Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر110بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو سات)
{جزیرہ عرب : حصہ اکتیسواں}
(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)

زید بن عمرو بن نفیل: اس خوش نصیب گروہ میں سے جنہوں نے گمراہی کی اندھیری رات میں بھی حق کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھا زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔ یہ اپنے اہل وطن کے مشرکانہ عقائد سے بچپن سے ہی متنفر تھے یہ نہ ان کی پوجا کرتے اور نہ ان کے لئے جانوروں کی قربانیاں دیتے۔ علامہ الفاکہی نے اپنی سند سے عامر بن ربیعہ سے روایت کیا۔ عامر کہتے ہیں میری ملاقات زید بن عمرو سے ہوئی جب وہ مکہ سے نکل کر حراء کی طرف جا رہے تھے انہوں نے مجھے کہا اے عامر ! میں نے اپنی قوم کے باطل عقیدہ کو ترک کر دیا ہے اور ملت ابراہیمی کی اتباع اختیار کر لی ہے میں اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جس کی حضرت اسماعیل علیہ السلام اس کعبہ کی طرف منہ کر کے عبادت کیا کرتے تھے۔ میں ایک نبی کا انتظار کر رہا ہوں جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور پھر حضرت عبد المطلب کی پشت سے ہو گا لیکن میرا خیال ہے کہ میں اس نبی کا زمانہ نہ پا سکوں گا۔ سنو! میں اس نبی پر ایمان لے آیا ہوں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سچا نبیﷺ ہے۔ واقدی کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ انہوں نے عامر کو کہا کہ اگر تیری عمر دراز ہو ۔ اور تو اس نبیﷺ کا زمانہ پائے تو اس کی بارگاہ اقدسﷺ میں میرا سلام عرض کرنا۔ عامر کہتے ہیں جب میں مشرف بہ اسلام ہوا تو میں نے اس کا سلام بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کیا حضورﷺ نے ان کے سلام کا جواب دیا اور اس پر رحمت بھیجی۔ فرمایا میں اس کو جنت میں دیکھ رہا ہوں اس حال میں کہ وہ اپنی چادر کا پلو گھسیٹتے چلے جا رہے ہیں۔

زید نے حضورﷺکی زیارت کا شرف تو حاصل کیا لیکن حضورﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے انتقال کر گئے۔ انہوں نے ایک بار حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے نصرانیت اور یہودیت کو سونگھا ہے لیکن میں نے ان میں وہ چیز نہیں پائی جس کی مجھے طلب تھی میں نے یہ بات ایک راہب کو بتائی تو اس نے مجھے کہا کہ تم شائد ملت ابراہیمی کے متلاشی ہو جو آج تمہیں کہیں نہیں ملے گی تم اپنے شہر کو واپس چلے جاؤ ۔ وہاں اللہ تعالیٰ تیری قوم میں سے ایک نبی معبوث فرمائے گا جو ملت ابراہیمی کی دعوت لے کر آئے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے اس کی جناب میں زیادہ معزز ہو گا ان کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں جن میں ان کا عقیدہ توحید صاف جھلک رہا ہے۔

اَ رَبًّا وَّاحِدًا اَمْ اَلْفَ رَبٍّ
اَ دِيۡنُ اِذَا تُقُسَّمَتِ الْاُمُوۡرٗ
جب معاملات منقسم ہیں تو کیا میں رب واحد کو اپنا رب بناؤں یا ہزار خداؤں کو اپنا رب بناؤں ۔

عَزَلْتُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰى جَمِيۡعًا
كَذٰلِكَ يَفْعَلُ الْجَلْدُ الصَّبُوۡرٗ
میں نے لات، عزیٰ اور تمام بتوں کو ترک کر دیا ہے ایک بہادر صبر کرنے والا اسی طرح کیا کرتا ہے۔

وَلٰكِنۡ اَعْبُدُ الرَّحْمٰنَ رَبِّيۡ
لِيَغْفِرَ ذَنْبِيۡ الرَّبُّ الْغَفُوۡرٗ
لیکن میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا جو رحمن ہے تاکہ وہ رب جو رحمٰن ہے تاکہ وہ رب جو بہت بخشنے والا ہے میرے گناہوں کو بھی بخش دے۔

امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے چند اور شعر بھی اپنی سیرت کی کتاب میں لکھے ہیں جو ان کے عقیدہ توحید کی روشن دلیل ہیں۔

وَاَسْلَمْتُ وَجْهِيۡ لِمَنْ اَسْلَمَتْ
لَهُ الْاَرْضُ تَحْمِلُ صَخْرًا ثِقَالًا
میں نے اپنا چہرہ اس ذات کے لئے جھکا دیا ہے جس کے لئے زمین نے اپنا چہرہ جھکایا ہوا ہے جو بوجھل پہاڑوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔

وَاَسْلَمْتُ وَجْهِيۡ لِمَنْ اَسْلَمَتْ
لَهُ الْمُزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالًا
میں نے اپنا چہرہ اس ذات کے لئے جھکا دیا ہے جس کے سامنے بادلوں نے سر اطاعت خم کیا ہوا ہے جو میٹھے اور صاف پانی کو اٹھائے ہوئے ہیں۔

اِذَا هِيَ سِيۡقَتْ اِلٰى بَلْدَةٍ
اَطَاعَتْ فَصَبَّتْ عَلَيْهَا سِجَالًا
جب ان بادلوں کو کسی شہر کی طرف جانے کا حکم الہی ملتا ہے تو وہ اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے وہاں جاتے ہیں اور اپنے پانی کے ڈول وہاں جاکر انڈیل دیتے ہیں۔

امیہ بن ابی صلت: اس کا نام عبداللہ بن ابی رویہ بن عوف الثقفی تھا بڑا قادر الکلام شاعر تھا۔ حضور نبی کریم ﷺاس کے کئی اشعار کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رشید بن سوید کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پیارے رسولﷺکے ساتھ اونٹنی پر سوار تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا کیا تجھے امیہ بن ابی الصلت کا کوئی شعر یاد ہے میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! بہت، فرمایا سناؤ۔ میں نے ایک شعر سنایا فرمایا اور سناؤ وہ سنایا پھر فرمایا اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے سو اشعار پڑھ کر سنائے ۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ” کَادَ لِیُسۡلِمَ” ترجمہ: قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔

دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا: “اٰمَنَ شِعۡرُہٗ وَ کَفَرَ قَلۡبُہُ” ترجمہ: اس کے شعر تو مومن ہیں لیکن اس کا دل کافر ہے۔ ابن قتیبہ “طبقات الشعراء” میں لکھتے ہیں کہ امیہ لوگوں کو بتایا کرتا تھا کہ ایک نبی تشریف لانے والا ہے اس کی بعثت کا زمانہ قریب آ گیا ہے دل ہی دل میں وہ یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ اسے نبوت کے منصب پر فائز کیا جائے گا لیکن جب حضور نبی کریمﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تو وہ مارے حسد کے جل گیا اور حضورﷺ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔” الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ” میں علامہ ابن حجر ابن ہشام رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ امیہ نبی کریمﷺ پر ایمان لے آیا تھا وہ حجاز آیا تاکہ طائف میں اس کا جو مال ہے وہ لے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرے جب وہ بدر کے میدان تک پہنچا کسی نے اس سے پوچھا اے ابا عثمان! کدھر جا رہے ہو ، اس نے کہا میرا دل چاہتا ہے میں حضورﷺ کی غلامی اختیار کر لوں، اسے کہا گیا کہ جانتے ہو اس گڑھے میں کون دفن ہیں اس نے کہا نہیں تو اسے بتایا گیا کہ اس میں شیبہ ، ربیعہ ، جو تیرے ماموں کے لڑکے ہیں اور ان کے علاوہ کئی دوسرے قریش مدفون ہیں۔ یہ سن کر اس نے اپنی اونٹنی کی ناک کاٹ دی اپنے کپڑے پھاڑ دیئے اور ان مقتولین پر رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ مدینہ طیبہ میں حاضری کا قصد ترک کر دیا واپس طائف آ گیا اور وہیں حالت کفر میں ہلاک ہو گیا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿175)
ترجمہ: اور آپﷺ انہیں اس شخص کا قصہ (بھی) سنا دیں جسے ہم نے اپنی نشانیاں دیں پھر وہ ان (کے علم و نصیحت) سے نکل گیا اور شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔(سورۃ الاعراف، آیۃ:175)
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ254)

اسعد ابو كرب الحميري: ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ اسعد حضور نبی کریمﷺ پر ایمان لایا حضورﷺ کی بعثت سے سات سو سال قبل اس نے یہ شعر کہے۔

شَهِدۡتُّ عَلٰى اَحْمَدَ اَنَّهٗ
رَسُوۡلٌ مِّنَ اللَّهِ بَارِئِ النَّسَمٖ
میں گواہی دیتا ہوں اس بات پر کہ حضرت احمدﷺ ، اللہ کے رسول ہیں وہ اللہ جو روحوں کو پیدا کرنے والا ہے۔

وَ لَوْمُدَّ عُمْرِيۡ اِلٰى عَصْرِهٖ
لَكُنۡتُ وَزِيۡرًا لَهٗ وَابْنَ عَمّٖ
اگر میری عمر ان کے زمانہ تک باقی رہی تو میں ان کا وزیر بنوں گا اور ان کے چچا کے بیٹے کی طرح معاون ہوں گا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top