Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر120 زم زم کی کھدائی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے: حضرت اسماعیل علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے، ان کی نسل اس قدر ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی، ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے، عدنان کے بیٹے مَعد اور پوتے کا نام نَزَار تھا۔ نَزَار کے چار بیٹے تھے، ان میں سے ایک کا نام مُضَر تھا، مُضَر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے۔ یہ فِہر بن مالک بھی کہلائے، قریش کی اولاد بہت ہوئی، ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی ان کی اولاد سے قُصَّی نے اقتدار حاصل کیا قصی کے آگے تین بیٹے ہوئے ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے۔ ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی، ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اس کا نام شیبہ رکھا گیا یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بھائی مُطَّلِب مکہ کے حاکم ہوئے، ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا رہا۔ جب حضرت مطلب کو معلوم ہو گیا کہ وہ جوان ہو گیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے، اسے لیکر مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا یہ نوجوان ان کا غلام ہے۔ حضرت مطلب نے لوگوں کو بتایا یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں نے اسے عبد المطلب کہنا شروع کر دیا، کیونکہ عبد کا معنی غلام ہوتا ہے۔ اس طرح شیبہ کو عبد المطلب کہا جانے لگا (یعنی مطلب کا غلام)۔ انہی عبد المطلب کے یہاں حضرت ابو طالب، حضرت حمزہ، حضرت عباس، حضرت عبدالله، ابو لہب، حارث، زبیر، ضرار، اور عبدالرحمن پیدا ہوئے، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمدﷺ پیدا ہوئے۔

حضرت عبد المطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبد اللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے۔ حضرت عبد المطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا۔ یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو، اس کنویں کو قبیلہ جُرہَم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا۔ قبیلہ جُرہَم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے۔ بیت اللہ کے نگراں تھے، انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کر دی، ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا وہ اچھا آدمی تھا اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا۔ جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانہ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا۔ کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہو چکا تھا۔ اب اس کا نام و نشان مٹ گیا، مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خُزَاعَہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا۔ بنو خُزَاعَہ اور قُصَّی کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا۔ کنواں بند رہا یہاں تک کے قُصَّی کے بعد عبد المطلب کا زمانہ آ گیا۔ انہوں نے خواب دیکھا، خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضر ت عبد المطلب نے بتایا: میں حجر اسود کے مقام پر سو رہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا، اس نے مجھ سے کہا “طَیَّبہ” کو کھودو” میں نے اس سے پوچھا “طَیّبہ” کیا ہے؟ مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلا گیا، دوسری رات پھر خواب میں وہی شخص آیا کہنے لگا “بَرَّہ” کو کھودو” میں نے پوچھا بَرَّہ کیا ہے؟ وہ کچھ بتائے بغیر چلے گیا، تیسری رات میں اپنے بستر پر سو رہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا، اُس نے کہا “مَضْنُونَہ کھودو” میں پوچھا “مَضْنُونہَ” کیا ہے؟ وہ بتائے بغیر چلا گیا۔ اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سو رہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا “زم زم کھودو” میں نے اس سے پوچھا “زم زم” کیا ہے؟ اس بار اس نے کہا: “زمزم زمزم” وہ ہے۔ جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا، جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجمعے کو سیراب کرتا ہے۔ عبد المطلب کہتے ہیں، میں نے اس سے پوچھا “یہ کنواں کس جگہ ہے؟ اس نے بتایا، جہاں گندگی اور خون پڑا ہے اور کوا ٹھونگیں مار رہا ہے۔

دوسرے دن حضرت عبد المطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا، انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوا ٹھونگیں مار رہا تھا۔ اس جگہ کے دونوں طرف بت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کیے جانے والے جانوروں کا تھا، پوری نشانی مل گئی تو حضرت عبد المطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئے تیار ہو گئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے تم ہمارے ان دونوں بتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئیے قربانیاں کرتے ہیں۔

عبد المطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا: تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو، میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے، آخر انھوں نے کھدائی شروع کر دی، جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے، یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے “یہ دیکھو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے” جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کر لیا تو ان کے پاس آ گئے اور کہنے لگے، اے عبد المطلب! اللہ کی قسم یہ ہمارے والد حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے۔ اس لیے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے، یہ سن کر حضرت عبد المطلب نے کہا: میں تمہیں اس میں شریک نہیں کر سکتا یہ مجھ اکیلے کا کام ہے۔ اس پر قریش نے کہا: تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے ۔حضرت عبد المطلب بولے: کسی سے فیصلہ کروا لو انہوں نے بنو سعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا، یہ کاہِنہ(مستقبل کی بات کرنے والی عورت) ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی۔ آخر حضر ت عبد المطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے، حضرت عبد المطلب کے ساتھ عبد مناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی، جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی، اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا، وہاں کہیں پانی نہیں تھا، اس میدان میں ان کا پانی ختم ہو گیا، سب لوگ پیاس سے بے حال ہو گئے، یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہو گیا، انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کر دیا، اب انہوں نے اِدھر اُدھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت عبد المطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے، ان کی سواری اٹھی تو اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا، انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر حضرت عبد المطلب سواری سے اتر آئے۔ سب نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھر لیے، اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا: آؤ تم بھی سیر ہو کر پانی پی لو اب وہ بھی آ گئے اور خوب پانی پیا، پانی پینے کے بعد وہ بولے: اللہ کی قسم اے عبد المطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہو گیا، اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے جھگڑا نہیں کریں گے جس ذات نے تمہیں اس بیاباں نے میں سیراب کر دیا، وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو۔

اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عبد المطلب پر مہربان ہے، لہذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے۔ واپس آ کر حضرت عبد المطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں۔ اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھا، یہ مال و دولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آ گھیرا انہوں نے حضرت عبد المطلب سے کہا: اے عبد المطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ ان کی بات سن کر حضرت عبد المطلب نے کہا: نہیں ! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں۔ انہوں نے ایسا کرنا منظور کر لیا، دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے، دو عبد المطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے۔ پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں حضرت عبد المطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے، اس طرح فیصلہ ہو گیا۔ حضرت عبد المطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا۔ زمزم کی کھدائی سے پہلے حضرت عبد المطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کر دے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا، اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا۔ اپنی منت پوری کرو یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top