Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر106بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو تین)
{جزیرہ عرب : حصہ ستائیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ دوم آخری حصہ)

الغرض ہر قبیلہ کا اپنا اپنا خدا تھا جس کی وہ تعظیم کرتے اور اس کے سامنے رسوم عبادت بجا لاتے اس سلسلہ میں گاہے بگاہے کئی ایسے واقعات رو پذیر ہوتے جن سے اگر ایک طرف ان بتوں کی بے بسی کا پردہ چاک ہوتا تو دوسری طرف ان کے پرستاروں کی عقیدت کا بھانڈا بھی چوراہے میں پھوٹ جاتا۔ مالک اور ملکان ، کنانہ کے دو بیٹے تھے جدہ کے ساحل پر ان کا ایک بت تھا جس کا نام سعد تھا وہ ایک لمبی چٹان تھی، بنی ملکان کا ایک شخص اپنے اونٹوں کی ایک قطار لے کر وہاں آیا تاکہ اس سے برکت حاصل کرے ۔ جب اس نے اپنے اونٹوں کو اس چٹان کے قریب کیا تو وہ چٹان ان جانوروں کے خون سے لت پت تھی جو اس کے لئے ذبح کئے گئے تھے اونٹ یہ دیکھ کر بلک پڑے اور اپنی مہاریں تڑا کر جدھر کسی کا منہ آیا اُدھر بھاگ گیا اپنے اونٹوں کو یوں منتشر ہوتا دیکھ کر وہ غضبناک ہو گیا زمین سے پتھر اٹھایا اور سعد بُت کو زور سے دے مارا اور کہا : “لَا بَارَکَ اللہُ فِیۡکَ اِلٰهَا اِنَّفَرَتِ اِبِلِیۡ” ترجمہ: اے جھوٹے خدا! تجھ کو اللہ تعالیٰ کبھی برکت نہ دے تو نے میرے اونٹوں کو بھگا دیا۔ انہیں تتر بتر کر دیا۔ پھر وہ اپنے اونٹوں کو اکٹھا کرنے کے لئے وہاں سے نکلا ایک ایک کو نکیل کے ساتھ باندھ کر جمع کیا جب وہ وہاں سے روانہ ہوا تو یہ اشعار گنگنا رہا تھا۔

اَتَيْنَا اِلٰى سَعْدٍ لِيَجْمَعَ شَمْلَنَا
فَشَتَّتَنَا سَعۡدٌ فَلَا نَحْنُ مِنْ سَعَدٖ
ترجمہ: ہم سعد بُت کے پاس آئے کہ ہمارے پراگندہ شیرازہ کو وہ منتظم اور مجتمع کر دے اُلٹا سعد نے ہماری جمعیت کو تتر بتر کر دیا۔ ہمارا اب سعد سے کوئی تعلق نہیں۔

وَهَلْ سَعْدٌ اِلَّاصَخْرَةٌ بِتَنُوۡفَةٍ
مِنَ الْاَرْضِ لَا يَدْعُوۡ لِغَيٍّ وَّلَا رُشْدٖ
ترجمہ: سعد کیا ہے لق و دق صحرا میں ایک چٹان ہے نہ وہ گمراہی کی طرف بلا سکتا ہے نہ وہ ہدایت کی طرف دعوت دے سکتا ہے یعنی نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ۔

اسی طرح کا ایک واقعہ عمرو بن جموح کے ساتھ پیش آیا۔ عمرو بنی سلمہ قبیلہ کا سردار تھا اس نے اپنے گھر میں لکڑی کا ایک بُت رکھا ہوا تھا اس بت کا نام بھی منات تھا۔ جب بنی سلمہ کے کئی نوجوان موسم حج میں عقبہ کے مقام پر مشرف بہ سلام ہوئے ان میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور عمرو مذکور کا بیٹا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے نو مسلم تھے۔ ان کا یہ معمول بن گیا کہ وہ عمرو بن جموح کے بت کو رات کی تاریکی میں اٹھا کر لے جاتے بنی سلمہ کے محلہ میں کوڑا کرکٹ ڈالنے کے جو گڑھے تھے ان میں جا کر پھینک دیتے جب صبح ہوتی اور عمرو کا بت اپنی جگہ پر اسے نظر نہ آتا تو کہتا تمہارا برا ہو، آج رات کس نے ہمارے خدا پر زیادتی کی ہے، پھر وہ اس کی تلاش میں نکلتا کسی گڑھے میں سر کے بل اوندھا پڑا ہوا وہ اسے ملتا۔ تو اسے اٹھا کر گھر لے آتا اس کو دھوتا صاف کرتا اور خوشبو سے اسے معطر کرتا پھر کہتا اے میرے خدا! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ تیرے ساتھ کس نے یہ بے ادبی کی ہے تو میں اس کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑوں ۔ کئی رات ایسا ہی ہوتا رہا پھر ایک دن وہ اپنی تلوار لے آیا اور اپنے بُت کی گردن میں لٹکا دی اور اسے مخاطب کر کے بولا۔
“وَاللَّهِ اِنِّيۡ لَا اَعْلَمُ مَنْ يَصْنَعُ بِكَ مَا تَرَیٰ. فَاِنْ كَانَ فِيۡكَ خَيْرٌ فَامْتَنِعۡ فَهٰذَا السَّيْفُ مَعَكَ”
ترجمہ: بخدا ! میں نہیں جانتا کہ تیرے ساتھ ہر شب کون یہ گستاخی کرتا ہے اگر تجھ میں کوئی طاقت ہے تو اپنی حفاظت کر میں اپنی تلوار تمہارے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔

وہ رات کو سو گیا ان لوگوں نے تلوار سمیت اس کے بت کو وہاں سے اٹھا لیا پھر ایک مرے ہوئے کتے کو ایک رسی لے کر اس کے ساتھ باندھ دیا پھر ایک غیر آباد کنویں میں جہاں نجاستیں ڈالی جاتی تھیں وہاں پھینک آئے۔ عمرو صبح اٹھا اپنے بت کے پاس گیا وہ موجود نہ تھا اس کی تلاش میں نکلا اور اس کو ایک غلیظ کنوئیں میں سر کے بل اوندھا گرا ہوا اس حالت میں دیکھا کہ ایک مردہ کتا اس کے ساتھ بندھا ہوا ہے جب اس نے اپنے معبود کی یہ حالت دیکھی تو اس کی آنکھوں سے غفلت کے پردے اٹھ گئے نوجوان مسلمانوں نے جب اس کو اس کے بے جان معبود کی بے بسی کی طرف متوجہ کیا تو اس نے کفر و شرک سے توبہ کی اور اسلام قبول کر لیا اس وقت اس نے اپنے جذبات کا اظہار ان اشعار میں کیا۔

وَاللهِ لَوۡ كُنۡتَ اِلٰهًا لَّمْ تَكُنْ
اَنْتَ وَكَلْبٌ وَسۡطَ بِئْرٍ فِيۡ قَرَنۡ
ترجمہ: بخدا اگر تو خدا ہوتا تو تو کتے کے ساتھ ایک رسی میں بندھا ہوا کنوئیں میں پڑا ہوا نہ ہوتا۔

اَلْحَمْدُ لِلہ الْعُلٰى ذِي الۡمِنَنۡ
اَلۡوَاهِبِ الرَّزَّاقِ دَيَّانِ الدِّيَنۡ
ترجمہ: سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو سب سے بلند ہے احسان فرمانے والا ہے نعمتیں بخشنے والا ہے رزق دینے والا ہے۔ اور صحیح دین عطا فرمانے والا ہے۔

هُوَ الَّذِيۡ اَنْقَذَنِيۡ مِنْ قَبْلِ اَنْ
اَكُوۡنَ فِيۡ ظُلْمَةِ قَبْرٍ مُرْتَهَنْ
بِاَحْمَدَ الۡمُهْدِيِّ النَّبِيِّ الْمُرْتَهَنۡ
ترجمہ: وہی ہے جس نے مجھے اس سے پہلے کہ میں قبر کے اندھیروں میں رکھ دیا جاؤں مجھے کفر سے نجات دی اپنے نبی رحمتﷺ کے ذریعہ جو ہدایت یافتہ ہیں۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 208 – 209)

اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جو ابو منذر الکلبی نے اپنی مشہور تصنیف “کتاب الاصنام ” میں درج کئے ہیں مختلف قبیلوں کے مختلف بت تھے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے دوس قبیلہ کا ایک بت تھا جس کو ذو الکفین کہا جاتا۔ انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے سردار حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نے اس کو جلا دیا اور کہا۔
يَا ذَا الۡكَفَّيْنِ لَسْتُ مِنْ عِبَادِكَ
مِيْلَادُنَا اَكْبَرُ مِنْ مِيۡلَادِكَ
اِنِّيۡ حَشَوْتُ النَّارَ فِيۡ فُؤَادِكَ
ترجمہ: اے ذو الکفین میں تیرے بندوں میں سے نہیں ہوں ہم پیدائش کے لحاظ سے تم سے عمر میں بڑے ہیں میں نے تیرے دل میں آگ کے انگارے بھر دیئے ہیں۔

بنی ازد قبیلہ کی ایک شاخ بنی حرث کے بت کا نام ذو الشری تھا، قضاعہ، لخم، جذام ، غطفان کے قبائل جو شام کی سرحد کے قریب آباد تھے ان کے بت کا نام القیصر تھا بنی طے قبیلہ کی ایک شاخ جدیلہ کے بت کا نام یعبوب تھا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top