Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر 97 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چرانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ اٹھارہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ چہارم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ دوم آخری حصہ)

ایک اور شاعر اپنے ممدوح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
سَاَشْكُرُ عُمۡرََوا اِنۡ تَرَافَتْ مَنِيَّتِيۡ
اَبَادِيۡ لَمْ تُمْنُنْ وَاِنْ مَعِيَ جَلَّتٖ
اگر موت نے مجھے مہلت دی تو میں عمرو کا ان نعمتوں پر شکریہ ادا کروں گا جو اگرچہ جلیل القدر ہیں لیکن اس نے کبھی مجھ پر ان کا احسان نہیں جتلایا۔

فَتًی غَيۡرُ مَحۡجُوۡبِ الۡغِنٰى عَنْ صَدِيۡقِهٖ
وَلَا مُظۡهِرِ الشِّكۡوٰى اِذَ النَّعْلُ زَلَّتٖ
وہ ایسا جوان ہے کہ اپنے دوست سے اپنی دولت کو چھپا کر نہیں رکھتا اور اگر اس کا پاؤں پھسل جائے تو اس پر شکوہ سنج نہیں ہوتا۔

رَاَىٰ خُلَّتِيۡ مِنْ حَيْثُ يَخْفٰى مَكَانُهَا
فَكَانَتْ قَذَى عَيْنَيْهِ حَتّٰى تَجَلَّتٖ
اس نے میری حاجت کو وہاں سے دیکھ لیا جہاں وہ عام لوگوں کی نگاہوں سے مخفی تھی میری وہ حاجت اس کی آنکھوں کا تنکا بنی رہی جب
تک وہ پوری نہ کر دی گئی۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 54)

اہل عرب کے اشعار میں سخاوت و فیاضی کے ایسے ایسے دلکش مناظر بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان ان پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے دل تو چاہتا ہے کہ ادب عالی اور خلق سامی کے ان ادب پاروں کو ایک ایک کر کے ناظرین کی خدمت میں پیش کریں تاکہ وہ ان سے لطف اندوز بھی ہوں اور اہل عرب کے جذبہ فیاضی کی لا محدود وسعتوں کا بھی مشاہدہ کریں لیکن مقام کی تنگ دامانی مزید تفصیلات بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔

عرب میں ایسے ایسے عدیم المثال، عظیم المرتبت، فیاض گزرے ہیں جن کی فیاضی اور سخاوت کے باعث تاریخ ان کو ہمیشہ یاد کرنے پر مجبور ہے۔ اس طویل فہرست میں سے چند مشہور سخیوں کے نام درج ہیں۔
1) حاتم طائی
2) کعب بن مامہ الا یا دی
3) اوس بن حارثہ الطائی
4) ھرم بن سنان
5) عبدالله بن جدعان التیمی و غیرہم ۔

ان کے نام کرم و سخا میں ضرب الامثال کے طور پر لئے جاتے ہیں۔ ماویہ، حاتم کی بیوی نے اس کی سخاوت کا ایک واقعہ سنایا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ اس نے بیان کیا۔ایک مرتبہ شدید قحط پڑا یہاں تک کہ بھوک سے سارے جانور بھی ہلاک ہو گئے ایک رات ہم سخت بھوکے تھے بچے بھی بھوک کی شدت کے باعث رو رہے تھے حاتم نے اپنے بیٹے عدی کو بہلانا شروع کیا اور میں نے سفانہ بیٹی کو بہلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سو گئے۔ پھر حاتم نے باتوں سے میری دلجوئی شروع کی تاکہ میں بھی سو جاؤں ۔ مجھے اس کی حالت زار پر رحم آیا میں نے یوں ظاہر کیا گویا میں سو گئی ہوں اس نے بار بار پوچھا کیا تم سو گئی ہو میں نے جواب نہ دیا تا کہ اسے میرے سو جانے کا یقین ہو جائے حاتم بھی خاموش ہو گیا اس نے خیمہ کے باہر نظر دوڑائی اس نے دیکھا کوئی چیز اس کے قریب آ رہی ہے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ ایک عورت تھی جو یہ کہہ رہی تھی۔ اے سفانہ کے باپ! میں بھوک سے بلکتے ہوئے معصوم بچوں کے پاس سے آئی ہوں حاتم نے کہا جاؤ ان بچوں کو لے آؤ بخدا میں ان کو پیٹ بھر کر کھلاؤں گا میں اٹھ بیٹھی میں نے کہا حاتم! یہ تم نے کیا کہا ہے ۔ ان بچوں کو کیا کھلاؤ گے تمہارے اپنے بچے تو بھوک کے مارے روتے روتے سو گئے وہ خاموشی سے اٹھا اپنے گھوڑے کے پاس گیا اسے ذبح کر ڈالا پھر آگ جلائی پھر اس پر گھوڑے کے گوشت کو بھونا اور اس عورت کو کہا اپنے بچوں کو خوب کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ اور مجھے کہا تم بھی اپنے بچوں کو جگاؤ ۔ میں نے انہیں جگایا۔ اس نے کہا بخدا یہ خست اور کمینگی کی انتہا ہے کہ تم لوگ کھاؤ اور میرے قبیلہ والے بھوکے رہیں چنانچہ وہ اپنے قبیلہ کے ہر گھر میں گیا اور ان کو دعوت دی کہ جہاں آگ جل رہی ہے وہاں آئیں اور ضیافت میں شامل ہوں سب جمع ہو گئے سب نے پیٹ بھر کر کھایا حاتم اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ تمام لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا لیکن حاتم نے ایک لقمہ بھی اپنے منہ میں نہ ڈالا۔ اس سے بھی ایک عجیب و غریب واقعہ ہے جو حاتم کی موت کے بعد رونما ہوا محرز ، جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ روایت کرتے ہیں قبیلہ عبد القیس کا ایک گروہ حاتم کی قبر کے پاس سے گزرا اس کے نزدیک انہوں نے رات بسر کرنے کے لئے پڑاؤ کیا ان میں سے ایک آدمی جس کا نام ابو الخیبری تھا اٹھا اور اس نے آ کر حاتم کی قبر کو لاتیں مارنا شروع کر دیں اور کہا ہم تیرے مہمان ہیں ہماری مہمان نوازی کرو کسی نے اس کو کہا تمہیں شرم نہیں آتی تم مرے ہوئے شخص سے ایسی باتیں کر رہے ہو۔ اس نے کہا بنی طے کہتے ہیں کہ اب بھی اگر کوئی شخص حاتم کی قبر کے پاس جائے اور رات وہاں بسر کرے تو وہ ان کی مہمان نوازی کرتا ہے چنانچہ رات ہو گئی سب سو گئے آدھی رات کے وقت ابو الخیبری گھبرایا ہوا اٹھا وہ کہہ رہا تھا۔ وَا رَاحِلَتَاهُ رَاحِلَتَاهُ ہائے میری سواری! ہائے میری سواری ! لوگوں نے کہا تجھے کیا ہو گیا اس نے بتایا میں نے حاتم کو خواب میں دیکھا اس نے اپنی تلوار سے میری اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی ہیں میں سب کچھ دیکھ رہا تھا حاتم نے چند شعر کہے جو مجھے یاد ہیں۔

اَبَا الْخَيْبَرِيۡ وَاَنْتَ اِمْرُؤٌ
ظَلُوۡمُ الْعَشِيۡرَةِ شَتَّامُهَا
ابوالخیبری ! تم ایسے آدمی ہو جس نے قبیلہ پر ظلم کیا ہے اور اسے برا بھلا کہا ہے۔

اَتَيْتَ بِصَحْبِكَ تَبْغِي الْقِرٰى
لَدٰى حُفْرَةٍ قَدْ صَدَتْ هَامُهَا
تم اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک ایسے گڑھے پر مہمانی طلب کرنے کے لئے آئے ہو جس میں مدفون شخص کی کھوپڑی گل گئی ہے۔

اَتَبْغِيۡ لِيَ الذَّمَ عِنۡدَ الۡمَبِيْتٖ
وَحَوْلَكَ طَىٌّ وَاَنْعَامُهَا
کیا تو رات کے وقت میرے لئے مذمت کا ارادہ کرتا ہے حالانکہ تیرے ارد گرد بنی طے قبیلہ آباد ہے اور اس کے اونٹ بھی موجود ہیں۔

فَاِنَّا لَنَشْبَعُ اَضْيَافَنَا
وَنَاْتِيَ الْمَطِيَّ فَنَعْتَامُهَا
ہم اپنے مہمانوں کو سیر کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو دیر کے بعد دوہتے ہیں۔

ہم اٹھے اور اس شخص کی اونٹنی کے پاس گئے اس کا ایک پاؤں کٹا ہوا تھا چنانچہ ہم نے اس کو ذبح کیا اس کا گوشت خوب پیٹ بھر کر کھایا لوگوں نے کہا حاتم نے زندگی اور موت میں ہماری ضیافت کی ہے اور اس آدمی کو جس کی اونٹنی ذبح کی گئی تھی اسے پیچھے سوار کر لیا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے راستہ میں انہیں ایک شتر سوار ملا اسکے ہاتھ میں ایک دوسرے اونٹ کی نکیل تھی اس نے پوچھا تم میں ابو الخیبری کون ہے اس آدمی نے کہا میں ہوں ۔ اس نے کہا یہ اونٹ پکڑ لو۔ میں حاتم کا بیٹا عدی ہوں وہ مجھے خواب میں ملا اور اس نے کہا کہ اس نے تمہاری اونٹنی ذبح کر کے تمہاری ضیافت کی ہے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں سواری کے لئے اونٹ پہنچا دوں چنانچہ اس نے اونٹ کی نکیل اس کو تھما دی اور خود چلا گیا۔
(بلوغ الارب، جلد1، صفحہ 74- 75)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر

Scroll to Top