Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر 99 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چھیانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ بیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ ششم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان: حصہ اول)

وفا، سچائی کے قبیلہ سے ہے اس کے بر عکس غدر اور دھوکا، جھوٹ اور ظلم کے قبیلہ سے ہے کیونکہ وفا نام ہے زبان اور عمل سے سچ بولنے کا اور غدر نام ہے زبان اور عمل سے جھوٹ بولنے کا اس لئے وعدہ کی پابندی کا قرآن کریم نے بار بار حکم دیا ہے اور وعدہ پورا کرنے والوں کی ستائش فرمائی ہے۔

وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡھَبُوۡنِ ﴿40﴾
ترجمہ: اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔
(سورۃ البقرة،آیۃ : 40)
ارشاد الہی ہے۔
وَاَوْفُوۡا بِعَهْدِ اللَّهِ اِذَا عٰهَدۡتُّمۡ﴿91﴾
ترجمہ: کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔
(سورۃ النحل،آیۃ : 91)

کوئی قوم بلکہ کوئی انسانی معاشرہ باہمی اعتماد کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا جہاں عہد شکنی اور وعدہ خلافی کی وبا عام ہو، وہ معاشرہ زوال و انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے اہل عرب کی گونا گوں خوبیاں جن میں سے چند ایک کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں ان میں سے ایک یہ خوبی بھی تھی کہ اگر وہ کسی سے وعدہ کرتے تو اس کو پورا کرتے۔ خواہ اس سلسلہ میں ان کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا بلکہ جان کی بازی بھی ہارنی پڑتی طبعی طور پر وہ جھوٹ سے نفرت کرتے اور جھوٹے کو حقیر اور ذلیل سمجھتے اس طرح سچ بولنا ان کے نزدیک صفات محمودہ میں سے تھا۔ اور سچے آدمی کی تعظیم و تکریم کرنا ان کا قومی شعار تھا عہد جاہلیت کی تاریخ میں ہمیں بیشمار ایسے واقعات ملتے ہیں جب کہ اہل عرب نے مال و جان کی قربانی دے کر بھی اپنے قول کی لاج رکھی اور اس کو اپنا فرض سمجھا۔ یہ چیز ان کے لئے باعث صد عزت و شرف خیال کی جاتی تھی۔ امام مرزوقی لکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے قبیلہ مُضر کے لئے قحط سالی کی بد دعا کی سات سال گزر گئے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا ہر طرف ویرانی ہی ویرانی پھیل گئی۔ گھاس خشک ہو گئی درختوں کے پتے جھڑ گئے اکثر چشموں اور تالابوں میں پانی کی ایک بوند بھی باقی نہ رہی ان حالات سے مجبور ہو کر ان کے سردار حاجب نے اپنی قوم کو جمع کیا کہ میں کسریٰ کے پاس جاتا ہوں اور اس سے اس کے ملک میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت طلب کرتا ہوں ۔ تاکہ اس قحط کی تباہ کاریوں سے ہم اپنے آپ کو بچا سکیں قوم نے اس کی اس تجویز کی تحسین کی چنانچہ وہ کسریٰ کے پاس گیا اور اپنی تکالیف بیان کرنے کے بعد اس سے اجازت طلب کی کہ جب تک بارشیں نہیں برستیں اور قحط سالی کا خاتمہ نہیں ہوتا وہ اس کی قوم کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دے. کسریٰ نے کہا تم اہل عرب فتنہ و فساد کے خوگر ہو غارتگری اور قزاقی تمہارا مرغوب پیشہ ہے اگر میں تمہیں اجازت دوں تو تم اپنی ان قبیح عادات کی وجہ سے میرے ملک و قوم کے امن و سکون کو تہ و بالا کر کے رکھ دو گے۔ حاجب نے کہا کہ میں اس کی ضمانت دیتا ہوں جب تک میری قوم تیرے ملک میں سکونت پذیر رہے گی اس قسم کی کوئی نازیبا حرکت نہیں کرے گی۔ کسریٰ نے کہا اس بات کا کوئی ضامن ہے کہ تم اس وعدہ کو پورا کرو گے حاجب نے کہا میں بطور ضمانت اپنی کمان تمہارے پاس رہن رکھتا ہوں جب وہ کمان لے کر آیا تو اس کو دیکھ کر اہل دربار ہنس پڑے لیکن کسریٰ نے کہا ہمیں منظور ہے تم یہ کمان لے لو چنانچہ جتنا عرصہ حاجب اپنی قوم کے ساتھ وہاں رہا قوم کے ہر فرد نے اپنے سردار کے اس قول کا پاس رکھا حاجب کی موت کے بعد بنی مضر بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی التماس کیا کہ حضورﷺ ہمارے لئے بارش کی دعا فرمائیں، حضورﷺ کی دعا سے موسلا دھار بارشیں ہوئیں اور ان کا ویران علاقہ پھر سر سبز و شاداب ہو گیا مضر کا قبیلہ ایران سے واپس آکر اپنے علاقے میں آباد ہو گیا حاجب کا بیٹا عطارد، کسریٰ کے پاس گیا تا کہ اپنے باپ کی کمان اس سے لے آئے۔ کسریٰ نے اسے دیکھ کر کہا تم وہ آدمی نہیں ہو جس نے میرے پاس کمان رکھی تھی عطارد نے کہا بیشک لیکن جس نے کمان رکھی تھی وہ مر گیا ہے اور میں اس کا بیٹا ہوں اور اپنے باپ کی کمان لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں چنانچہ کسریٰ نے وہ کمان اسے واپس کر دی اور اسے خلعت فاخرہ پہنائی جب وہ بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوا تو اس نے وہ خلعت بارگاہ رسالتﷺ میں ہدیہ کے طور پر پیش کی لیکن سرور عالمﷺ نے اسے قبول نہ فرمایا اس نے وہ خلعت ایک یہودی کو چار ہزار درہم میں فروخت کر دی۔ یہ بات قبیلہ مضر کے لئے فخر و مباحات کا باعث بن گئی۔

چنانچہ ابو تمام کہتا ہے۔
“اِذَا اِفْتَخَرَّتْ يَوْمًا تَمِيۡمٌ بِقَوْسِهَا فَخَارًا عَلٰى مَا وَطَدَتْ مِنْ مَنَاقِبٖ”
ترجمہ: اگر بنو تمیم ( مضر کی ایک شاخ ) اپنی کمان کے باعث فخر کرے جس کی وجہ سے اسکے مناقب مستحکم ہو گئے ہیں۔
“فَاَنْتُمۡ بِذِيۡ قَارٍ اَمَالَتْ سُيُوۡفُكُمۡ عُرُوۡشَ الَّذِيۡنَ اسْتَرْهَنُوۡا قَوۡسَ حَاجَبٖ”
ترجمہ: اے میری قوم! تم وہ بہادر ہو جن کی تلواروں نے ذی قار کی جنگ میں ان بادشاہوں کے تختوں کو اوندھا کر دیا جنہوں نے حاجب کی کمان کو اپنے پاس گروی رکھا تھا۔

ان کے ایفاء عہد کا ایک اور حیرت انگیز واقعہ پڑھئیے۔ منذر بن ماء السماء، جو نعمان بن منذر کا دادا تھا اور حیرہ کا بادشاہ تھا اس نے سال میں دو دن مقرر کئے ہوئے تھے ایک کو یوم نعیم، یعنی خوشی اور نعمت کا دن اور دوسرے کو یوم البوس یعنی رنج و الم کا دن کہا جاتا۔ یوم نعیم کو جس پر اس کی سب سے پہلے نظر پڑتی۔ اس کو وہ شاہی اونٹوں میں سے سو اونٹ بطور انعام بخشتا۔ اور یوم بوس کو جو شخص سب سے پہلے اس کے سامنے آتا اس کو وہ قتل کر دیتا ایک روز نعمان اپنے شاہی گھوڑے محکوم پر سوار ہو کر شکار کے لئے گیا اس نے ایک جنگلی گدھے کے پیچھے گھوڑا دوڑایا وہ اس کوشش میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں اس کا جاننے والا کوئی نہ تھا۔ لاؤ لشکر سارا پیچھے رہ گیا بادل گھر کے آگئے بارش شروع ہوئی اس نے سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ تلاش کرنا چاہی وہ ایسے مکان تک پہنچا، جس میں بنی طے قبیلہ کا حنظلہ نامی ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ سکونت پذیر تھا، نعمان نے ان دونوں سے پوچھا کیا تمہارے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ ہے۔ انہوں نے کہا ہاں تشریف لائیے حنظلہ کے پاس صرف ایک بکری تھی وہ اپنے نو وارد مہمان کو پہچانتا بھی نہیں تھا کہ یہ حیرہ کا فرمانروا ہے لیکن اپنی طبعی مہمان نوازی کی عادت سے مجبور ہو کر اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ یہ کوئی معزز شخص معلوم ہوتا ہے اس کے لئے کیا کیا جائے اس نے کہا میں نے تھوڑا سا آٹا بچا کر رکھا ہوا ہے۔ میں روٹی پکاتی ہوں تم اپنی بکری ذبح کرو چنانچہ اس نے پہلے بکری کا دودھ دوہا پھر اسے ذبح کر کے اس کا گوشت پکایا نعمان کو پہلے دودھ پلایا پھر کھانا کھلایا اور رات بھر اس سے باتیں کرتے رہے صبح نعمان وہاں سے روانہ ہوا تو اس نے بتایا میں نعمان ہوں کبھی میرے پاس آنا میں تمہیں اس خدمت کا صلہ دوں گا حنظلہ نے کہا ان شاء اللہ کافی عرصہ گزر گیا یہاں تک کہ انہیں قحط سالی نے آ لیا ان کی مالی حالت بڑی خستہ ہو گئی تو اس کی بیوی نے کہا کہ حیرہ کے بادشاہ نے تمہیں آنے کو کہا تھا اب اگر تم اس کے پاس جاؤ تو وہ تمہیں انعام و اکرام سے نوازے گا اور ہماری بگڑی بن جائے گی۔ حنظلہ روانہ ہوا لیکن جس روز وہ نعمان کے دربار میں پیش ہوا وہ اس کا منحوس دن تھا نعمان نے اس کو پہچان لیا اور اس کو بہت دکھ ہوا کہ یہ آج کیوں اس کے پاس آیا ہے۔ حنظلہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اسے کہا میں وہ ہوں جس کے پاس تم نے رات گزاری تھی نعمان نے کہا میں نے پہچان لیا ہے لیکن کاش تم اس دن کے علاوہ کسی اور دن میرے پاس آتے اس نے کہا مجھے اس بات کا علم نہیں تھا نعمان نے کہا میں مجبور ہوں آج اگر میرا بیٹا قابوس میرے سامنے آ جاتا تو میں اس کے کا سر قلم کرنے سے بھی باز نہ آتا اس لئے میں مجبور ہوں میرے لئے تمہیں قتل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اگر تمہاری کوئی حاجت ہے تو مانگو وہ میں تجھے دوں گا اس نے کہا میرے قتل کے بعد تمہارا یہ انعام و اکرام میرے کس کام آئے گا۔ اگر میرے قتل کے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں تو مجھے مہلت دو تاکہ میں ایک مرتبہ اپنے گھر والوں سے مل آؤں ان کو آخری وصیتیں کر آؤں اور ان کے لئے جو انتظام میں کر سکتا ہوں وہ کروں پھر میں واپس آ جاؤں گا نعمان نے کہا اپنا کوئی ضامن دو حنظلہ نے ارد گرد نظر دوڑائی اس کی نگاہ شریک بن عمر پر پڑی اس نے اس سے درخواست کی کہ وہ اس کا کفیل بنے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ بنی کلب کا ایک آدمی جس کا نام قراد بن اجدع تھا وہ کھڑا ہو گیا اور نعمان کو مخاطب کر کے بولا۔ “اَبَيۡتَ اللَّعۡنَ هُوَ عَلَیَّ” ترجمہ: تو لعنت سے دور رہے کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں۔

پھر نعمان نے حنظلہ کو پانچ سو اونٹنیاں دیں اور ایک سال کی میعاد مقرر کی جب سال گزر گیا اور اس میعاد میں ایک دن باقی رہ گیا تو نعمان نے قراد کو کہا کہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کل تمہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ جس کی تم نے ضمانت دی تھی وہ لوٹ کر ابھی تک نہیں آیا قراد نے کہا۔
“فَاِنْ یَّكُ صَدْرُ هٰذَا الْيَوْمِ وَلّٰى فَاِنَّ غَدًا لَنَاظِرُهٗ قَرِيۡبٗ” ترجمہ: اگر دن کا پہلا حصہ منہ موڑ چکا ہے، توکل کا دن بھی قریب ہے زیادہ دور نہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top