قسط نمبر 98 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:پچانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ انیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ پنجم)
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ پنجم)
اہل عرب کی شجاعت: اہل عرب جن خوبیوں سے متصف تھے ان میں سے ایک اعلیٰ ترین خوبی ان کی شجاعت اور بہادری تھی اپنی عزت و ناموس کے لئے اپنے حقوق کے تحفظ اور ان کی بازیابی کے لئے اپنے قبیلہ کی سطوت کا ڈنکا بجانے کے لئے وہ اپنی متاع زیست کو قربان کرنے کے لئے بلا تامل تیار ہو جایا کرتے تھے اپنا سر کٹا دینا، اپنے جسم کے پرزے اڑا دینا، عالم شباب میں موت کا تلخ پیالہ اپنے لبوں سے لگا لینا ان کے لئے ادنیٰ سی بات تھی وہ زندگی اور اس کے عیش و طرب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اپنی عزت اور اپنے قبیلہ کی آبرو کو بچانے کے لئے موت سے کھیل جانا ان کے لئے قطعا کوئی خوفناک کھیل نہ تھا وہ اپنے خیال کے مطابق اپنے اعلیٰ مقاصد کے لئے اپنی جان اور خون کا نذرانہ پیش کرنا اپنا فرض اولین سمجھا کرتے تھے ان کی ساری زندگیاں اپنے دشمنوں سے لڑتے ہوئے گزرتی تھیں وہ میدان جنگ کی موت کو بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر ترجیح دیا کرتے۔ بستر کی موت ان کے لئے قابل مذمت تھی ایک عرب کو اس کے بھائی کے قتل ہو جانے کی اطلاع دی گئی تو اس نے بڑے سکون سے کہا۔
“اِنْ يُّقْتَلۡ فَقَدْ قُتِل اَبُوۡهُ وَاَخُوۡهُ وَعَمُّهٗ اِنَّا وَاللہِ لَا نَمُوۡتُ حَتْفًا وَ لٰكِنْ قَطْعًا بِاَطْرَافِ الرِّمَاحِ وَمَوْتًا تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوۡفِ”
اگر میرا بھائی قتل ہو گیا ہے تو کیا ہوا اس سے پہلے اس کا باپ اس کا بھائی اور اس کا چچا بھی میدان جنگ میں قتل ہوئے تھے بخدا ہم بستر پر نہیں مرا کرتے بلکہ نیزوں کی انیوں سے ہمارے پرزے اڑائے جاتے ہیں اور ہم تلواروں کے سائے میں موت کا پیغام قبول کرتے ہیں۔ ایک عرب شاعر سموؤل نے کیا خوب کہا ہے۔
وَمَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ حَتْفَ اَنْفِهٖ
وَلَا طَلَّ مِنَّا حَيْثُ كَانَ قَتِيۡلٗ
ہمارا کوئی سردار طبعی موت نہیں مرا اور نہ ہی ہمارے کسی مقتول کا خون ضائع ہوا ہے ۔
تَسِيۡلُ عَلٰى حَدِّ الظُّبَاةِ نُفُوۡسُنَا
وَلَيْسَتْ عَلٰى غَيْرِ الظُّبَاةِ تَسِيۡلٗ
ہماری جانیں تلوار کی تیز دھار پر بہتی ہیں اس کے علاوہ وہ اور کسی چیز پر نہیں بہتیں ۔
ان کی شاعری جنگ و جدال کی تصویر کشی سے عبارت ہے جہاں وہ اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے ہیں دشمن کی طرف سینہ تان کر آگے بڑھتے ہیں پیٹھ پھیر کر میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا گویا انہیں معلوم ہی نہیں ایک جاہلی عرب کہتا ہے۔
مُحَرَّمَةٌ اَکْفَالُ خَيْلِيۡ عَلٰى الْقَنَا
وَدَامِيَةٌ لَبَّاتُهَا وَنَحُوۡرُهَا
نیزوں پر میرے گھوڑے کے پٹھے حرام ہیں بلکہ اس کا سینہ اور اس کی گردن خون سے لہولہان ہوتی ہے۔
حَرَامٌ عَلٰى اَرْمَاحِنَا طَعْنُ مُدْبِرٍ
وَنَدِقُّ مِنْهَا فِي الصُّدُوۡرِ صُدُوۡرَهَا
اس طرح ہمارے نیزوں پر حرام ہے کہ وہ کسی پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو اپنا نشانہ بنائیں بلکہ ہمارے نیزوں کے سینے اپنے مد مقابل کے سینہ میں جا کر گڑتے ہیں اور دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔
ایک دوسرا شاعر اپنے بارے میں کہتا ہے۔
تَاَخَّرْتُ اَسْتَبْقِي الْحَيَاةَ فَلَمْ اَجِدُ
لِنَفْسِيۡ حَيَاةً مِثْلَ اَنْ اَتَقَدَّمَا
میں پیچھے ہٹا تاکہ زندہ رہوں لیکن میں نے اپنے نفس کے لئے زندگی اس کے بغیر اور کسی امر میں نہ پائی کہ میں آگے بڑھ کر دشمن پر حملہ کروں۔
عنترہ اپنی بیوی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔
بَكَّرَتْ تُخَوِّفْنِي الْحَتُّوْفَ كَانَّنِيۡ
اَصْبَحْتُ عَنْ غَرْضِ الْحَتُوۡفِ بِمَعْزِلٖ
میری بیوی نے سویرے سویرے مجھے موت سے ڈرانا شروع کر دیا گویا میں موت کی کمان کے ہدف سے کہیں الگ کھڑا ہوں ۔
فَاَجَبْتُهَا اَنَّ الْمَنِيَّةَ مَنْهَلٌ
لَا بُدَّ اَنْ اَسْقِىْ بِكَأْسِ الْمَنْهَلٖ
میں نے اسے کہا کہ موت تو ایک گھاٹ ہے اور میرے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں موت کے گھاٹ سے پیالہ پیؤں ۔
فَقِيۡ حَيَاءَكِ لَا اَبَا لَكِ فَاعْلَمِيۡ
اِنِّي امْرُؤٌ سَاَمُوْتُ اِنۡ لَّمْ اُقْتَلٖ
اپنی حیاء کو محفوظ رکھ تیرا باپ نہ رہے اور اس حقیقت کو اچھی طرح جان لے کہ میں انسان ہوں اگر میں جنگ میں قتل نہ ہوا تو ویسے مر جاؤں گا۔ شعراء عرب کی رزمیہ شاعری اس بلا کی اثر انگیز ہوتی ہے کہ اگر کوئی بزدل بھی اس کا مطالعہ کرے تو وہ بھی بہادر بن جاتا ہے اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ابو الغول الطہوی کا زور کلام ملاحظہ ہو۔
فَدَتْ نَفْسِيۡ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيۡنِيۡ
فَوَارِسَ صَدَّقَتْ فِيۡهِمْ ظَنُوۡنِيۡ
میری جان بھی اور جو مال و دولت میرے پاس ہے وہ بھی ان سواروں پر قربان ہو جائے جنہوں نے میرے گمانوں کو سچا کر دکھایا۔
فَوَارِسَ لَا يَمَلُّوۡنَ الْمَنَايَا
اِذَا دَارَتْ رَحْيَ الْحَرْبِ الزَّبُوۡنٖ
ایسے شہسوار جو موتوں سے دل برداشتہ نہیں ہوتے جب خوفناک جنگ کی چکی چلنے لگتی ہے۔
وَلَا يَجْزُوۡنَ مِنْ حُسْنٍ بِسَیِّئِِ
وَلَا يَجْزُوۡنَ مِنْ غِلْظٍ بِلِيۡنٖ
وہ سوار جو اچھائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے اور نہ سختی کے مقابلہ میں نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
فَنَكَّبَ مِنْهُمْ دَرۡاَ الْاَعَادِيۡ
وَدَاوَوۡا بِالْجُنُوۡنِ مِنَ الْجُنُوۡنٖ
ان سے دشمنوں کے حملوں کو دور کر دیا اور انہوں نے جنون کا علاج جنون سے کیا۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ114 – 104)
بنی قیس کا ایک شاعر کہتا ہے۔
اِنَّا مُحَيُّوۡكِ يَا سَلْمٰى فَحَيِّيْنَا
وَاِنْ سَقَيْتِ كِرَامَ النَّاسِ فَاسْقِيۡنَا
اے سلمیٰ ہم تجھے سلام اور دعا کہتے ہیں اور تو بھی ہمیں سلام اور دعا کہہ اگر تیرا شیوہ یہ ہے کہ تو برگزیدہ لوگوں کو شراب پلاتی ہے تو ہمیں پلا۔
وَاِنْ دَعَوْتِ اِلٰى جُلّٰى وَمَكْرُمَةٍ
يَوْمًا سَرَاةً كِرَامَ النَّاسِ فَادْعِيۡنَا
اگر کسی عظیم کام اور محترم مقصد کے لئے تو کسی دن بزرگ لوگوں کے سرداروں کو دعوت دے تو ہمیں دعوت دے کیونکہ ہم ہی وہ لوگ ہیں۔
اِنَّا بَنِيۡ نَهْشَلٍ لَا نَدَّعِىۡ لِاَبٍ
عَنْهُ وَلَا هُوَ بِالْاَبْنَاءِ يَشْرِيۡنَا
ہم بنی نھشل قبیلہ کے لوگ ہیں ہم اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں کرتے اور نہ ہمارے باپ دوسروں کے بیٹوں سے ہمیں فروخت کرنا پسند کرتے ہیں۔
اِنَّا لَنُرْخِصُ يَوْمَ الرَّوْعِ اَنْفُسَنَا
وَلَوْ نَسَامُ بِهَا فِي الْاَمْنِ اُغْلِيۡنَا
ہم جنگ کے روز اپنی جانوں کو ارزاں کر دیتے ہیں اگر امن کے دنوں میں ان کی قیمت لگائی جاتی تو وہ قیمت بہت گراں ہوتی ۔
اِنْ تُبْتَدَرۡ غَايَةٌ يَوْمًا لِمَكْرُمَةٍ
تَلْقَ السَّوَابِقَ مِنَّا وَالْمُصَلِّيۡنَا
اگر کسی باعزت مقصد کی طرف گھڑ دوڑ ہو تو پہلا نمبر بھی ہمارا ہو گا اور دوسرا نمبر بھی ہمارا ہو گا۔
اِذَا الۡكُمَاةُ تَنَحَوَّا اَنْ يُصِيۡبَهُمۡ
حَدُّ الظُّبَاةِ وَصَلْنَاهَا بِاَيْدِيۡنَا
اگر بہادر جنگ جو تلوار کی تیز دھار کے سامنے سے ہٹ جائیں تو ہم آگے بڑھ کر اس کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتے ہیں۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 116)
اس قسم کے شجاعت انگیز اور روح افروز اشعار کہاں تک لکھتے چلے جائیں اس میدان میں جن شعراء نے اظہار خیال کیا ہے اور داد فصاحت و بلاغت دی ہے اپنی شجاعت و بسالت کی ایسی دلکش منظر کشی کی ہے کہ سننے والے کی رگوں میں غیرت و حمیت کا خون بجلی بن کر دوڑنے لگتا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲