Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر111بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو آٹھ)
{جزیرہ عرب : حصہ بتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ سوم)
(سیف بن ذی یزن)

آپ پہلے پڑھ آئے ہیں کہ حبشیوں نے یمن پر قبضہ جما لیا تھا اہل یمن پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی سیف بن ذی یزن نے کسریٰ سے امداد طلب کی یمن پر چڑھائی کی حبشیوں کو شکست دی اور اپنے اہل وطن کو ان کی غلامی کی ذلت اور اذیت رسانی سے نجات دلائی۔ یہ واقعہ حضور نبی کریمﷺ کی ولادت با سعادت کے بعد یوں رونما ہوا جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ سے وفود سیف بن ذی یزن کو مبارک دینے کے لئے آئے شعراء نے اس کی مدح میں قصیدے لکھے جس میں اس کے احسان کا ذکر کیا گیا۔ کہ اس نے اہل یمن کو حبشیوں کی ذلت آمیز غلامی سے نجات دلائی اور اس پر اس کی خدمت میں خراج تشکر پیش کیا گیا ان وفود میں ایک وفد مکہ کے قریش کا بھی تھا۔ اس وفد میں حضرت عبدالمطلب بن ہاشم، امیہ بن شمس، عبداللہ بن جدعان اور اسد بن خویلد جیسے رؤسا تھے، جب عبدالمطلب اس کے دربار میں پیش ہوئے تو آپ نے گفتگو کرنے کی اجازت طلب کی سیف نے کہا اگر تمہیں دربار شاہی میں لب کشائی کے آداب کا علم ہے تو ہم تمہیں گفتگو کی اجازت دیتے ہیں حضرت عبد المطلب نے اس فصاحت و بلاغت سے اپنا مدعا پیش کیا کہ بادشاہ سراپا حیرت بن کر رہ گیا اور انہیں کہا کہ آپ اپنا تعارف کروائیے۔ آپ نے بتایا میں ہاشم کا بیٹا عبد المطلب ہوں، اس نے آپ کو اپنے قریب کیا اور ان کی دلجوئی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اور اپنے دربار کے ملازمین کو حکم دیا کہ انہیں شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا جائے ایک ماہ تک وہ وہاں ٹھہرے رہے اور شاہی ضیافتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے اس اثناء میں نہ بادشاہ کو فرصت ملی کہ دوبارہ ان سے ملاقات کرے اور نہ انہیں جرات ہوئی کہ اس سے مکہ جانے کے لئے رخصت طلب کرتے ۔ ایک ماہ بعد باد شاہ نے حضرت عبدالمطلب کو اپنی خلوت میں بلایا اور کہا اے عبد المطلب! میں ایک راز سے تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں تمہیں اس کا اہل سمجھتا ہوں تمہیں اس راز کو افشا نہیں کرنا ہو گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلہ کو خود ظاہر فرما دے میں نے اپنی کتاب میں پڑھا ہے جو ہمارے پاس ایک سر مکتوم ( راز نہاں ) ہے۔ ہم اپنے علاوہ کسی کو اس کے مطالعہ کی اجازت نہیں دیتے حضرت عبدالمطلب نے کہا اے بادشاہ! خدا تمہیں سلامت رکھے مجھے بتائیے کہ وہ راز کیا ہے ؟ اس نے کہا:
“اِذَا وُلِدَ بِتِهَامَةَ غُلَامٌ بَيْنَ كَتَفَيْهِ شَامَةٌ كَانَتْ لَهُ الۡاِمَامَةُ وَلَكُمۡ بِهِ الزِّعَامَةُ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ”
ترجمہ: کہ جب تہامہ میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو ۔ جس کے کندھوں کے درمیان نشان ہو وہی امام ہو گا۔ اور اس کے صدقہ قیامت تک تمہیں سرداری نصیب رہے گی۔

عبد المطلب نے کہا کہ اگر شاہی جلال اور اس کا ادب مانع نہ ہوتا تو میں اس بشارت کی تفصیل کے بارے میں التماس کرتا تاکہ میری مسرتوں میں مزید اضافہ ہوتا۔ سیف نے کہا یہ اس کا وقت ہے ابھی پیدا ہو گا ممکن ہے پیدا ہو بھی چکا ہو اس کا نام احمد ہے ان کے والد اور والدہ فوت ہو جائیں گے ان کے دادا اور چچا ان کی کفالت کریں گے اس کی وجہ سے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا آتش کدے بجھا دیئے جائیں گے خداوند رحمن کی عبادت کی جائے گی اور شیطان کو دھتکار دیا جائے گا۔ ہم اس کے مدد گار ہوں گے اس کے دوستوں کی فتح کا ہم باعث بنیں گے اس کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کریں گے حضرت عبد المطلب نے مزید وضاحت چاہی تو ابن ذی یزن نے صاف کہہ دیا کہ اے عبدالمطلب! تم ان کے دادا ہو۔ یہ سنتے ہی عبد المطلب سجدہ میں گر گئے بادشاہ نے انہیں کہا سر اٹھائے اور مجھے بتائیے کہ جو علامات میں نے آپ کو بتائی ہیں کیا ان میں سے آپ نے کچھ مشاہدہ کیا ہے آپ نے حضورﷺ کی ولادت، حضورﷺ کا نام مبارک، والدین کے وفات پانے اور کندھوں کے درمیان اس نشان کے پائے جانے کے بارے میں بتایا ابن ذی یزن نے انہیں ہدایت کی کہ اس امر سے کسی کو آگاہ نہ کریں مبادا حسد کے جذبات آپ کے دوسرے ساتھیوں کے سینوں میں بھڑک اٹھیں نیز یہودیوں سے حضورﷺ کو محفوظ رکھنے کی خصوصی تاکید کی اور بتایا کہ یہود حضورﷺ کے بد ترین دشمن ہوں گے۔ اس کے بعد قریش کے قافلہ کے تمام ارکان کو شرف بازیابی بخشا اور ان کو انعامات سے مالا مال کر دیا حضرت عبدالمطلب کو دوسروں سے دس گنا زیادہ عطیات سے نوازا۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 266، منقول از اعلام النبوة امام ماوردی)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top