Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر108بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو پانچ)

{جزیرہ عرب : حصہ انتیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا رویہ:حصہ دوم آخری حصہ)

زنادقہ: قریش میں سے ایک گروہ زندیقوں کا بھی تھا۔ ابن قتیبہ نے “کتاب المعارف” میں جہاں عرب کے زمانہ جاہلیت کے ادیان کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ قریش کے زندیقوں نے اس مسلک کو حیرہ سے اخذ کیا تھا۔
(کتاب المعارف لابن قتیبہ، صفحہ 266)

اہل حیرہ کائنات کے دو اصلوں کے قائل تھے نور اور ظلمت، نور خیر کا کرنے والا تھا۔ اور ظلمت ، شر کی فاعل تھی یہ دونوں اصل ازلی اور ابدی تھے سمع، بصر اور ادراک کی صفت سے متصف تھے نفس اور صورت میں مختلف تھے۔ ان کے افعال اور تدابیر میں تضاد تھا۔ نور، خوبصورت اور خوشبودار تھا۔ اس کا نفس کریم، حکیم اور نفع بخش تھا۔ ہر قسم کی بھلائیاں، خوشیاں اور اصلاحی کام اس سے صادر ہوتے تھے اور ظلمت اس کے بر عکس تھی۔

فرشتوں کے پجاری: اہل عرب میں قلیل تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو فرشتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے اس عقیدہ کی بڑی شدت سے تردید کی ہے۔

جنات کے پجاری: مختصر سا گروہ اہل عرب سے جنات کی عبادت کیا کرتا تھا۔ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ان کے اس عقیدہ باطلہ کی سختی سے مذمت اور تردید کی گئی ہے۔

آتش پرست: اہل ایران کی اکثریت آتش پرست تھی انہوں نے اہم مقامات پر آگ کی پرستش کے لئے عظیم آتش کدے تعمیر کر رکھے تھے جہاں آگ ہر وقت بھڑکتی رہتی اور ایک لمحہ کے لئے بھی اسے بجھنے نہ دیا جاتا تھا عرب کے وہ علاقے جو ایران کی حدود کے قریب واقع تھے اور جو قبائل وہاں آباد تھے ان میں آتش پرستی کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ چنانچہ بنی تمیم کے سردار زرارہ بن عدس تمیمی اور اس کے بیٹے حاجب نے مجوسیت کو اختیار کیا اگرچہ اہل عرب اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کو حرام اور فعل شنیع خیال کرتے تھے لیکن مجوسیوں کا اتباع کرتے ہوئے حاجب نے اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کیا اس سے اس کی اولاد بھی ہوئی۔ اقرع بن حابس یہ آتش پرست تھا اور وکیع بن حسان کا دادا ابو الاسود بھی مجوسی تھا۔

ستاروں کے پجاری: اہل عرب میں سے کچھ لوگوں نے ستاروں کی پرستش شروع کی اور ان کو اپنا الٰہ اور معبود بنا لیا۔ بنی تمیم میں سے ایک گروہ الدبران نامی ستارہ کی پوجا کیا کرتا تھا اور لخم ، خزاعہ ، قریش کے بعض قبائل الشعریٰ ستارہ کی پوجا کیا کرتے۔ بنی طے قبیلہ کے چند لوگ “ثریا” کی عبادت کیا کرتے اور بنی کنانہ چاند کے پجاری تھے اور اس کو اپنا الٰہ اور معبود مانتے تھے۔
(بلوغ الارب، جلد دوم ، خلاصہ صفحہ 215 تا 240)

دین یہودیت: حمیر میں پہلے اکثریت مجوسیوں اور آفتاب پرستوں کی تھی ان کے بعد یہاں یہودی مذہب کو قبول عام اور غلبہ حاصل ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب تبع، شام وغیرہ ممالک کو فتح کرنے کے بعد واپس لوٹا تو اس کا گزر یثرب کی بستی کے پاس سے ہوا اس نے اُحد کی ترائی میں اپنے خیمے نصب کئے اور یثرب پر حملہ کر کے ساڑھے تین سو باشندوں کو قتل کر دیا اس نے چاہا کہ وہ یثرب کو نیست و نابود کر دے ایک یہودی عالم جس کی عمر اڑھائی سو سال کے قریب تھی وہ اس کے قریب آیا اور کہا اے بادشاہ ! غصہ سے بے قابو ہو کر تو ہمیں قتل نہ کر ہمارے بارے میں جھوٹی افواہوں کو قبول نہ کر تو کچھ بھی کرے اس بستی کو نہیں اجاڑ سکتا۔ تبع نے پوچھا کیوں؟ تو اس بوڑھے یہودی نے کہا یہ وہ جگہ ہے جہاں اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ایک نبی مکرمﷺ ہجرت کر کے تشریف لائے گا جس کو مکہ سے جلا وطن کیا جائے گا۔ تبع اپنے ارادہ سے باز آ گیا اس یہودی عالم اور ایک دوسرے یہودی عالم کی معیت میں مکہ کی طرف روانہ ہوا وہاں پہنچ کر خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا۔ پھر وہ اپنے وطن یمن کو واپس لوٹا اس کے ساتھ یہ دونوں یہودی عالم بھی تھے وہ ان کی تبلیغ سے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا جب یہ خبر اہل یمن نے سنی تو انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی آخر کار فیصلہ یہ ہوا کہ آگ جلائی جائے اور اس میں یہ دو یہودی عالم بھی داخل ہوں اور اہل یمن کے چند لوگ بھی داخل ہوں ۔ آگ جن کو جلا دے وہ جھوٹے اور جو محفوظ رہیں وہ سچے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جب یہ دونوں فریق اس آتش کدے میں داخل ہوئے تو آگ کے شعلوں نے یمنیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا اور دونوں یہودی عالم صحیح سلامت آگ سے باہر آ گئے اس واقعہ سے متاثر ہو کر اہل یمن نے یہودیت کو اختیار کیا ان کے علاوہ بنی کنانہ ، کندہ ، بنی حارث سے بھی چند لوگوں نے یہودیت کو اختیار کر لیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پڑوس میں یثرب اور خیبر میں یہودی آباد تھے ان کی تبلیغ اور تعلیم سے یہ لوگ متاثر ہوئے اور یہودی بن گئے۔
(ا بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ240۔ 241)

نصرانیت: ربیعہ، غسان اور بعض قضاعہ نے نصرانیت کو قبول کر لیا کیونکہ ان کے علاقے رومی مملکت کی سرحدوں کے بالکل قریب تھے۔ اور اہل عرب تجارت کے لئے بار بار ان ممالک میں جایا کرتے تھے۔ بنو تغلب جو عرب کا بڑا طاقتور اور ذی شوکت قبیلہ تھا۔ اس نے بھی عیسائیت کو قبول کر لیا۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب بنو تغلب کا علاقہ فتح ہوا اور بنو تغلب سے صلح کا معاہدہ ہوا تو انہوں نے اس شرط پر صلح کی کہ اسلامی حکومت ان سے جو مالی ٹیکس وصول کرے اسے جزیہ نہ کہا جائے بلکہ اسے صدقہ کہا جائے ۔ اور مسلمان جس شرح سے مالیہ ادا کرتے ہیں وہ اس سے دگنا صدقہ ادا کریں گے ان کی عورتیں بھی مردوں کی طرح یہ صدقہ ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔ ان کی جو زمینیں ان کے قبضہ میں رہنے دی گئی ہیں ان سے دگنا عشر وصول کیا جائے یعنی بارانی زمینوں سے دسویں حصہ کے بجائے پانچواں حصہ اور آبپاش ہونے والی زمینوں سے بیسویں حصہ کے بجائے دسواں حصہ لیا جائے گا۔ نیز ان کے لڑکوں، مجنونوں سے صدقہ دگنی شرح پر وصول کیا جائے گا۔ لیکن ان کے مویشیوں اور دیگر اموال سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا نجران کے لوگوں نے نصرانیت قبول کر لی ان کے چودہ آدمیوں کا وفد بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوا ان کے دو سردار تھے ایک کا نام السید تھا اور دوسرے کا نام العاقب تھا۔ ان کی گفتگو سرکار دو عالمﷺسے ہوئی ۔ حضورﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس شرط پر صلح کر لی ۔ کہ وہ ہر سال دو ہزار پوشاکیں، تینتیس زرہیں، تینتیس اونٹ اور چونتیس گھوڑے بار گاہ رسالتﷺ میں بطور جزیہ ادا کریں گے۔ مباہلہ کی تفصیل اپنے مقام پر بیان کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 243)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top