Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر91 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اٹھاسی )
{جزیرہ عرب : حصہ بارہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ششم)
(مملکت حیرہ: حصہ اول)

مملکت حیرہ: جس طرح پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ اس وقت دو عالمی قوتیں تھیں جنہوں نے متمدن دنیا کو آپس میں بانٹ رکھا تھا مغرب میں اہل روم اور مشرق میں اہل ایران ان دونوں مملکتوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے اپنی سرحدوں کے قریب عربی قبائل کی بفر سٹیٹس (یعنی دو مملکتوں کو جدا کرنے والی درمیانی مملکت ) قائم کر رکھی تھیں ایران والے اپنی سرحدوں پر واقع عربی قبائل کے حکمران طبقہ کی سرپرستی کرتے تھے اور یہ لوگ اس کے صلے میں انہیں اپنے سپاہی مہیا کرتے جو رومی حملہ آور لشکروں کے ساتھ نبرد آزما ہوتے نیز اگر بادیہ نشین عرب قبائل ایران کے شہروں، ان کی تجارتی منڈیوں اور تجارتی کاروانوں پر یلغار کر دیتے تو اس وقت بھی یہ عرب قبائل اپنے عرب بھائیوں کو اس تاخت و تاراج سے روکتے اور اگر ضرورت محسوس ہوتی تو بزور شمشیر انہیں اپنے صحراؤں میں واپس جانے پر مجبور کر دیتے۔ ایران کی مغربی سرحد پر جو بفرسٹیٹ تھی اس کے حکمران خاندان کا نام مناذرہ تھا۔ اس طرح رومیوں کی مشرقی سرحد پر بھی عرب قبائل پر مشتمل ایک بفرسٹیٹ تھی جس کے حکمران خاندان کو غساسنہ کہا جاتا تھا۔ غسان ایک چشمہ کا نام ہے اس خاندان کے جد اعلیٰ جب یمن سے ترک وطن کر کے یہاں پہنچے تو اس چشمہ کے اردگرد اپنے خیمے نصب کئے اور وہاں رہائش پذیر ہو گئے اسی نسبت سے وہ غساسنہ کے لقب سے ملقب ہوئے اب ہم بڑے اختصار کے ساتھ ان دونوں سرحدی ریاستوں کے احوال بیان کرتے ہیں تا کہ آپ کو قبل از اسلام جزیرہ عرب کی سیاسی صورت حال پر آگاہی ہو جائے۔ حیرہ کی ریاست کوفہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع تھی اس کا سارا علاقہ بڑا زرخیز اور آباد تھا نہر فرات سے زمینوں کی آبپاشی کے لئے چھوٹی چھوٹی نہریں نکالی گئی تھیں ۔ جو اس علاقہ کے باغات اور زرعی اجناس کو سیراب کرتی تھیں۔

233 قبل مسیح میں سکندر رومی نے ایران پر حملہ کیا اس کے بادشاہ دارا کو شکست فاش دی پھر ایران کی عظیم مملکت کو چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں تقسیم کر دیا اور ہر ریاست پر ایک خود مختار بادشاہ مقرر کر دیا تاکہ ہر بادشاہ اپنی ذات اور اپنی مملکت کے بچاؤ کے لئے اپنے پڑوسی امراء و ملوک سے دست بگریباں رہے۔ ان کی یہ بکھری ہوئی قوتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگی رہیں گی نہ ان میں اتحاد ہو گا نہ ان میں قوت ہو گی اور نہ یہ کبھی اس کے ملک پر حملہ کرنے کی جسارت کر سکیں گے ایران 226 قبل مسیح سے 233 تک اس طوائف الملوکی کا شکار رہا آخر کار خاندان ساسان کا جد اعلیٰ اردشیر بن بابک پیدا ہوا اور اس نے اپنے دور حکومت میں ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا قلع قمع کر کے ایران کی وحدت و سالمیت کو بحال کر دیا اور جو عربی علاقے اس کے قرب وجوار میں تھے ان کو اپنا زیر نگین بنا لیا۔

ان مقبوضہ عرب علاقوں میں حیرہ اور انباء کے علاقے بہت مشہور ہیں اس نے عقل مندی یہ کی کہ ان کو اندرونی معاملات میں مکمل آزادی دے دی تاکہ وہ اندرونی معاملات میں آزادی سے بہرہ ور رہیں اور جب ایران کو ان کے بدو بھائیوں کی یلغار سے بچانے کی ضرورت پڑے تو یہ ان کے راستہ میں سد سکندری بن کر کھڑے ہوں اور اگر رومی حکومت سے ایرانی حکومت کی جنگ ہو تو صحرائی علاقوں کے یہ طاقت ور اور صحت مند سپاہی ان کی فوج میں شامل ہو کر ان کے دشمنوں سے لڑیں اور اپنی شجاعت، جسمانی قوت اور جنگی مہارت کے باعث ان کے دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیں۔ تیسری صدی عیسوی میں حیرہ کی ریاست کا آغاز ہوا۔ اور آفتاب اسلام کے طلوع ہونے کے بعد تک یہ ریاست اپنے داخلی استقلال کے ساتھ قائم رہی اور اپنے طاقت ور اور سرپرست شاهان ایران کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی اور اپنے فرزندوں کی قربانیاں خوشی سے پیش کرتی رہی۔ ان کا سب سے پہلا رئیس یا نواب عمرو بن عدی تھا جو جُزیمہ الابرش کے بعد سریر آرائے مملکت ہوا۔ سب سے پہلے اس عمرو نے حیرہ کے شہر کو اپنا دارالسلطنت بنایا اور اس کی نسل سے نعمان بن امرؤ القیس پانچویں صدی کے اوائل میں تخت نشین ہوا یہی ہے جس نے خورنق اور سدیر کے محلات تعمیر کئے۔ نعمان مذکور اہل عرب پر بہت سختی کیا کرتا۔ کہتے ہیں کہ اس نے آخر میں عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ طبری نے خورنق کے محل کی تعمیر کی یہ وجہ لکھی ہے کہ یزد جرد ابن بہران کسرٰی فارس کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا۔ اس نے حکماء سے پوچھا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ بتاؤ جو ہر قسم کی بیماریوں اور امراض سے پاک ہو ۔ انہوں نے اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں اب حیرہ آباد ہے اس نے اپنے بیٹے بہرام گور کو نعمان بن امرؤ القیس کے پاس بھیجا۔ اور اسے کہا کہ اس کی رہائش کے لئے محل تعمیر کرو اس نے ایک مشہور اور ماہر معمار تلاش کیا جس کا نام “سنمار” تھا۔ اس کو اس محل کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ جب محل کی تعمیر مکمل ہو گئی تو نعمان اس کی پختگی اور خوبصورتی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا سنمار لوگوں کی تحسین و آفرین سن کر کہنے لگا کہ اگر میں جانتا کہ تم میرا پورا اجر دو گے اور میرے ساتھ وہ سلوک کرو گے جس کا میں مستحق ہوں تو میں تمہارے لئے ایسا محل تعمیر کرتا جو سورج کے ساتھ گردش کرتا رہتا، نعمان نے کہا کیا تم اس محل سے بھی زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہو پھر تم نے کیوں نہیں بنایا اس نے حکم دیا کہ اس معمار کو محل سے اوپر لے جایا جائے اور اس کو سر کے بل زمین پر اوندھا پھینک دیا جائے اس سے عرب میں ایک مثل ہے “جزاہ جزاء سنمار” یعنی اس نے اس کو وہ جزا دی جو نعمان نے سنمار معمار کو دی تھی۔ ایک شاعر کہتا ہے۔
جَزٰى بَنُوۡهُ اَبَا الْغَيْلَانِ عَنْ كِبْرٍ
وَحُسْنِ فِعْلٍ كَمَا يُجْزٰى سَنۡمَاٰرٗ
ترجمہ: اس کے بیٹوں نے ابو الغیلان کو اس کے بڑھاپے اور اس کے حسن عمل کی وجہ سے وہ جزا دی جو سنمار کو دی گئی تھی۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد 1، خلاصہ صفحہ 36- 35)

یہاں ایک اور محل تھا جس کو “الحضر” کہتے تھے اس کو ضیزن بن معاویہ نے دجلہ و فرات کے درمیان ” تکریت” کے سامنے تعمیر کیا تھا۔ ضیزن اس علاقہ کا بادشاہ تھا اس کی حکومت شام تک پھیل گئی تھی۔ اس نے فارس پر حملہ کیا جب کہ سابور شاہ فارس پایہ تخت سے باہر تھا اور اس کی بہن کو گرفتار کر لیا۔ جب سابور واپس آیا تو اس نے اس ضیزن پر حملہ کیا وہ اپنے محل میں پناہ گزیں ہو گیا۔ سابور نے چار سال تک محاصرہ کئے رکھا لیکن اس محل کو منہدم نہ کر سکا۔ ایک روز ضیزن کی بیٹی نضیرہ کسی کام کے لئے محل سے باہر نکلی اس نے سابور کو اور سابور نے اس کو دیکھا دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو گئے نضیرہ نے سابور کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ اس کو ایسا راز بتائے گی جس سے وہ اس قصر کو مہندم کر سکے گا۔ اور اس کے باپ کو تہ تیغ کر سکے گا بشرطیکہ اس کے بعد وہ اس کو اپنی بیوی بنائے اور اپنے ساتھ لے جائے اس کے بتائے ہوئے راز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سابور نے قلعہ کو منہدم کر دیا نضیرہ کے باپ کو قتل کر دیا۔ جب اس نے چاہا کہ اب وہ اسے اپنی ملکہ بنا لے اور اسے اپنے ہمراہ لے جائے تو اس نے کہا کہ جو اپنے باپ کے خلاف خیانت کر سکتی ہے اس پر میں کیسے اعتماد کر سکتا ہوں اس نے اپنی تلوار نیام سے باہر نکالی اور اس خائنہ کو قتل کر دیا۔

سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top