Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹


عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر128(مولد مقدس و شکر خداوندی)


مولد مقدس (وہ مقدس مکان جہان ولادت النبیﷺ ہوئی): فرش زمین کا وہ مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے محبوب کریمﷺ کے پائے ناز کو سب سے پہلے بوسہ دے کر عرش پایہ بنا وہ پہلے حضرت عقیل بن ابی طالب اور ان کی اولاد کی ملکیت میں رہا۔ پھر حجاج کے بھائی محمد بن یوسف ثقفی نے ایک لاکھ دینار قیمت ادا کر کے اسے خرید لیا اور اس جگہ کو اپنے مکان کا حصہ بنا لیا۔ کیونکہ یہ مکان سفید چونے سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس پر پلستر بھی سفید چونے کا تھا اس لئے اسے ” البیضاء ” کہا جاتا تھا۔ یہ عرصہ تک دار ابن یوسف کے طور پر مشہور رہا۔ ہارون الرشید کے عہد خلافت میں اس کی نیک بخت اور فیض رساں رفیقہ حیات زبیده خاتون فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ حاضر ہوئی تو اس نے یہ مکان حاصل کر کے گرا دیا اور اس جگہ مسجد تعمیر کر دی۔ ابن دحیہ کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کی والدہ خیزران جب حج کے لئے آئی تو اس نے ابن یوسف کے مکان سے وہ حصہ نکال لیا جو سرور عالمﷺکا مولد مبارک تھا اور وہاں مسجد تعمیر کر دی۔ عین ممکن ہے کہ پہلے وہاں مسجد تعمیر کرنے کا شرف خیزران نے حاصل کیا ہو۔ پھر زبیدہ خاتون مکہ مکرمہ آئی ہو تو اس نے اس مسجد کو از سر نو شایان شان طریقہ پر تعمیر کیا ہو۔
(السيرة الحلبیہ، جلد اول، صفحہ 60 – 59)

علامہ ابو القاسم السہیلی نے” الروض الانف” میں صرف یہ قول لکھا ہے۔
“ثُمَّ بَنَتۡهَا رُبَيۡدَةُ مَسْجِدًا حِيۡنَ حَجَّتْ”
ترجمہ: یعنی جب زبیدہ خاتون حج کے لئے حاضر ہوئیں تو انہوں نے اس جگہ مسجد تعمیر کرا دی۔
(الروض الانف، جلد اول، صفحہ184)

شیخ ابراہیم عرجون لکھتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں حضورﷺ کا مقام ولادت مشہور و معروف ہے مرور زمانہ سے اس پر کئی تبدیلیاں آئیں ہمارے زمانہ میں اسے دارالحدیث بنا دیا گیا۔ 71- 1370ھ میں جب میں مکہ مکرمہ حاضر ہوا تو میں نے وہاں دارالحدیث کی عمارت کی بنیادیں دیکھیں جو تعمیر ہو رہی تھیں۔
(محمد رسول الله لابراہیم عرجون، جلد اول، صفحہ102)

آج کل1408ھ میں وہاں ایک مکتبہ بنا دیا گیا ہے جو مقررہ وقت پر کھلتا ہے اور عام طور پر مقفل رہتا ہے۔

نعمت خدا وندی کا شکر بجا لانا: قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات پر اس کا شکر ادا کیا کرو، ارشاد خداوندی ہے۔
فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿114﴾
ترجمہ: پس کھاؤ اس سے جو رزق دیا تمہیں اللہ تعالیٰ نے جو حلال اور طیب ہے اور شکر کرو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا۔ اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔
( سورة النحل،آیۃ:114)

فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ الرِّزۡقَ وَ اعۡبُدُوۡہُ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿17﴾
ترجمہ: پس طلب کیا کرو اللہ تعالیٰ سے رزق کو اور اس کی عبادت کیا کرو اور اس کا شکر ادا کیا کرو ،تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
( سورة العنكبوت،آیۃ :17)

اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو بھی مختلف دلنشین اسالیب سے بیان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ ان میں اور اضافہ کر دے گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو اس کے شدید عذاب میں مبتلا کر دیئے جاؤ گے۔
ارشاد خداوندی ہے۔
وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿7﴾
ترجمہ: اور یاد کرو جب ( تمہیں ) مطلع فرمایا تمہارے رب نے ( اس حقیقت سے ) کہ اگر تم پہلے احسانات پر شکر ادا کرو گے تو ہم مزید اضافہ کر دیں گے اور اگر تم نے ناشکری کی تو ( جان لو ) یقینا ہمارا عذاب شدید ہے۔
(سورۃ ابراہیم،آیۃ :7)

المختصر بے شمار آیات ہیں جن میں انعامات الہٰی پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کثیر التعداد آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بار بار جھنجھوڑ کر یہ بتایا ہے کہ اگر تم ان نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو ان میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا اور جو کفران نعمت کے مرتکب ہوں گے، اُن کو ان نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا اور عذاب الیم کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا۔

پانی ، ہوا ، روشنی، کان، آنکھیں ، دل، صحت، شباب اور خوشحالی وغیرہ۔ یہ سب خداوند ذو الجلال کی نعمتیں ہیں اور ان پر شکر کرنا واجب ہے۔ جب ان فنا ہونے والی نعمتوں پر شکر ادا کرنا لازمی ہے تو خود بتائیے اس رحمت مجسم ہادی اعظم محسن کائناتﷺ کی تشریف آوری اور بعثت پر شکر ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ کیا اس احسان سے کوئی اور احسان بڑا ہے اس نعمت سے کوئی اور نعمت عظیم ہے۔ جس ذات والا صفات نے بندے کا ٹوٹا ہوا رشتہ اپنے خالق حقیقی کے ساتھ استوار کر دیا۔ جس نے انسانیت کے بخت خوابیدہ کو بیدار کر دیا ۔جس نے اولاد آدم کے بگڑے ہوئے مقدر کو سنوار دیا جو کسی خاندان، قبیلے قوم ، ملک اور زمانہ کے لئے رحمت بن کر نہیں آیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق کے لئے ابر رحمت بن کر برسا جس کی فیض رسانی زمان و مکان کی قیود سے آشنا نہیں جو ہر تشنہ لب کو معرفت الہٰی کے آب زلال سے سیراب کرنے کے لئے تشریف لایا۔ ہر گم کردہ راہ کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے آیا۔ ہر کَہْ و مِہ (خاص و عام) کے لئے جس نے حریم قرب الہٰی کے دروازے کھول دیئے۔ کیا اس نعمت عظمیٰ اور ابدی احسان پر شکر ادا کرنا ہم پر فرض نہیں۔ کیا خداوند کریم کے اس لطف بے پایاں پر اس کا شکر ادا کر کے اس کے وعدہ کے مطابق ہم اس کی مزید نعمتوں کے مستحق قرار نہیں پائیں گے اور جو اس جلیل القدر انعام پر سپاس گزار نہ ہو گا۔ وہ غضب و عتاب الہیٰ کی وعید کا ہدف نہیں بنے گا۔؟
سرور کائنات، فخر موجوداتﷺکی آمد، وہ عظیم المرتبت انعام ہے جس کو منعم حقیقی نے اپنی قدرت کی زبان سے خصوصی طور پر علیحدہ ذکر کیا ہے۔
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿164﴾
ترجمہ: بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول (ﷺ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
( سورۃ آل عمران،آیۃ:164)

اس انعام کی خصوصی شان یہ ہے کہ دیگر انعامات اپنوں اور بیگانوں ، خاص اور عام ، مومن اور کافر سب کے لئے ہیں ۔ اور اس لطف و کرم سے صرف اہل ایمان کو سرفراز فرمایا۔ غلامان مصطفیٰﷺ ہر زمانہ میں اپنے رب کریم کی اس نعمت کبریٰ کا شکر ادا کرتے آئے ہیں۔ زمانے کے تقاضے کے اعتبار سے شکر کے انداز تو مختلف تھے لیکن جذبہ تشکر ہر عمل کا روح رواں رہا۔ اور جو خوش بخت اس نعمت کی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں وہ تا ابد اپنی فہم اور استعداد کے مطابق اپنے رحیم و کریم پروردگار کا شکر ادا کرتے رہیں گے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ جب کسی کو کسی انعام سے بہرہ ور کیا جاتا ہے تو اس کا دل مسرت و انبساط کے جذبات سے معمور ہو جاتا ہے۔ اس کی نگاہ میں اس نعمت کی جتنی قدر و قیمت اور اہمیت ہو گی ۔ اسی نسبت سے اس کی مسرت و انبساط کی کیفیت ہو گی ۔ لیکن جس چیز کے ملنے پر خوشی کے جذبات میں تلاطم پیدا نہیں ہوتا تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی اس شخص کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ اگر یہ چیز اسے نہ ملتی تب بھی اسے افسوس نہ ہوتا۔ مل گئی ہے تو اسے کوئی خوشی نہیں شمع جمال مصطفویﷺ کے پروانے ایسے قدر ناشناس نہیں۔ نبوت کا ماہِ تمام طلوع ہوا تو ان کی زندگی کے آنگن میں مسرتوں اور شادمانیوں کی چاندنی چٹکنے لگی ان کے دلوں کے غنچے کھل کر شگفتہ پھول بن گئے وہ یہ جانتے ہوئے اور تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ اس احسان عظیم پر شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے پھر بھی وہ اپنی سمجھ کے مطابق بار گاہ رب العزت میں سجدہ شکر میں گر گئے اس کی حمد و ثنا کے گیت گانے لگے اور اس کے محبوب کریمﷺ کے حسن سرمدی پر اپنے دل و جان کو وار کرنے لگے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top