Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر124 طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ: (حصہ دوم )
(ولادت سرور عالمﷺ : حصہ دوم)

حضرت آمنہ فرماتی ہیں کہ جب آپﷺ کی ولادت ہوئی تو آپﷺ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے۔ اور آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپﷺ کی ناف پہلے ہی کٹی ہوئی تھی۔ وہب بن زمعہ کی پھوپھی کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ نے حضرت عبدالمطلب کو اطلاع دینے کے لئے آدمی بھیجا جب وہ خوشخبری سنانے والا پہنچا اس وقت آپ حطیم میں اپنے بیٹوں اور اپنی قوم کے مردوں کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کو اطلاع دی گئی کہ حضرت آمنہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے تو آپ کی خوشی و مسرت کی حد نہ رہی۔ آپ حضرت آمنہ کے پاس آئے حضرت آمنہ نے ولادت کے وقت جو انوار و تجلیات دیکھی تھیں اور جو آوازیں سنی تھیں ان کے بارے میں عرض کی۔ حضرت عبدالمطلب حضورﷺ کو لے کر کعبہ شریف میں گئے وہاں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائیں کیں اور جو انعام اس نے فرمایا تھا اس کا شکریہ ادا کیا ابن واقد کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت عبدالمطلب کی زبان پر فی البدیہہ یہ اشعار جاری ہو گئے۔
“اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِيْ اَعْطَانِيْ هٰذَا الْغُلَامَ الطَّيِّبَ الْاَرْدَانِ”
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے مجھے پاک آستینوں والا یہ بچہ عطا فرمایا۔
“قَدْ سَادَ فِي الْمَهْدِ عَلَى الْغِلْمَانِ اُعِيْذُهٗ بِالْبَيْتِ ذِي الْاَرْكَانِ”
یہ اپنے پنگھوڑے میں سارے بچوں کا سردار ہے میں اسے بیت اللہ شریف کی پناہ میں دیتا ہوں ۔
“حَتّٰى اَرَاهُ بَالِغَ الْبُنْيَانِ اُعِيْذُهٗ مِنْ شَرِّ ذِىْ شَنْاٰنِ مِنْ حَاسِدٍ مُضْطَرِبِ الْعَيَانِ”
یہاں تک کہ میں اس کو طاقتور اور توانا دیکھوں میں اس کو ہر دشمن اور ہر حاسد ۔ آنکھوں کے گھمانے والے کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب پیدا ہوئے تو آپﷺ مختون (ختنہ شدہ) تھے اور ناف کٹی ہوئی تھی۔ یہ معلوم کر کے آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کو بڑا تعجب ہوا اور فرمایا، “لَيَكُوْنَنَّ لِاِبْنِیْ شَاْنٌ” کہ میرے اس بچے کی بہت بڑی شان ہو گی۔ شاعر دربار رسالتﷺ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی نے طویل عمر عطا فرمائی ساٹھ سال آپ نے جہالت میں گزارے اور ساٹھ سال بحیثیت ایک سچے مومن کے آپ کو زندگی گزارنے کی مہلت دی گئی۔ آپ فرماتے ہیں:۔ میری عمر ابھی سات آٹھ سال تھی مجھ میں اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ جو میں دیکھتا اور سنتا تھا وہ مجھے یاد رہتا تھا۔ ایک دن علی الصبح ایک اونچے ٹیلے پر یثرب میں ایک یہودی کو میں نے چیختے چلاتے ہوئے دیکھا وہ یہ اعلان کر رہا تھا۔
“يَا مَعْشَرَ يَهُوْدِِ فَاجْتَمِعُوْا اِلَيْهِ” اے گروہ یہود سب میرے پاس اکٹھے ہو جاؤ۔

وہ اس کا اعلان سن کر بھاگتے ہوئے اس کے پاس جمع ہو گئے اور اس سے پوچھا بتاؤ کیا بات ہے اس نے کہا۔
“طَلَعَ نَجْمُ اَحْمَدَ الَّذِيْ وُلِدَ بِهٖ فِيْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ اَيْ الَّذِيْ طُلُوْعُهٗ عَلَامَةٌ عَلٰى وِلَادَتِهٖ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فِيْ بَعْضِ الْكُتُبِ الْقَدِيْمَةِ”
اس نے کہا کہ وہ ستارہ طلوع ہو گیا ہے جس نے اس شب کو طلوع ہونا تھا جو بعض کتب قدیمہ کے مطابق احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ولادت کی رات ہے۔

کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی کریمﷺ کی ولادت کے وقت سے آگاہ کیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو وہ نشانی بتا دی تھی آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہ ستارہ جو تمہارے نزدیک فلاں ، فلاں نام سے مشہور ہے جب اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ وقت محمد مصطفیٰﷺ کی ولادت کا ہو گا اور یہ بات بنی اسرائیل میں ایسی عام تھی کہ علماء ایک دوسرے کو بتاتے تھے اور اپنی آنے والی نسل کو اس سے خبردار کرتے تھے۔
(السيرة النبویۃ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول ،صفحہ 48)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ ان لوگوں سے روایت کرتی ہیں جو ولادت با سعادت کے وقت موجود تھے آپ نے کہا۔ مکہ میں ایک یہودی سکونت پذیر تھا جب وہ رات آئی جس میں اللہ کے پیارے رسولﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی تو اس یہودی نے قریش کی ایک محفل میں جا کر پوچھا کہ اے قریش ! کیا آج رات تمہارے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے قوم نے اپنی بے خبری کا اظہار کیا اس یہودی نے کہا کہ میری بات خوب یاد کر لو اس رات اس آخری امت کا نبیﷺ پیدا ہوا ہے اور اے قریشیو ! وہ تمہارے قبیلہ میں سے ہو گا اور اس کے کندھے پر ایک جگہ بالوں کا گچھا ہو گا لوگ یہ بات سن کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ہر شخص نے اپنے گھر والوں سے پوچھا انہیں بتایا گیا کہ آج رات عبد الله بن عبد المطلب کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کو محمدﷺ کے با برکت نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہودی کو آ کر بتایا اس نے کہا مجھے لے چلو اور مجھے وہ مولود دکھاؤ چنانچہ وہ اسے لے کر حضرت آمنہ کے گھر آئے انہوں نے حضرت آمنہ کو کہا کہ ہمیں اپنا فرزند دکھاؤ۔ وہ بچے کو اٹھا کر ان کے پاس لے آئیں انہوں نے اس بچے کی پشت سے کپڑا ہٹایا وہ یہودی بالوں کے اس گچھے کو دیکھ کر غش کھا کر گر پڑا جب اسے ہوش آیا تو لوگوں نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا تھا تو اس نے بصد حسرت کہا کہ بنی اسرائیل سے نبوت ختم ہو گئی۔ اے قبیلہ قریش ! تم خوشیاں مناؤ اس مولود مسعود کی برکت سے مشرق و مغرب میں تمہاری عظمت کا ڈنکا بجے گا۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 48)

اس قسم کی بے شمار روایات ہیں جن میں علماء اہل کتاب نے نبی کریمﷺ کی ولادت با سعادت کی خوشخبریاں دی ہیں۔ حضرت عبد المطلب فرماتے ہیں۔ میں اس رات کعبہ میں تھا۔ میں نے بتوں کو دیکھا کہ سب بت اپنی اپنی جگہ سے سر بسجود سر کے بل گر پڑے ہیں اور دیوار کعبہ سے یہ آواز آ رہی ہے۔
“وُلِدَ الْمُصْطَفٰى وَالْمُخْتَارُ الَّذِيْ تَهْلِكُ بِيَدِهِ الْكُفَّارُ وَيَطْهُرُ مِنْ عِبَادَةِ الْاَصْنَامِ وَ يَاْمُرُ بِعِبَادَةِ الْمَلِكِ الْعَلَّامِ”
مصطفیٰ اور مختار پیدا ہوا۔ اس کے ہاتھ سے کفار ہلاک ہوں گے۔ اور کعبہ بتوں کی عبادت سے پاک ہو گا اور وہ اللہ کی عبادت کا حکم دے گا جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top