Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر116بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سوتیرہ)
{جزیرہ عرب : حصہ سنتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ سوم)
(مقتول کی دیت و معاقرہ)

مقتول کی دیت: ان کے ہاں مقتول کی دیت عام طور پر ایک سو اونٹ ہوا کرتی۔ قاتل پوری دیت کو ساتھ لے کر اور اپنے قوم کے معززین کی جماعت کی ہمراہی میں مقتول کے وارثوں کے پاس جاتا اور ان سے دیت قبول کرنے اور قتل معاف کرنے کی درخواست کرتا اگر مقتول کے ورثاء طاقتور ہوتے تو دیت کو مسترد کر دیتے اور قصاص لینے پر اصرار کرتے اور اگر وہ اتنے طاقتور نہ ہوتے کہ قاتل کے قبیلہ کا مقابلہ کر سکیں تو پھر اپنا پردہ رکھنے کے لئے وہ یہ کہتے کہ ہم خود تو اپنے مقتول کو ان سو اونٹوں کے بدلے میں فروخت نہیں کر سکتے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرما دے تو پھر ہم دیت لے لیں گے۔ اور قصاص سے دست کش ہو جائیں گے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی رائے معلوم کرنے کی صورت یہ تھی کہ کمان میں تیر رکھ کر آسمان کی طرف پھینکا جاتا اگر وہ خون سے آلودہ ہو کر واپس آتا۔ تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے دیت لینے کی اجازت نہیں دی بلکہ قصاص لینے کا حکم دیا ہے اس لئے ہم مجبور ہیں۔ اور اگر واپس آنے والا تیر خون سے آلودہ نہ ہوتا تو کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے دیت لینے کے بارے میں فیصلہ کر دیا یہ حیلہ محض عوام کو خاموش کرنے کے لئے کیا جاتا۔ ورنہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ تیر پھینکا گیا ہو ۔ اور وہ خون سے رنگین ہو کر واپس آیا ہو۔عام لوگوں کی دیت کے بارے میں تو یہ مقدار مقرر تھی۔ لیکن اگر مقتول کوئی بادشاہ یا رئیس قوم ہوتا تو اس کی دیت ایک سو اونٹ کے بجائے ایک ہزار اونٹ لی جاتی ۔ بادشاہ اور رئیس قبیلہ کو اس معاشرہ میں جو خصوصی امتیازات حاصل تھے ان میں سے یہ امتیاز بھی تھا اسلام نے شاہ و گدا کے درمیان اس باطل امتیاز کو بھی ختم کر دیا اور غریب و امیر سب کی دیت ایک سو اونٹ مقرر کر دی۔
(بلوغ الارب، جلد سوم ، صفحہ 22)

معاقرہ: ان میں ایک رسم یہ بھی تھی کہ دو آدمی باہمی مقابلہ کرتے ایک آدمی چند اونٹ ذبح کرتا دوسرا آدمی اس سے زیادہ اونٹ ذبح کر دیتا پھر پہلا آدمی اس سے بھی زیادہ ذبح کرتا دوسرا آدمی اونٹوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے انہیں کاٹ ڈالتا۔ جو آدمی اپنے مد مقابل سے زیادہ اونٹ ذبح کرنے سے عاجز آ جاتا۔ اسے شکست خوردہ تصور کیا جاتا۔ اور پہلے کو غالب اور فاتح شمار کیا جاتا۔ یہ ایک ایسی قبیح رسم تھی جس سے بلا ضرورت بے دریغ اونٹوں کو تلف کر دیا جاتا۔ اس میں اسراف بھی تھا اور جانوروں کا ضیاع بھی لیکن وہ لوگ عہد جاہلیت میں اس امر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لئے اپنے سینکڑوں اونٹ ضائع کر دیتے اور اس کو وجہ فخر و مباہات سمجھتے ۔اس قسم کا ایک واقعہ سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے زمانہ خلافت میں ہوا۔ کوفہ میں قحط پڑ گیا بہت سے لوگ کوفہ چھوڑ کر جنگلوں میں چلے گئے ۔ فرزدق جو ایک مشہور عربی شاعر گزرا ہے اس کا باپ غالب نامی اپنی قوم کا سردار تھا اس نے اپنی قوم کو سماوا ( ایک جگہ کا نام) میں جمع کیا جو بنی کلب قبیلہ کے علاقہ میں کوفہ سے ایک دن کی مسافت پر تھا غالب نے ایک اونٹنی ذبح کی اور اپنے قبیلہ کی ضیافت کی۔ کچھ گوشت بنی تمیم کی طرف بھیجا ایک بڑے برتن میں گوشت رکھ کر سحیم کی طرف بطور ہدیہ ارسال کیا جب غالب کا آدمی گوشت لے کر سحیم کے پاس پہنچا تو اس نے از راہ نخوت اس برتن کو اوندھا کر کے سارا گوشت زمین پر گرا دیا اور گوشت لانے والے کو دو چار طمانچے رسید کئے۔ اور کہا کیا میرے جیسا آدمی غالب کے طعام کا محتاج ہے پھر سحیم نے اپنی قوم کے لئے اونٹنی ذبح کی دوسرے روز غالب نے ایک کے بجائے دو اونٹنیاں ذبح کیں سحیم نے بھی دو اونٹنیاں ذبح کیں تیسرے دن غالب نے تین ذبح کیں سحیم نے بھی اس کے مقابلہ میں تین اونٹنیاں ذبح کر ڈالیں چوتھے روز غالب نے ایک سو اونٹنیاں ذبح کر دیں اب سحیم کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ جب قحط سالی کا زمانہ ختم ہو گیا لوگ کوفہ میں اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے تو سحیم کے قبیلہ بنو ریاح نے اسے ملامت کرتے ہوئے کہا۔
“جَرَرۡتَ عَلَيْنَا عَارَ الدَّهْرِ هَلَّا نَحَرۡتَ مِثْلَ مَا نَحَرَ غَالِبٌ وَكُنَّا نُعْطِيۡكَ مَكَانَ كُلِّ نَاقَةٍ نَاقَتَيْنِ”
ترجمہ: یعنی تو نے ہم پر بہت زیادتی کی ہے ہم تو کبھی بھی اس عار کے داغ کو نہ دھو سکیں گے۔ تو نے جب غالب کے ساتھ مقابلہ شروع کیا تھا تو کیوں نہ اسکی طرح سو اونٹنیاں ذبح کیں۔ اگر تو ایسا کرتا تو ہم ایک ایک اونٹنی کے بدلے تمہیں دو دو اونٹنیاں دے دیتے۔

اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرے اونٹ اس وقت وہاں موجود نہ تھے اس لئے میں ذبح نہ کر سکا۔ اس نے اس داغ کو دھونے کے لئے جوش میں آ کر تین سو اونٹنیاں ذبح کر ڈالیں امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے ان کا گوشت کھانے سے لوگوں کو منع کر دیا کہ: “مَا اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللهِ” ترجمہ: کے زمرہ میں سے ہے۔ اس کا مقصد فخر و مباہات کا اظہار ہے چنانچہ وہ سارا گوشت کوفہ کے ایک کھلے میدان میں ڈھیر کر دیا گیا کتے، چیلیں اور گدھ اس کو کھاتے رہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top