(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ پنجم)
(اہل عرب میں شادی بیاہ کے مروّج طریقے)
شریف قبائل میں تو شادی بیاہ کا یہی طریقہ تھا جس کو اسلام نے بھی جائز قرار دیا کہ لڑکے کے ورثاء لڑکی کے والدین کے پاس جاتے اور ان سے رشتہ کی درخواست کرتے اور اگر وہ ان کی اس درخواست کو قبول کرتے تو لڑکے کے رشتہ دار از حد ممنون شکر گزار ہوتے۔ لڑکی کا مہر مقرر کیا جاتا مجلس نکاح منعقد ہوتی اور لڑکی کے والدین نیک تمناؤں کے ساتھ اپنی لڑکی کو رخصت کرتے۔لیکن اس نکاح کے علاوہ رشتہ زوجیت کے انعقاد کے اور بھی متعدد طریقے رائج تھے جن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کفر و شرک کی آلودگیوں نے ان کے جذبہ غیرت و حمیت کا کس طرح گلا گھونٹ دیا تھا۔ اور وہ لوگ کیونکر ایسی رسموں کو کھلے دل سے برداشت کرتے تھے نہ ان کا ضمیر ان کو اس بے غیرتی پر ملامت کرتا تھا اور نہ اس معاشرہ میں ان کے خلاف رد عمل کی کوئی لہر اٹھتی تھی۔ اس کی مختلف صورتیں تھیں۔
1) منکوحہ عورت جب ایام حیض سے فارغ ہوتی تو اس کا خاوند کسی شجاع یا سخی آدمی کی طرف اس کو بھیجتا اور اس کو اجازت دیتا کہ اس کے ساتھ ہم بستری کرے اور اس سے اس کا مقصد یہ ہوتا کہ ایک نامور آدمی کے نطفہ سے اس کی بیوی کے شکم سے جو بچہ پیدا ہو گا وہ بھی نامور ہو گا اور اس کو ایک نامور بیٹے کا باپ بننے کا اعزاز حاصل ہو جائے گا۔
2) ایک طریقہ یہ تھا کہ آٹھ نو آدمی ایک عورت کے پاس اکٹھے ہوتے اور اس کی رضا سے اس کے ساتھ مقاربت کرتے اگر اس سے حمل ٹھہر جاتا تو جب بچہ پیدا ہوتا تو چند روز بعد اُن ہی آٹھ نو آدمیوں کو وہ بلاوا بھیجتی ان میں سے کسی کی مجال نہ ہوتی کہ وہ آنے سے انکار کرے جب وہ اس کے پاس اکٹھے ہو جاتے تو وہ کہتی کہ جو کچھ تم نے کیا اسے تم جانتے ہی ہو۔ اس فعل سے میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے پھر ان میں سے جس کا نام چاہتی لے کر کہتی کہ یہ تیرا بچہ ہے اس آدمی کی مجال نہ ہوتی کہ وہ انکار کرے اس بچے کو اس آدمی کی نسل سے ملحق کر دیا جاتا یہ اس وقت ہوتا جب پیدا ہونے والا بیٹا ہوتا اور اگر بیٹی پیدا ہوتی تو پھر وہ نہ ان کو بلاتی نہ کسی کی طرف اس کی نسبت کرتی کیونکہ اسے علم ہو تا کہ اہل عرب بچیوں کو از حد نا پسند کرتے ہیں اور بعض اپنی جائز بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے باز نہیں آتے۔ ایسے معاشرہ میں ایک ناجائز بچی کا بوجھ اٹھانے کے لئے کون تیار ہو گا اس لئے وہ خاموش رہتی۔
3) ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ بدکار عورتیں اپنے مکانوں کے اوپر جھنڈے لہراتیں ۔ ہر شخص کے لئے روز و شب ان کے دروازے کھلے رہتے اور بدکاری کا کاروبار جاری رہتا۔ اگر کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پھر قیافہ شناس کو بلایا جاتا اور جس کی طرف وہ اس کے نسب کی نسبت کر دیتا اس کا وہ فرزند قرار پاتا۔عصمت فروشی کا کاروبار کرنے والی یہ عورتیں نہ قبیلہ قریش سے تھیں اور نہ کسی خالص عربی النسل قبیلہ سے بلکہ عام طور پر وہ لونڈیاں ہوتیں جن کو خرید کر ان کے مالک ان سے یہ بد کاری کراتے تھے۔
4) پوشیدہ نکاح: ایسی بدکاری جو لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو وہ بری نہیں سمجھی جاتی تھی لیکن ایسی بدکاری جس کا عام چرچا ہو اور کھلم کھلا ہو اس کو عیب اور کمینگی سمجھا جاتا تھا۔
5) نکاح متعہ: اس کا بھی عام رواج تھا اس میں گواہوں کے بغیر عورت اور مرد مقررہ وقت کے لئے معینہ مال کے عوض بیاہ کر لیتے تھے اور میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے تھے۔
6) نکاح بدل: ان کے ہاں ازدواج کا یہ حیا سوز طریقہ بھی تھا کہ دو مرد آپس میں یہ طے کر لیتے ایک شخص دوسرے کو کہتا کہ تو اپنی عورت کو میرے پاس بھیج دے میں اپنی بیوی کو تمہارے پاس بھیج دوں گا۔
7) نکاح شغار: ایک آدمی اپنی لڑکی کا بیاہ کسی مرد کے ساتھ کر دیتا اس شرط پر کہ وہ مرد اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے دیگا اور دونوں اپنی بیویوں کو مہر وغیرہ ادا نہیں کریں۔
یہ چند وہ طریقے تھے جو ان میں مروج تھے اور جس پر کسی کو کوئی بھی متہم نہیں کرتا تھا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲