قسط نمبر94 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ: اکانوے )
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ اول)
جزیرہ عرب کے جغرافیائی اور سیاسی حالات اور مختلف علاقوں میں مختلف قبائل کی آباد کاری کی تفصیلات کا آپ مطالعہ فرما چکے ہیں۔ اب ہم اس جزیرہ کے باشندوں کی اخلاقی خصوصیات کا جائزہ لیں گے جس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ باوجود اس بات کے کہ جزیرہ عرب کا اکثر علاقہ لق و دق صحراؤں ، ناقابل کاشت بنجر میدانوں اور ناقابل عبور ریگستانوں پر مشتمل تھا اس کے بسنے والے علم سے بالکل بے بہرہ تھے اس کے باوجود قدرت نے اس خطہ کو اور اس میں سکونت پذیر قوم کو کیوں اپنے محبوب مکرم خاتم النبیینﷺ کی بعثت کے لئے اور اس دین حنیف کی پہلی تجربہ گاہ بنانے کے لئے منتخب فرمایا اور اِن اَن پڑھوں کو کیوں اس دولت سرمدی کا امین بنایا۔ اس جائزہ سے آپ یقینًا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اہل عرب میں ان خامیوں اور خرابیوں کے باوجو د ایسی خوبیاں موجود تھیں جن کے باعث ان کو یہ امانت عظمیٰ تفویض کی گئی اور آنے والے حالات نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ قدرت کا یہ انتخاب بالکل درست تھا۔ ان صحرا نشینوں نے اپنے فرائض منصبی کو اس عمدگی سے انجام دیا کہ سارا عالم انگشت بدنداں ہو کر رہ گیا اللہ تعالیٰ نے ان کو فہم و فراست، قوت حافظہ، فصاحت و بلاغت، غیرت و شجاعت، سخاوت و دریا دلی ، سخت کوشی (سخت کوشش کرنے والے)، جفا کشی، فنون جنگ وغیرہ میں مہارت اور دیگر کمالات سے اس فیاضی سے بہرہ ور فرمایا تھا کہ ان کی ہمعصرا قوام (ہم عصر اقوام) سے کوئی قوم کسی میدان میں بھی ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی تھی۔ہم قارئین کی خدمت میں ان کی انہی خداداد بے پایاں ، صلاحیتوں کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے سامنے وہ حکمت آشکارا ہو جائے جو قدرت کے اس انتخاب میں مضمر تھی۔
فراست و ذہانت: اہل عرب کی فراست و ذہانت عدیم النظیر تھی۔ مورخین نے بے شمار واقعات اپنی کتابوں میں تحریر کئے ہیں جن سے ان کی فراست و ذہانت کا پتہ چلتا ہے ایک دو واقعات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں ۔ ایک دولت مند شخص اپنے دو غلاموں کی معیت میں سفر پر روانہ ہوا ۔ جب وہ نصف راستہ طے کر چکے تو ان غلاموں نے اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس آدمی نے بھی بھانپ لیا کہ یہ مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں تو اس نے انہیں کہا کہ اگر تم مجھے قتل کرنے کا عزم مصمم کر ہی چکے ہو تو میرے ساتھ ایک حلفیہ وعدہ کرو کہ جب تم واپس جاؤ تو میرے گھر جانا اور میری دونوں بچیوں کو یہ شعر سنانا انہوں نے پوچھا کون سا شعر اس شخص نے جواب میں یہ شعر پڑھا۔
مَنْ مُبَلِّغٌ بِنۡتَيَّ اَنَّ اَبَاهُمَا
لِلَّهِ دَرُّكُمَا وَدَرُّ اَبِيۡكُمَا
ترجمہ: کون ہے جو میری دونوں بیٹیوں کو پیغام پہنچائے کہ تمہارا والد۔۔۔اللہ کے لیے تمہاری اور تمہارے باپ کی خوبی ہے۔
ان دونوں غلاموں نے جب یہ سنا تو ایک نے دوسرے کو کہا کہ اس میں کوئی خطرہ والی بات نہیں یہ بے ضرر سا شعر ہے۔ جس سے اس کی آخری حسرت بھی پوری ہو جائے گی اور ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ جب وہ لوٹیں گے تو اس کے گھر جا کر اس کی بیٹیوں کو اس کی طرف سے یہ شعر سنا دیں گے جب وہ سفر سے لوٹے تو حسب وعدہ اس کے گھر گئے اس کی بڑی لڑکی سے ملاقات کی اور کہا تمہارے والد کو اس چیز نے آ لیا، جس سے کسی کو مفر نہیں یعنی موت ، اس نے ہم سے قسم لی تھی کہ جب ہم واپس آئیں تو تمہیں اس کا یہ شعر سنائیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اس کی بڑی لڑکی کو سنایا اس نے کہا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے باپ مجھے آگاہ کرنا چاہتا تھا لیکن تم ذرا صبر کرو۔ میں اپنی چھوٹی بہن کو بلا لاؤں وہ اس کو بلا کر لے آئی اسے واقعہ بھی بتایا اور اپنے باپ کا شعر بھی سنایا۔ سنتے ہی اس نے اپنی اوڑھنی اتار دی اور آہ و فغاں شروع کر دی ۔ اس نے کہا اے گروہ عرب ! ان دونوں نے میرے باپ کو قتل کر دیا ہے لوگوں نے پوچھا تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے۔ وہ کہنے لگی اس شعر کے دونوں مصرعے نامکمل ہیں، دونوں مصرعے دوسرے مصرعوں کے محتاج ہیں، اس شعر میں پہلے اور دوسرے مصرعہ میں کوئی مناسبت نہیں در حقیقت یہ دو شعر ہیں اس شعر میں دونوں شعروں کا ایک ایک مصرعہ مذکور ہے اور دوسرا مصرعہ مقدر ہے انہوں نے پوچھا پھر یہ شعر کیسے ہونے چاہئیں اس نے کہا پہلا شعر یوں ہونا چاہئے۔
مَنْ مُخْبِرٌ بِنْتَىَّ اَنَّ اَبَاهُمَا
اَمْسٰى قَتِيۡلًا بِالْفَلَاةِ مُجَنْدَلًا
کون شخص ہے جو میری دونوں بچیوں کو یہ اطلاع دے کہ ان کا باپ قتل کر دیا گیا ہے اور اس کی لاش جنگل میں مٹی سے آلودہ پڑی ہوئی ہے۔
لِلَّهِ دَرُّكُمَا وَدَرُّ اَبِيۡكُمَا
لَنْ يَّبْرَحَ الْعَبْدَانِ حَتّٰى يُقْتَلَا
اے بچیو ! تم دونوں کی خوبیاں اور تمہارے باپ کی خوبیاں اللہ کے لئے ہیں ان غلاموں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔
لوگوں نے ان غلاموں کی تفتیش کی انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا چنانچہ بطور قصاص ان کو قتل کر دیا گیا۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 32 – 33)
اس قوم کی فراست اور ذہانت کا آپ اندازہ لگائیے جس کی ایک کم عمر بچی نے اس راز کا پردہ چاک کیا اور حقیقت حال کو آشکار کر دیا ان کی حد درجہ ذہانت و فطانت کے باعث ان کے نبیﷺ کو ان کی ہدایت کے لئے جو معجزہ دیا گیا وہ قرآن کریم تھا جو اپنے اعجاز بیان اور اسلوب بلاغت میں اپنی مثال نہیں رکھتا تھا قرآن کریم کے کلمات طیبات میں فصاحت و بلاغت کے جو سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں ان کی صحیح قدر و منزلت کا وہی لوگ اندازہ لگا سکتے تھے بسا اوقات ایک آیت سن کر ہی پھڑک اٹھتے تھے ان کے دل کی دنیا بدل جایا کرتی تھی احادیث مبارکہ میں بہت سے ایسے واقعات مذکور ہیں کہ حضورﷺنے قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت فرمائی اور اس کی برکت سے تاریک سینے بقعہ نور بن گئے ۔چنانچہ ایک اعرابی آیا اس نے سرور عالمﷺ سے صرف یہ آیتیں سنیں۔
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾ وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ﴿8﴾
ترجمہ: تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ اسے (بھی) دیکھ لے گا۔
(سورۃ الزلزال،آیۃ: 7-8)
وہ اٹھ کر چلا گیا اور کہنے لگا کہ اس کے بعد مجھے مزید کسی نصیحت اور موعظت کی ضرورت نہیں۔
ایک اور واقعہ جو اپنی ندرت اور غرابت کے باعث بڑا اثر انگیز ہے سماعت فرمائیے سعد بن مالک، نعمان بن منذر کے دربار میں گیا۔ نعمان نے جو سوال اس سے پوچھا اس نے اس کا حیرت انگیز فصاحت کے ساتھ جواب دیا، نعمان کو اس کی فصاحت پر حسد پیدا ہوا اور اس نے اسے کہا کہ تم بڑے چرب زبان ہو۔ اگر تم چاہو تو میں تمہارے مقابلہ میں ایک ایسا آدمی پیش کر سکتا ہوں جو تم کو اس طلاقت لسانی کے باوجود لا جواب کر دے گا۔ سعد نے کہا کہ اگر آپ مجھے جان کی امان دیں اور ناراض نہ ہونے کا یقین دلائیں تو میں ایسے شخص کو جواب دینے کے لئے تیار ہوں چنانچہ نعمان نے اپنے ایک ادنیٰ خادم کو بلایا اور کہا کہ سعد کے منہ پر طمانچہ مارو اس نے اس کو طمانچہ دے مارا۔ نعمان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس سے برافروختہ ہو جائے گا اور گالی گلوچ پر اتر آئے گا اور میں اسے اس جرم کی سزا میں قتل کر دوں گا لیکن خلاف توقع طمانچہ کھانے کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا۔ نعمان نے کہا اس کا جواب دو۔ سعد نے کہا: “سَفِیۡهٌ مَامُوۡرٌ ترجمہ: ایک احمق ہے جسے حکم دیا گیا ہے اور اس نے اس کی تعمیل کی ہے۔
نعمان نے نوکر کو پھر کہا اس نے دوسرا طمانچہ مارا نعمان نے کہا اب جواب دو سعد نے کہا:
“لَوۡ نُهِيَ عَنِ الْاُوۡلٰى لَمْ يَعُدۡ لِلۡاُخۡرٰى” ترجمہ:یعنی اگر پہلے اسے روکا جاتا تو دوبارہ یہ حرکت نہ کرتا۔ نعمان کے حکم سے نوکر نے تیسرا طمانچہ مارا اور سعد سے پوچھا اس کا کیا جواب ہے سعد نے کہا:
“رَبٌّ يُؤَدِّبُ عَبۡدَہٗ” ترجمہ: ایک مالک ہے جو اپنے غلام کو ادب سکھا رہا ہے۔
نعمان نے ایک اور طمانچہ مارنے کا حکم دیا جس کی اس نے تعمیل کی۔ پھر پوچھا اس کا جواب دو سعد نے کہا: “مَلَكۡتَ فَاسۡجَحۡ” ترجمہ: تم مالک ہو تمہیں زیبا یہ ہے کہ عفو و در گزر سے کام لو۔
نعمان نے کہا تم نے درست کہا بیٹھ جاؤ ۔ پھر نعمان نے اس کے بھائی عمرو بن مالک کو چراگاہوں کا پتہ لگانے کے لئے بھیجا اس نے توقع سے زیادہ دیر کر دی جس سے نعمان غضب ناک ہو گیا اس نے قسم کھائی کہ جب عمرو واپس آئے گا تو وہ اس کو قتل کر دے گا۔ خواہ وہ چراگاہوں کی تعریف کرے یا ان کی مذمت کرے ۔ کچھ دیر بعد عمرو واپس آگیا نعمان اپنے امراء و رؤساء کے ساتھ اپنے دربار میں بیٹھا تھا۔ سعد، عمرو کا بھائی بھی وہاں موجود تھا۔ اسے معلوم تھا کہ نعمان نے اس کے بھائی کو قتل کرنے کی قسم کھائی ہے یہ اس کو بچانا چاہتا تھا۔ سعد نے کہا اے بادشاہ! کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں عمرو سے بات کروں بادشاہ نے کہا اگر تم نے اس سے بات کی تو میں تمہاری زبان کاٹ دوں گا اس نے کہا میں اس کو اشارہ کر سکتا ہوں ۔ نعمان نے کہا اگر تم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو میں تیرا ہاتھ کاٹ دوں گا۔ اس نے کہا کیا میں اسے آنکھوں سے اشارہ کر سکتا ہوں نعمان نے کہا اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری دونوں آنکھیں نکال دوں گا۔ آخر میں سعد نے کہا کیا میں اس کے لئے عصا کو کھٹکھٹا سکتا ہوں اس نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ سعد نے ایک آدمی سے جو اس کے قریب بیٹھا تھا اس کا عصا مانگا اور اپنے عصا کو بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اس کا بھائی نعمان کے دربار میں کھڑا اپنے انجام کا انتظار کر رہا ہے۔ سعد نے اپنے عصا کو دوسرے عصا کے ساتھ کھٹکھٹایا بھائی نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے عصا سے اشارہ کر کے سمجھایا۔ عمرو سمجھ گیا کہ بھائی کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی جگہ پر کھڑار ہوں پھر عصا کو کھٹکھٹایا پھر اسے آسمان کی طرف بلند کیا پھر اپنے عصا کو دوسرے عصا کے ساتھ چھوا۔ عمرو نے سمجھ لیا کہ اس کا مدعا یہ ہے کہ میں بادشاہ کو جواب دوں کہ میں نے خشک سالی کے آثار نہیں پائے پھر اس نے اپنے عصا کے ایک کنارے کو دوسرے عصا کے ساتھ بار بار کھٹکھٹایا اور اسے اونچا کیا۔ عمرو سمجھ گیا کہ وہ یہ جواب دے کہ وہاں گھاس وغیرہ اگا ہوا نہیں تھا۔ پھر اس نے اپنے عصا کو کھٹکھٹایا اور اس کو نعمان کی طرف کیا عمرو سمجھ گیا کہ بھائی مجھے کہہ رہا ہے کہ میں اب بادشاہ سے گفتگو کروں ۔ عمرو نعمان کے قریب ہو گیا۔ نعمان نے اس سے پوچھا کہ کیا وہاں کی زرخیزی کی تم تعریف کرتے ہو۔ یا خشک سالی کی مذمت کرتے ہو۔ عمرو نے اپنے بھائی کے عصا کے اشاروں سے جو بات سمجھی تھی اس کی روشنی میں اس نے کہا کہ نہ میں خشک سالی کی مذمت کرتا ہوں اور نہ میں وہاں کی سرسبزی کی ستائش کرتا ہوں زمین ایسی ہے نہ اس کی زرخیزی کا پتہ چلتا ہے اور نہ اس کے بنجر ہونے کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ قافلہ کے لئے پانی اور گھاس کی تلاش کرنے والا وہاں ٹھہر جاتا ہے ایک ناواقف ، عارف بن جاتا ہے اور جو وہاں امن میں ہو وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ نعمان نے عمرو کے اس جواب کی تحسین کی اس طرح اس کو قتل سے نجات میسر آئی۔ ان کی ذہانت کا ایک محیر العقول واقعہ آپ اس باب میں ملاحظہ کریں گے جس میں حضورﷺ کے اجداد کرام کے حالات کا تذکرہ ہے ان میں مصر کے حالات کے ضمن میں یہ واقعہ مذکور ہے۔
سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲