Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر119بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ:ایک سوسولہ آخری حصہ )
{جزیرہ عرب : حصہ چالیسواں آخری حصہ}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ ششم آخری حصہ)
(بچیوں کو زندہ درگور کرنا)

ایک انتہائی ظالمانہ اور سنگدلانہ رسم جو ان میں مروج تھی اور جس کو باعث عزت و شرف سمجھا جاتا تھا وہ “وَأْدُ الۡبَنَاتِ” کی رسم تھی یعنی جب کسی کے ہاں بچی پیدا ہوتی تو ان کے ہاں صف ماتم بچھ جاتی اور جب وہ چند سال کی ہو جاتی تو باپ اس کو بہترین کپڑے پہناتا مزین و آراستہ کر کے جنگل میں لے جاتا۔ اپنے ہاتھوں سے ایک گہرا گڑھا کھودتا پھر اس میں دھکا دے کر اس بچی کو پھینک دیتا اور اس پر مٹی ڈال کر اس گڑھے کو بھر دیتا۔ وہ بیچاری چیختی چلاتی رہ جاتی لیکن اس سنگدل باپ پر ذرا اثر نہ ہوتا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی یہ قبیح رسم تقریباً عرب کے تمام قبائل میں کم و بیش رائج تھی۔ لیکن بنو تمیم میں اس کا رواج بہت زیادہ تھا۔ اس رسم کی وجوہات مختلف لوگوں نے مختلف بیان کی ہیں بنو تمیم، کندہ اور چند دوسرے قبائل تو اس وجہ سے بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے کہ مبادا ان کی کسی نازیبا حرکت کی وجہ سے ان کا خاندان بدنام ہو۔ المبدانی نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ بنو تمیم پر حیرہ کے بادشاہ نے ٹیکس لگایا ہوا تھا لیکن انہوں نے اس کو ادا کرنے سے انکار کر دیا حیرہ کے بادشاہ نعمان نے اپنے بھائی ریان کو بھیجا اور اس کے ساتھ ایک خاص فوجی دستہ بھی روانہ کیا جسے “دوسر” کہا جاتا۔ ان میں سپاہیوں کی اکثریت بکر بن وائل قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اس نے بنی تمیم پر حملہ کیا ان کے مویشیوں کو پکڑ لیا اور ان کی اولاد کو جنگی قیدی بنا کر حیرہ لے آئے بنو تمیم نے نعمان بن منذر کی خدمت میں ایک وفد روانہ کیا تا کہ اپنے جنگی قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے اس سے مذاکرات کرے۔

نعمان نے فیصلہ کیا کہ عورتوں کے معاملہ میں ہم عورتوں کو اختیار دیتے ہیں وہ چاہیں تو اپنے سابقہ خاوندوں کے پاس لوٹ آئیں اور چاہیں تو جن سپاہوں میں ان کو تقسیم کیا گیا ہے ان کے پاس رہیں ان میں سے ایک عورت قیس بن عاصم کی بیٹی تھی اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے اپنے پہلے خاوند کے پاس جانے سے انکار کر دیا کہ وہ اپنے موجودہ شوہر کے پاس رہے گی اس وقت قیس بن عاصم نے نذر مانی کہ اگر اس کے ہاں اب کوئی بچی پیدا ہوئی تو وہ اس کو زمین میں زندہ دفن کر دے گا۔ اس کے ہاں بارہ تیرہ لڑکیاں پیدا ہوئیں اس نے اپنی نذر کے مطابق ان سب کو زندہ درگور کر دیا۔ اسی قسم کا واقعہ بنی ربیعہ میں بھی پیش آیا اس کے سردار کی بیٹی نے اپنے باپ کے پاس آنے کی بجائے اپنے فاتح کے پاس رہنے کو پسند کیا اس طرح اس قبیلہ میں بھی واد البنات کا رواج جڑ پکڑ گیا وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کی بیویاں یا ان کی بیٹیاں کوئی ایسی حرکت کریں جس سے ان کے خاندان کی عزت و ناموس داغدار ہو جائے اور یہ کلنک کا ٹیکہ سارے عرب میں ان کو ذلیل و رسوا کرنے کا باعث بنے۔ یہی جذبہ غیرت تھا جس نے اس ظلم کو صحرائے عرب کے قبائل میں پذیرائی بخشی اور لوگ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زندہ درگور کرتے اور اسے اپنے لئے فخر و مباہات کا باعث سمجھنے لگے۔

“وَاْدُٗ” کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی شخص کے ہاں بچی پیدا ہوتی اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہتا تو وہ اسے اون یا بالوں کا بنا ہوا جبہ پہناتا۔ وہ سارا دن عرب کی چلچلاتی دھوپ اور تپتے ہوئے ریگزاروں میں اونٹ یا بکریاں چراتی ۔ اس کو اچھے کپڑے پہننے کی آرام کی زندگی بسر کرنے کی ہر گز اجازت نہ دی جاتی اور جس بچی کو قتل کرنا چاہتا اس کو بڑے ناز و نعم سے پالا جاتا جب وہ چھ سات سال کی عمر کو پہنچتی تو اس کا باپ پہلے جنگل میں چلا جاتا وہاں ایک گہرا کنواں کھودتا واپس آ کر اپنی بیوی کو کہتا کہ بچی کو خوب آراستہ پیراستہ کرو اس کو خوشبو لگاؤ تاکہ میں اسے اس کے ننھال لے جاؤں ۔ اس بہانے سے وہ اسے اس کنوئیں کے پاس لے آتا جو صحرا کے کسی گوشہ میں اس نے کھود رکھا ہوتا۔ جب وہاں پہنچتا تو بچی کو کہتا کہ اس کنویں میں دیکھو کیا ہے جب وہ جھک کر دیکھنے لگتی تو پیچھے سے دھکا دے کر وہ اسے اس کنویں میں گرا دیتا اور مٹی ڈال کر کنوئیں کو زمین کے برابر کر دیتا۔ بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر کسی بچی کی آنکھیں نیلی ہوتیں یا اس کا رنگ سیاہ ہوتا یا اس پر برص کے سفید داغ ہوتے یا وہ لنگڑی ہوتی تو ایسی بچیوں کو بھی وہ کنواں کھود کر اس میں پھینک دیتے اور مٹی ڈال کر اس کو جیتے جی موت کے آغوش میں سلا دیا جاتا کتب تاریخ میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ سوداء بنت زہرہ بن کلاب جب پیدا ہوئی تو اس کی آنکھیں نیلی اور چہرے کی رنگت سیاہ تھی اس نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس کو کہیں گڑھا کھود کر زندہ دفن کر دے ۔ وہ اسے العجون کی وادی میں لے گیا، جب اس کے باپ گڑھا کھودا اور اس کو اس میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے ایک ہاتف کی یہ آواز سنی: “لَا تَئِدِ الصَّبِيَّۃَ وَخَلِّهَا الۡبَرِيَّةَ” ترجمہ: یعنی اس بچی کو زندہ دفن مت کرو اور اس کو کھلے میدان میں چھوڑ دو۔ اس شخص نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کوئی آدمی نظر نہ آیا اس نے اس کو دفن کرنے کا پھر ارادہ کیا دوبارا ہاتف کی یہی آواز سنائی دی وہ اسے لے کر اسکے باپ کے پاس آیا جو اس نے سنا تھا وہ اسے بتایا اس کے باپ نے کہا یقینا آئندہ چل کر اس کی بڑی شان ہو گی اس لئے اس نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا آگے چل کر وہ قریش کی کاہنہ بنی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top