑ کر تکلیف والی جگہ پر رکھتا باذن اللہ تعالیٰ فورا شفا یاب ہو جاتا اگر ان کا کوئی اونٹ یا بکری بیمار ہو جاتی تو اس پر حضورﷺ کا دست مبارک پھیرتے وہ تندرست ہو جاتی۔ آپ کہتی ہیں کہ راحت و خوشحالی کے یہ دو سال گویا پل بھر میں بیت گئے حضورﷺ کی روز افزوں برکات کے سائے میں جو مزے ہم لوٹ رہے تھے اس کے باعث ہماری یہ خواہش تھی کہ حضورﷺ کچھ عرصہ اور ہمارے ہاں اقامت گزیں رہیں۔ مدت رضاعت پوری ہونے کے بعد ہم حضورﷺ کو آپﷺ کی والدہ ماجدہ کے پاس لے آئے۔ لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا میں نے سیدہ آمنہ سے گزارش کی۔ بہتر ہے کہ آپ اپنے فرزند گرامی کو مزید کچھ عرصہ کے لئے ہمارے پاس رہنے دیں وہاں کی آب و ہوا کا ان کی صحت پر خوشگوار اثر ہو گا۔ مکہ کی وبا زدہ فضا اور آلودہ ماحول سے ان کا دور رہنا ہی بہتر ہے حضرت حلیمہ نے اس بات پر اتنا اصرار کیا کہ سیدہ آمنہ کو ہاں کرنا پڑی۔ چنانچہ آپ پھر اس بخت بیدار کو اپنے آغوش میں لئے شاداں و فرحاں اپنے قبیلہ میں واپس آ گئیں۔ حضورﷺ کی واپسی سے گھر گھر خوشی کے چراغ روشن ہو گئے آپﷺ کی رضاعی بہن شیما کی مسرت کی تو کوئی حد نہ تھی کبھی کھلاتی، کبھی پلاتی کبھی گیت گا گا کر دل بہلاتی کبھی محبت بھری لوریاں دیتی وہ معصوم بچی جن پاکیزہ کلمات سے حضورﷺ کو لوریاں دیتی مورخین نے اپنی کتب میں انہیں ثبت کر دیا ہے۔ تاکہ آنے والی نسلیں بھی پیار و الفت کے لطیف جذبات سے لطف اندوز ہو سکیں وہ کہتیں۔

يَا رَبَّنَا اِبْقِ لَنَا مُحَمَّدًا
حَتّٰى اَرَاهُ يَافِعًا وَاَمْرَدَا
اے میرے رب ! میرے بھائی محمدﷺ کو ہمارے لئے سلامت رکھ یہاں تک کہ میں آپﷺ کو جواں گھبرو دیکھوں ۔

ثُمَّ اَرَاهُ سَيِّدًا مُّسَوَّدًا
وَاَكْبِتْ اَعَادِيۡهِ مَعًا وَالْحُسَّدَا
یہاں تک کہ میں آپﷺ کو اپنی قوم کا سردار دیکھوں جس کی سب اطاعت کر رہے ہوں اے میرے رب! اسکے دشمنوں اور حاسدوں کو ذلیل و رسوا کر ۔
“وَاعْطِهٗ عِزًّا يَدُوۡمُ اَبَدًا”
اور انہیں وہ عزت عطا فرما جو تا ابد باقی رہے ۔
(السيرة النبویۃ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ63)

حضرت حلیمہ بتاتی ہیں کہ حضورﷺ کی واپسی کے دو تین ماہ بعد ایک روز حضورﷺ ہمارے مکانوں کے عقب میں اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ بکریاں چرا رہے تھے کہ دوپہر کے وقت اچانک آپﷺ کا بھائی دوڑتا ہوا آیا وہ بہت گھبرایا ہوا تھا اس نے بتایا دو مرد جنہوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا میرے قریشی بھائی کے پاس آئے پکڑ کر اسے زمین پر لٹا دیا اس کے شکم کو چاک کر دیا میں اور آپﷺ کے رضاعی والد دوڑتے ہوئے آپﷺ کی طرف لپکے ہم نے دیکھا کہ آپﷺ کھڑے ہیں اور چہرہ مبارک کی رنگت زردی مائل ہے۔ آپﷺ کے والد نے آپﷺ کو گلے لگایا اور پوچھا میرے بیٹے کیا ہوا؟ آپﷺ نے بتایا میرے قریب دو آدمی آئے جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مجھے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا۔ پھر میرے شکم کو چیر دیا اس میں سے کوئی چیز نکالی اور اسے باہر پھینک دیا پھر میرے پیٹ کو سی کر پہلے کی طرح کر دیا ہم دونوں آپﷺ کو اپنے ہمراہ لے کر واپس گھر آئے آپﷺ کے والد نے مجھے کہا اے حلیمہ! مجھے اندیشہ ہے کہ آپﷺ کو آسیب کا اثر ہو گیا ہے ہمیں چاہئے کہ بچے کو اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دیں اس سے پہلے کہ آسیب کے اثرات ظاہر ہوں چنانچہ ہم آپﷺ کو لے کر سیدہ آمنہ کے پاس پہنچ گئے ہمیں دیکھ کر سیدہ آمنہ گھبرا گئیں پوچھا خیر تو ہے۔ کل بڑے چاؤ سے لے گئی تھیں اور آج واپس بھی لے کر آ گئی ہو۔ ہم نے کہا بخدا کچھ بھی نہیں ہوا ہم نے سوچا کہ جو ہمارا فرض تھاوہ ہم نے بڑی خوش اسلوبی سے ادا کر دیا اب بہتر ہے کہ ہم اس نونہال کو اس کے اہل خانہ کے حوالہ کر دیں اور اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں سیدہ آمنہ نے فرمایا مجھے سچ سچ بتاؤ کیا حادثہ رونما ہوا کہ تم نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ آپ نے اصرار کیا تو حضرت حلیمہ بتانے پر مجبور ہو گئیں اور شق صدر کا واقعہ سنایا آپ نے فرمایا اے حلیمہ ! کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ میرے نور نظر کو شیطان کوئی اذیت پہنچائے گا؟ بخدا ہر گز نہیں۔ شیطان اس کے قریب بھی بھٹک نہیں سکتا تم دیکھو گی کہ میرے اس بچے کی نرالی شان ہوگی اور میرا یہ بچہ آفتاب بن کر چمکے گا۔ اے حلیمہ ! کیا میں اپنے بیٹے کے بارے میں تمہیں کچھ بتاؤں ۔ حضرت حلیمہ نے عرض کیا ضرور بتائیے فرمانے لگیں۔ جب مجھے حمل قرار پایا تو عام عورتوں کی طرح نہ مجھے اس کا کوئی بوجھ محسوس ہوا نہ کوئی اور تکلیف محسوس ہوئی۔ حمل کے دنوں میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے اندر سے نور خارج ہوا جس کی روشنی میں مجھے شام کے محلات نظر آئے ولادت کے وقت انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیکے ہوئے تھے۔ اور سر آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ اب اسے میرے پاس ہی رہنے دو میں خود اس کی خبر گیری کروں گی۔ رضاعت کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
“وَ هٰذَا الْحَدِيۡثُ قَدْ رُوِيَ مِنْ طُرُقٍ اُخَرَ وَهُوَ مِنَ الْاَحَادِيۡثِ الْمَشْهُوۡرَةِ الْمُتَدَاوِلَةِ بَيْنَ اَهْلِ السِّيۡرِ وَالْمَغَازِيۡ”
ترجمہ: یہ حدیث مختلف طریقوں سے مروی ہے اور یہ ان احادیث میں سے ہے جو سیرت نگاروں اور مغازی کے مصنفین کے نزدیک مشہور اور معروف ہیں۔
(السيرة النبویۃ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ228)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top