(بتوں کے بارے میں ان کا رویہ:حصہ اول)
اپنے بتوں کے بارے میں ان کا رویہ بڑا مضحکہ خیز تھا۔ حضرت ابو رجاء العطاردی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ہمارا طریقہ یہ تھا کہ ہم ایک پتھر کو پوجتے رہتے اور جب ہمیں اس سے کوئی خوبصورت پتھر مل جاتا تو ہم پہلے معبود پتھر کو پھینک دیتے اور نئے پتھر کی پوجا شروع کر دیتے اگر کسی مقام پر کوئی پتھر دستیاب نہ ہوتا تو ہم مٹی کی ایک ڈھیری بناتے اس کے اوپر بکری کھڑی کر کے اس کا دودھ دوہتے اور اس ڈھیری پر ڈال دیتے پھر ہم اس ڈھیری کی عبادت کرنے لگتے۔
(بلوغ الارب، جلد دوم ، صفحہ 211)
ابو عثمان النہدی کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ایک بت کی پوجا کیا کرتے تھے ایک روز ہم نے ایک اعلان سنا کوئی کہہ رہا تھا اے لوگو! تمہارا خدا ہلاک ہو گیا ہے اب کوئی نیا رب تلاش کرو۔ ہم نکلے اور وادی کے سارے نشیب و فراز کو چھان مارا تاکہ ہمیں کوئی ایسا پتھر مل جائے جس کو ہم اپنا خدا بنا لیں۔ اسی اثناء میں ہم نے ایک منادی کرنے والے کی بلند آواز سنی: “اَنَا قَدۡ وَجَدۡنَا رَبَّكُمۡ.” ترجمہ: لوگو آ جاؤ! ہم نے تمہارے لئے ایک خدا ڈھونڈ لیا ہے۔ جب ہم آئے تو وہاں ایک پتھر رکھا ہوا تھا ہم نے اس پر جانور ذبح کئے اور ان کے خون سے اس کو لت پت کر دیا اس کے بعد اس کی پوجا شروع کر دی۔ مکہ کے بیت اللہ شریف کے علاوہ لوگوں نے مختلف مقامات پر کئی اور کعبے بنا رکھے تھے۔
بنی حارث نے نجران میں ایک کعبہ بنایا تھا۔ جس کی وہ تعظیم بجا لایا کرتے تھے اسی طرح ابرہہ الاشرم نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سنگ مرمر اور قیمتی لکڑی سے ایک بڑا شاندار مکان تعمیر کیا۔ اس کو سونے کے نقش و نگار سے مزین کیا اور اس کا نام “اَلۡقَلِیۡنَس” رکھا۔ اس نے چاہا کہ اہل عرب کو مجبور کرے کہ وہ حج کے لئے مکہ جانے کے بجائے صنعاء میں آئیں اور اس کے تعمیر کردہ کعبہ کا طواف کریں۔ ابرہہ کا جو انجام ہوا اس کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔
سورج کے پجاری: اہل عرب میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو سورج کی پوجا کیا کرتے تھے سورج کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جس کا نفس بھی ہے اور عقل بھی چاند اور تمام ستارے اسی سے اکتساب نور کرتے ہیں اور عالم سفلی کی تمام موجودات اس سے پیدا ہوئی ہیں۔ ان کے نزدیک سورج افلاک و سمٰوٰت کا بادشاہ ہے یہ اس قابل ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے۔ اس کو سجدہ کیا جائے اور اس سے دعائیں مانگی جائیں انہوں نے اس کا ایک ہیکل تیار کیا تھا انسانی مجسمہ جس کے ہاتھ میں ایک موتی ہے جس کا رنگ آگ کی طرح سرخ ہے ۔ اس ہیکل کے لئے ایک خاص معبد ( مندر ) تعمیر کیا جسے اس کے نام سے موسوم کیا اس معبد کے لئے کثیر التعداد گاؤں اور زرعی زمینیں وقف کیں اس کی خدمت اور دیکھ بھال کے لئے با قاعدہ خدام مقرر تھے سورج کے پرستار اس معبد میں دن میں تین بار آ کر اس کی عبادت کرتے بیمار لوگ وہاں آتے اور اس بت کے لئے روزے رکھتے نمازیں پڑھتے اور دعائیں مانگتے سورج جب طلوع ہوتا غروب ہوتا تو اس کے سارے پجاری اس کو سجدہ کرتے اور اسی طرح دوپہر کے وقت بھی جب سورج نصف النہار پر ہوتا کیونکہ یہ تینوں اوقات سورج کے پرستاروں کی پرستش کے ہیں اس لئے حضور نبی کریمﷺنے ان اوقات میں نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اہل عرب میں سے حمیر میں آباد عرب قبائل سورج کے پجاری تھے ملکہ بلقیس جو حمیر کے سلاطین میں سے ایک نامور ملکہ گزری ہیں ان کے بارے میں ہدہد نے جو اطلاع حضرت سلیمان علیہ السلام کو دی قرآن کریم میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
“وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ24﴾”
ترجمہ: میں نے وہاں کی ملکہ کو اور اس کی قوم کو اس حال میں پایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے اعمال (بد) ان کے لئے خوب خوش نما بنا دیئے ہیں اور انہیں (توحید کی) راہ سے روک دیا ہے سو وہ ہدایت نہیں پا رہے۔
(سورۃ النمل،آیۃ :24)
اس کے بعد ملکہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایمان لائی اور سورج کی پرستش کو چھوڑ کر سورج کے پیدا کرنے والے خداوند قدوس کی عبادت کرنے لگی اس طرح دین توحید اس علاقہ میں پھیل گیا۔
چاند کے پجاری: بعض لوگ چاند کی تعظیم اور پرستش کرتے تھے ان کا یہ اعتقاد تھا کہ عالم سفلی کی تدبیر کا کام چاند کے سپرد ہے انہوں نے اس کا ایک ہیکل ( بت ) بنایا ہوا تھا جس کی شکل بچھڑے کی تھی۔ اور اسکے ہاتھ میں بھی ایک موتی ہوا کرتا تھا۔ وہ اس کی عبادت کرتے اس کو سجدہ کرتے مہینہ میں اس کے لئے چند روز روزے رکھتے جب روزوں کے دن ختم ہوتے تو کھانا اور شراب لے کر وہ اس بت کے پاس حاضر ہوتے اور کھانا تناول کرتے اس کے بعد وہ رقص و سرور میں مصروف ہو جاتے بعض نے دوسرے ستاروں کے ہیکل بنا رکھے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔
دہریُّون: یہ وہ لوگ ہیں جو کائنات کے خالق کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عالم قدیم ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ جس میں کوئی جوہری تغیر و تبدل وقوع پذیر نہیں ہوتا عالم بذات خود کائنات کے تمام اجزا کو آپس میں وابستہ کئے ہوئے ہے انہیں معطلہ بھی کہتے ہیں یہ لوگ بھی کائنات کے خالق کے منکر ہیں اور قیامت کو بھی نہیں مانتے۔ نبوت کا بھی انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں طبیعت زندہ کرتی ہے اور دہر ( زمانہ ) فنا کرتا ہے انہیں کے عقیدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
“وَ قَالُوۡا مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ھُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿24)”
ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں: ہماری دنیوی زندگی کے سوا (اور) کچھ نہیں ہے ہم (بس) یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے (حالات و واقعات کے) سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا (گویا خدا اور آخرت کا مکمل انکار کرتے ہیں)، اور انہیں اس (حقیقت) کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف خیال و گمان سے کام لے رہے ہیں۔
(سورۃ الجاثیہ،آیۃ:24)
اہل عرب میں بعض ایسے لوگ تھے جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ عالم رنگ و بو یہ آسمان اور زمین، یہ پانی اور ہوا اور ساری کائنات اپنے تنوع کے باوجود از خود پیدا ہو گئی ہے اس کو کسی ایسی ذات نے پیدا نہیں کیا جو قدیر، علیم، حکیم کی صفات سے متصف ہو ۔ ہماری بس یہی زندگی ہے ہم اس میں جتنی عیش و عشرت کر لیں جتنے اعلیٰ سے اعلیٰ منصب پر فائز ہو جائیں یہی کچھ ہماری کامیابی ہے۔ مرنے کے بعد نہ کوئی برزخ ہے نہ عالم نہ آخرت اور نہ کہیں ہمارے اعمال نیک و بد کا محاسبہ ہو گا۔
صائبہ: دراصل یہ وہ قوم ہے جس کو دعوت حق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کو مبعوث فرمایا تھا ان کا مرکز “حران” میں تھا۔ دجلہ اور فرات کے دو آبہ میں ایک قدیم شہر کا نام ہے جو بلاد مصر کا مرکز تھا یہ اپنے فلاسفہ اور علماء کی وجہ سے بہت مشہور ہے ثابت بن قرہ اور اس کی اولاد اور البانی وہاں کے علماء کے سربر آوردہ ہیں۔
(المنجد )
ان صائبین کی دو قسمیں تھی ایک موحدین اور دوسرے مشرکین ، مشرک وہ ہیں جو سات سیارگان اور بارہ برجوں کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں ہر ایک کے لئے انہوں نے الگ الگ ہیکل ( عبادت گاہیں ) تعمیر کی ہوئی ہیں جن میں اس سیارہ کی ایک تصویر ہوتی ہے شمس ، قمر، زہرہ ، مشتری، مریخ، عطارد، زحل کے لئے الگ الگ ہیکل ہیں سب سے بڑا ہیکل آفتاب کا ہے ، وہ ان ستاروں کی پوجا کرتے ہیں ان سے دعائیں مانگتے ہیں ان کے لئے قربانیاں دیتے ہیں اور مسلمانوں کی طرح دن میں پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں۔
ان میں سے بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں نماز ادا کرتے وقت کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں مکہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس کا حج کرتے ہیں جن چیزوں کو قرآن کریم میں حرام کہا گیا ہے ان کو حرام سمجھتے ہیں اور محارم سے نکاح مسلمانوں کی طرح حرام اور ناجائز سمجھتے ہیں ان کے دین کا اصل یہ ہے کہ وہ اپنے خیال میں کسی ایک دین کی پابندی نہیں کرتے بلکہ ہر دین سے جو چیز ان کے نزدیک مستحسن ہوتی ہے اس کو اخذ کر لیتے ہیں اس لئے اس کو صابی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی ایک مذہب کے اصولوں کی پابندی سے اپنے آپ کو آزاد کر لیتے ہیں ان میں سے جو مشرک ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے۔
“وَلَا سَبِيۡلَ لَنَا اِلَى الْوُصُوۡلِ اِلٰى جَلَالِهٖ ، اِلَّا بِالْوَسَائِطِ فَالْوَاجِبُ عَلَيْنَا اَنْ نَتَقَرَّبَ اِلَيْهِ بِتَوَسُّطَاتِ الرُّوۡحَانِيَاتِ الْقَرِيۡبَةِ مِنْهُ وَهُمُ الرُّوۡحَانِيُّوۡنَ وَالْمُقَرَّبُوۡنَ الْمُقَدَّسُوۡنَ عَنِ الْمَوَادِ الْجِسۡمَانِيَّةِ وَ عَنْ قُوَى الۡجَسَدَانِيَّةِ فَهُمْ اَرْبَابُنَا وَاٰلِهَتُنَا وَشُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ رَبِّ الْاَرْبَابِ وَاِلٰهِ الْاٰلِھَةِ فَمَا نَعْبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَا اِلَى اللهِ زُلۡفٰى”
ترجمہ: یعنی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات تک رسائی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں بجز ان واسطوں کے پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کا قرب حاصل کریں ان روحانیات کے توسط سے جو اس کے قریب ہیں اور وہ روحانین ہیں مقربین ہیں۔ جو جسمانی مادوں اور جسمانی قوتوں سے پاک ہیں پس یہ روحانین ہمارے رب ہیں ہمارے الہ ہیں اور رب الارباب سب خداؤں کے خدا کے پاس ہمارے شفیع ہیں ہم ان روحانین کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب بخش دیں۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 225 – 226)
اہل عرب میں بھی بعض لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے عقائد پر قائم تھے وہ ستاروں کی پوجا کرتے اور ان کے لئے عبادت گاہیں تعمیر کرتے تھے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲