(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ چہارم)
(مملکت حمیر:حصہ اول)
اس مملکت کا مؤسس اول “حمیر” تھا جو بنی قحطان کی نسل سے تھا اس مملکت کا محل وقوع سبا اور بحر احمر کے درمیان تھا ان علاقوں کو پہلے قتبان کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا ابتدا میں اس مملکت کا ظہور قبتان کے علاقہ میں ہوا آہستہ آہستہ اس نے مملکت سبا اور ریدان کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور ریدان کو اپنا دارالسلطنت مقرر کیا جو بعد میں ” ظفار ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ شہر اندرون یمن کا ایک شہر ہے جو راستہ صنعاء کی طرف جاتا ہے اس پر “مخا” سے مشرق کی طرف ایک سو میل کی مسافت پر واقع ہے اہل حمیر نے اہل معین اور اہل سبا کی ثقافت و تجارت کو بطور ورثہ پایا اور ان کی زبان بھی وہی تھی جو پہلے دو قبیلوں کی تھی پہلے یہ لوگ ریدان میں سکونت پذیر تھے اور وہاں کے نواب اور رؤساء تھے۔ ان میں جو سب سے زیادہ بڑا ہوتا اس کو ذو ریدان (ریدان کا مالک) کہا جاتا تھا جب انہوں نے مملکت سبا پر قبضہ کر لیا تو اب انہوں نے اپنے بادشاہ کے لئے ملک سبا و ذو ریدان کا لقب اختیار کیا حمیر کی حکومت چھ سو چالیس برس تک قائم رہی۔ اس کو دو برابر عہدوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے عہد کے بادشاہوں کو ملوک سبا و ریدان کہا جاتا تھا اور ان کی حکومت کے دوسرے عہد میں حضر موت بھی ان کی مملکت کا حصہ بن گیا اس لئے اس عہد کے بادشاہوں کو ملوک سبا ویدان و حضر موت کہا جانے لگا۔ حمیر اور سب کی مملکتوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ حمیر کے سلاطین جنگ جو اور فتوحات کے شیدائی تھے ان میں ایسے بادشاہ گزرے ہیں۔ جو نامور سپہ سالار بھی تھے انہوں نے اپنی مملکت کے دائرے کو وسیع کیا اہل ایران اور اہل حبشہ کے ساتھ ان کی جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس خاندان کا مشہور ترین بادشاہ شمریر عش، نامی ہے عرب مورخین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے عراق ۔ فارس خراسان کو فتح کیا۔ صغد کے شہر کو برباد کیا جو دریائے جیحون کے پار واقع تھا۔ پھر وہاں ایک نیا شہر آباد کیا جس کا نام اپنے نام پر رکھا جو اب سمرقند کے نام سے مشہور ہے۔ ان میں ایک دوسرا نامور بادشاہ اسعد ابو کرب (۳۸۵ تا ۴۲۰ عیسوی) اس کے بارے میں عرب مورخین کا یہ خیال ہے کہ اس نے آذر بائیجان پر حملہ کیا اور ایران کے بادشاہ کو شکست دی اس طرح سمرقند کے بادشاہ کو بھی شکست دی اور اسے قتل کر دیا۔ اس نے اپنے لشکر جرار کے ساتھ چین پر حملہ کیا اور مال غنیمت سے لدا ہوا کامیاب واپس آیا۔ اس کی افواج نے روما کا محاصرہ کیا۔ یہاں تک قسطنطنیہ کے بادشاہ نے اسے جزیہ دینا قبول کیا اسی اسعد نے یثرب پر حملہ کیا اور کعبہ شریف کو غلاف پہنایا یہ اہل عرب میں پہلا شخص ہے جس نے یہودی مذہب اختیار کیا۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراهیم، جلد اول، خلاصه صفحه ۲۸ تا ۳۰)
سید محمود شکری آلوسی بلوغ الارب میں لکھتے ہیں کہ ان بادشاہوں میں سے ایک کا نام الحرث تھا جو حمیر کی پندرہویں پشت میں تھا اس سے قبل ان کی مملکت یمن تک محدود تھی۔ یہ یمن سے نکلا اور دیگر ممالک کو فتح کیا اور وہاں سے کثیر مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا اس کا عہد حکومت ایک سو پچیس سال رہا۔ اس نے اپنے اشعار میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر بڑی عقیدت و محبت سے کیا ہے اس کا ایک شعر ہے۔
“وَأَحْمَدُ اسْمُهُ يَا لَيْتَ أَنِّي أَعْمَرُ وَبَعْدَ مَبْعَثِهِ بِعَامٍ” حضور کا اسم گرامی احمد ہے کاش میری زندگی وفا کرے اور حضور کے مبعوث ہونے کے بعد مجھے صرف ایک سال زندہ رہنے کی مہلت میسر آ جائے۔“
شمریر غش کے بعد اس کا بیٹا اقرن تحت حکمرانی پر متمکن ہوا پھر اس کا بیٹا کلیکرب بادشاہ بنا اس کا دور حکومت پینتیس سال تھا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے متبع نے تخت شاہی پر جلوس کیا۔ اس کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ ان اہل ایمان میں سے ہے جنہوں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل حضور کے دین کو قبول کیا اور حضور کی رسالت پر ایمان لائے۔
اس سے یہ اشعار منقول ہیں۔
“شَهِدتُ عَلَى أَحْمَدَ أَنَّهُ رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ بَارِيُّ النَّسَمِ وَلَوْ مُدَّ عُمري إلى عمره لَكُنْتُ وَزِيرًاَّ لَهُ وَابْنَ عَمْ” میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم اس اللہ تعالی کے رسول ہیں جو تمام روحوں کو پیدا کرنے والا ہے اگر میری عمر نے حضور کی تشریف آوری تک وفا کی تو میں حضور کا وزیر ثابت ہوں گا اور چچا زاد بھائی کی طرح معاون اور مدد گار بنوں گا ۔ ” اس سے یہ شعر بھی منسوب ہیں۔ “قَدْ كَانَ ذُو الْقَرْنَيْنِ قَبْلِي مُسْلِمًا مَلِكًا تَدِينُ لَهُ الْمُلُوكُ وَتَحْشُدُ۔
“مِنْ بَعْدِهِ بِلْقِيسُ عَمَّتِیْ كَانَتْ عَلَى مَلَكَتِهِمْ حَتَّى أَتَاهَا الْهُدُهُدُ” کہ ذوالقرنین مجھ سے پہلے گزرا ہے اور وہ مسلمان تھا وہ ایک بادشاہ تھا کہ زمانہ کے سارے بادشاہ اس کے تابع فرمان تھے اور اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوتے تھے۔
اس کے بعد بلقیس کا دور آیا جو میری پھوپھی تھی یہ اس وقت تک اپنے قبیلہ کی بادشاہ رہی جب ہدہد حضرت سلیمان کا مکتوب گرامی لے کر اس کے پاس آیا۔
(المفصل فی احوال العرب، جلد دوم، صفحه ۵۱۴)
ان کا آخری بادشاہ ذو نواس تھا۔ یہ یہودی تھا۔ اہل نجران نے جب نصرانیت کو قبول کیا تو اس نے انہیں دعوت دی کہ وہ اس نئے دین کو چھوڑ کر اپنے قدیم یہودی مذہب کی طرف لوٹ آئیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا تو اس نے گہری خندقیں کھودیں۔ ان میں آگ بھڑکائی اور ایک ایک نصرانی کو بلا کر کہتا یا تو اپنے نئے مذہب سے توبہ کرو اور یہودیت کو اختیار کر لو ورنہ میں تمہیں اس بھڑکتی ہوئی خندق میں پھینک دوں گا جب ان لوگوں نے انکار کیا تو اس نے ایک ایک کر کے ان کو ان خندقوں میں پھینک دیا جہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے سب نے جل کر خاک ہونا منظور کیا لیکن ان کے دلوں نے جس مذہب کو حق سمجھ کر قبول کیا اس سے انحراف گوارا نہ کیا۔
سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲