(اسم مبارک و کلمہ محمدﷺ کی تشریح)
اسم مبارک: ایک روایت میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ مختون پیدا ہوئے تھے لیکن دوسری روایات میں یہ ہے کہ ساتویں روز حضرت عبدالمطلب نے تمام قریش کو مدعو کیا اسی روز حضورﷺ کا ختنہ کیا گیا اور جانور ذبح کر کے عقیقہ کیا گیا اور آپ نے اپنے قبیلہ کی پر تکلف دعوت کا اہتمام فرمایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو انہوں نے کہا۔ اے عبد المطلب! جس بیٹے کے تولد کی خوشی میں آپ نے اس پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا ہے اور ہمیں عزت بخشی ہے یہ تو بتائیے کہ اس فرزند کا نام آپ نے کیا تجویز کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے اس کا نام ” محمد” تجویز کیا ہے۔ از راہ حیرت وہ گویا ہوئے۔ آپ نے اپنے اہل بیت میں سے کسی کے نام پر اس کا نام نہیں رکھا۔
آپ نے جواب دیا: “اَرَدۡتُّ اَنْ يَّحْمِدَهُ اللهُ فِي السَّمَآءِ وَخَلْقُهٗ فِي الْاَرْضِ”
ترجمہ:میں نے اس لئے اس کا یہ نام تجویز کیا ہے تا کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اور زمین میں اس کی مخلوق اس مولود مسعود کی حمد و ثنا کرے ۔
کلمہ محمد کی تشریح:
“قَالَ اَهْلُ اللُّغَةِ كُلُّ جَامِعِِ بِصِفَاتِ الْخَيْرِ يُسَمّٰى مُحَمَّدًا”
ترجمہ: اہل لغت کہتے ہیں کہ جو ہستی تمام صفات خیر کی جامع ہو اسے “محمد” کہتے ہیں۔
امام محمد ابو زہرہ اسم محمد کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
“اَنَّ صِيۡغَةَ التَّفْعِيۡلِ تَدُلُّ عَلٰى تَجَدُّدِ الْفِعْلِ وَحُدُوۡثِهٖ وَقۡتًا بَعْدَ اٰخَرَ بِشَكۡلٍ مُّسْتَمِرٍّ مُتَجَدِّدًا اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ وَعَلٰى ذٰلِكَ يَكُوۡنُ مُحَمَّدٌ اَيۡ يَتَجَدُّدُ حَمْدُهٗ اٰنًا بَعْدَ اٰنٍ بِشَكۡلٍ مُّسْتَمِرٍّ حَتّٰى يَقْبِضَهُ اللهُ تَعَالٰى اِلَيْهِ”
ترجمہ: تفعیل کا صیغہ، کسی فعل کے بار بار واقع ہونے اور لمحہ بہ لمحہ وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں استمرار پایا جاتا ہے۔ یعنی ہر آن وہ نئی آن بان سے ظاہر ہوتا ہے اس تشریح کے مطابق “محمد” کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ ذات جس کی بصورت استمرار ہر لمحہ ہر گھڑی “نَو بنَو” تعریف و ثنا کی جاتی ہو۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 115)
علامہ سہیلی اس نام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
“فَالْمُحَمَّدُ فِي اللُّغَةِ هُوَ الَّذِيۡ يُحْمَدُ حَمْدًا بَعْدَ حَمْدٍ وَلَا يَكُوۡنُ مُفَعَّلُ مِثْلَ مُضَرَّبٍ وَمُمَدَّحٍ اِلَّا لِمَنْ تَكَرَّرَ فِيۡهِ الْفِعْلُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ”
ترجمہ:یعنی لغت میں “محمد” اس کو کہتے ہیں جس کی بار بار تعریف کی جائے کیونکہ مفعل کے وزن میں اس فعل کا تکرار مقصود ہوتا ہے۔ مضرب اور ممدح ان کا وزن بھی مفعل ہے اور ان کے معنی میں بھی تکرار ہے۔
(الروض الانف، جلد اول، صفحہ 182)
دوسرا مشہور و معروف نام نامی “احمد “ہے۔ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علی نبینا و علیہما السلام نے حضورﷺ کو اس نام سے یاد کیا۔احمد، اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے احمد الحامدین، یعنی ہر حمد کرنے والے سے زیادہ اپنے رب کی حمد کرنے والا۔ ویسے تو حضورﷺ کا لمحہ لمحہ اپنے رب کریم کی حمد و ثنا سے آباد ہے۔ حضورﷺ کی تحمید و تمجید کی ہر ادا سب سے نرالی اور سب سے ارفع و اعلیٰ ہے لیکن حضورﷺ کی یہ شان احمدیت پوری آب و تاب سے روز محشر آشکارا ہو گی جب حضورﷺ رب ذوالجلال کے عرش کے سامنے حاضر ہو کر سر بسجود ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد کے لئے اپنے حبیبﷺ کا سینہ منشرح فرمائے گا۔ حمد کے سرمدی خزانوں کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ صدر انور میں معرفت الہٰی کا بحر بیکراں ٹھاٹھیں مارنے لگے گا۔ حضورﷺ کی زبان فیض ترجمان اس کی تہ سے حمد کے موتی چن چن کر بکھیر رہی ہو گی جملہ اہل محشر پر کیف و سرور کی مستی چھا جائے گی اس بے مثل اور بے نظیر تحمید و تمجید کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوبﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا، دست مبارک میں لواء حمد تھمائے گا اس وقت انوار الہٰی کی ضوفشانیوں اور شان احمدی کی ضیاء پاشیوں کا کیا عالم ہو گا۔ ہر چیز وجد کناں سبحان الله، سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر کے ترانے الاپ رہی ہوگی ۔ ہم گناہ گاروں اور عصیاں شعاروں کی بھی بن آئے گی۔ حضورﷺ پہلے “احمد” تھے سب سے زیادہ اپنے رب کی تعریف و ثنا کرنے والے، اس کی برکت سے “محمد” ہوئے تا ابد بار بار ان کی تعریف و ثنا کے زمرے بلند ہوتے رہیں گے۔ نہ زبانیں خاموش ہوں گی اور نہ قلم کو یارائے صبر ہو گا نہ معانی و معارف کے موتی ختم ہوں گے۔ نہ ان موتیوں کے ہار پرونے والے بس کریں گے۔ جمال مصطفویﷺ کے گلشن میں نت نئے پھول کھلتے رہیں گے۔ سلیقہ شعار گل چین انہیں چنتے رہیں گے جھولیاں بھرتے رہیں گے۔ اور مشک بار گلدستے تیار کر کے بزم کونین کو سجاتے رہیں گے اور فضائے عالم کو عنبرین بناتے رہیں گے۔
رحمت عالمﷺ کے بزم رنگ و بو میں رونق افروز ہونے سے پہلے یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ نبی آخر الزمانﷺ کی ولادت کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور ان کا اسم گرامی “محمد” ہو گا کئی لوگوں نے اس آرزو میں اپنے بچوں کو اس نام سے موسوم کیا کہ شائد یہ سعادت انہیں ارزانی ہو۔ ابن فورک نے “کتاب الفصول” میں تین ایسے بچوں کا ذکر کیا ہے جو اس نام سے موسوم ہوئے۔ ساتھ ہی لکھا ہے کہ ایک چوتھا بچہ بھی تھا لیکن مجھے وہ یاد نہیں رہا۔ ابن فورک کا یہ قول نقل کرنے کے بعد علامہ ابن سید الناس نے چھ ایسے بچوں کے نام گنوائے ہیں جو اس نام سے موسوم ہوئے اور وہ یہ ہیں: ۔
1) محمد بن اوحیحہ بن الجلاح الاوسی
2) محمد بن مسلمہ انصاری
3) محمد بن براء البکری
4) محمد بن سفیان بن مجاشع
5) محمد بن حمران الجعفی
6) محمد بن خزاعی السلمی
(عیون الاثر، جلد اول، صفحہ31)
لیکن ان میں سے کسی نے اپنے لئے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کسی اور شخص نے ان میں سے کسی شخص کو نبی مانا اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریمﷺ کے دعوی نبوت کو ہر قسم کے التباس سے محفوظ رکھا تا کہ کوئی شخص اپنی سادہ لوحی سے کسی غیر نبی کو نبی سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر راہ حق سے بھٹک نہ جائے۔ حضور نبی کریمﷺ کے ویسے تو بے شمار اسماء گرامی ہیں جو حضورﷺ کی مختلف شانوں اور صفات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن پانچ نام ایسے ہیں جن کو سرکار دو عالمﷺ نے خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے۔
“قَالَ قَالَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ اِنَّ لِيۡ اَسْمَآءٌ اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِيْ اَلَّذِيۡ يَمۡحُوا اللَّهُ بِيَ الۡكُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيۡ يَحْشُرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمِيۡ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِيۡ لَيْسَ بَعْدِيۡ نَبِيٌّ”
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹا دے گا، میں حاشر ہوں یعنی لوگ حشر کے دن میرے قدموں پر جمع ہوں گے، میں عاقب ہوں یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
(عیون الاثر، لابن سید الناس، جلد اول، صفحہ31)
امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے اس کو صحیح کہا ہے۔ امام بخاری، مسلم اور نسائی رحمۃ اللہ علیہم نے حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲