Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 85 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ:بیاسی)
{جزیرہ عرب : حصہ ششم}
(عربی قبائل :حصہ سوم ~ آخری حصہ)

بنی مضر: مضر کے دو بیٹے تھے قیس عیلان اور الیاس۔ قیس عیلان کی اولاد سے دو مشہور قبیلے ہوئے ہوازن اور سلیم۔ ہوازن میں سے ایک قبیلہ بنی سعد ہے جو سعد بن بکر کی اولاد سے ہے اس قبیلہ کے ہر فرد کو سعدی کہتے ہیں حضرت حلیمہ بنت ذوہیب رضی اللہ عنہا جن کو رحمت اللعالمینﷺ کی مرضعہ (دودھ پلانے والی) بننے کا لا زوال شرف حاصل ہوا اسی قبیلہ کی فرد تھیں۔ قسّی جسے ثقیف بھی کہتے ہیں وہ بھی اسی قبیلہ کا فرد تھا اس کا اصل نام منبہ بن بکر تھا۔ یہ طائف میں اپنے سسرال کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ ان میں باہمی مخاصمت پیدا ہو گئی وہ وہاں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گیا۔ مورخ بکری نے منبہ بن بکر کے ثقیف کے نام سے مشہور ہونے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ثقیف اور نخع خالہ زاد بھائی تھے وہ ایک مختصر سا ریوڑ لے کر باہر نکلے اس ریوڑ میں ایک شیر دار بکری تھی جس کا بچہ بھی تھا۔ یمن کے بادشاہ کی طرف سے کوئی خراج لینے والا ان کے پاس سے گزرا اس نے وہ بکری اور اس کا بچہ بطور خراج لینے کا ارادہ کیا انہوں نے کہا ان دونوں میں سے ایک لے لو اس نے شیر دار بکری کو چنا انہوں نے کہا کہ ہم بھی اس کے دودھ پر زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کا چھوٹا بچہ بھی اسی دودھ پر پل رہا ہے اس لئے اس کو رہنے دو۔ کوئی اور بکری پسند کر لو۔ اس نے انکار کیا دونوں نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا ایک نے کمان میں تیر رکھا اور اس کے قلب میں پیوست کر دیا وہ وہیں تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا اور وہ دونوں آگے روانہ ہو گئے لیکن ان کی طبیعتیں بھی ایک دوسرے سے موافقت نہیں رکھتی تھیں اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ہم میں سے ایک مغرب کی طرف چلا جائے اور دوسرا مشرق کی جانب، قسی ( ثقیف) نے کہا میں مغرب کی طرف جاتا ہوں نخع نے کہا کہ میں مشرق کی طرف جاتا ہوں۔

چنانچہ نخع یمن کے کسی علاقہ میں اقامت گزیں ہو گیا، جب اس کی نسل زیادہ بڑھی تو وہ “الدثنیہ” کی طرف منتقل ہو گئے اور آج تک ان کی اولاد وہیں آباد ہے۔ قسی مغرب کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وادی “القری” میں پہنچا اور ایک یہودن بڑھیا کے پاس جا کر اترا، جس کی کوئی اولاد نہ تھی دن بھر کام کرتا اور رات کو اس یہودن کے ہاں آ کر آرام کرتا۔ اس نے اسے اپنی ماں بنا لیا۔ اور یہودن نے بھی اس کو اپنا بیٹا تصور کر لیا جب یہودن بڑھیا مرنے لگی تو اس نے کہا کہ میرا تیرے بغیر اور کوئی نہیں تو نے میری خدمت کی ہے میں اس کا تمہیں بدلہ دینا چاہتی ہوں میری موت کا وقت آن پہنچا ہے جب میں مر جاؤں اور تم مجھے دفن کر چکو تو یہ سونا اور انگور کی یہ قلمیں تم لے لینا۔ جب تم کسی ایسی وادی میں اترو جہاں پانی دستیاب ہو تو انگور کی ان قلموں کو وہاں گاڑ دینا تجھے اس سے بڑا نفع حاصل ہو گا۔ بڑھیا کو دفن کرنے کے بعد وہ سونا اور انگور کی قلمیں لے کر وہاں سے روانہ ہو گیا اور جب وہ طائف کے مقام پر پہنچا جسے اس زمانہ میں “وج ” کہا جاتا تھا وہاں اس نے خصیلہ لونڈی کو دیکھا۔ جو تین سو بکریوں کا ریوڑ چرا رہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں لونڈی کو قتل کرنے اور ریوڑ کو ہتھیا لینے کا ارادہ کر لیا وہ بھی تاڑ گئی کہنے لگی مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو تا کہ اس ریوڑ کو تم لے لو۔ اس نے کہا بخدا تم نے ٹھیک سمجھا لونڈی نے کہا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری جان بھی جائے گی اور تمہارا اپنا مال اور ریوڑ بھی تم سے چھین لیا جائے گا تمہیں معلوم ہے کہ میں عامر بن الظرو العدوانی جو قبیلہ قیس کا سردار ہے اس کی لونڈی ہوں تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پھر اس لونڈی نے کہا میرا گمان ہے کہ تم دشمن سے خوفزدہ ہو ۔ اور اپنے وطن سے نکالے گئے ہو۔ اس نے کہا بے شک ۔ لونڈی نے پوچھا کیا تم عربی ہو اس نے کہا ہاں ! لونڈی نے کہا کہ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتی ہوں جس میں تمہارا فائدہ ہی فائدہ ہے جب سورج غروب ہونے کے قریب آتا ہے تو میرا مالک اس پہاڑ کی چوٹی پر آتا ہے وادی پر نظر ڈالتا ہے، اگر وہاں اسے کوئی آدمی نظر نہ آئے تو وہ اپنی کمان اپنا ترکش اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیتا ہے پھر وادی میں اتر جاتا ہے۔ قضاء حاجت کے بعد استنجا کرتا ہے پھر اس چٹان کے پاس پہنچ کر اپنے کپڑے اور کمان اٹھا لیتا ہے۔ جب وہ اپنے گھر لوٹتا ہے تو اس کی طرف سے منادی کرنے والے اعلان عام کرتے ہیں کہ جو شخص نفیس آٹے کی پکی ہوئی روٹی۔ گوشت، کھجور اور دودھ کا خواہش مند ہو وہ عامر بن الظرو، کے گھر آئے یہ اعلان سن کر اس کی قوم اس کے گھر پہنچتی ہے اور اس کے دستر خوان پر رکھے ہوئے لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے کپڑے اور کمان چٹان پر رکھ کر وادی میں نیچے اترے تو تم چپکے سے اس چٹان کے پیچھے چھپ جانا اور اس کے کپڑوں اور کمان کو اٹھا لینا۔ جب وہ تجھ سے پوچھے کہ تم کون ہو تو کہنا :
“غَرِيۡبٌ فَاَنۡزِلۡنِیۡ طَرِيۡدٌ فَآوِنِيۡ وَعَزۡبٌ فَزَوِّجۡنِيۡ فَاِنَّہٗ سَيَفۡعَلُ”
ترجمہ: یعنی میں مسافر ہوں مجھے اپنا مہمان بنالو۔ میں اپنے وطن سے نکالا گیا ہوں مجھے پناہ دو۔ میں غیر شادی شدہ ہوں، میری شادی کا اہتمام کرو۔

وہ تیرے سارے مطالبات پورے کر دے گا قسی نے ایسا ہی کیا یہی گفتگو ہوئی اور عامر اسے لے کر وج ( الطائف ) کی طرف آیا۔ حسب معمول منادی کرنے والے نے اعلان کیا کہ جو شخص شراب، گوشت، کھجور اور دودھ کا خواہش مند ہے وہ عامر بن الظرو کے گھر تشریف لے آئے چنانچہ ساری قوم جمع ہو گئی جب ان لذیذ کھانوں سے اپنا پیٹ بھر چکے تو عامر نے کہا کہ کیا میں تمہارا سردار نہیں؟ کیا میں تمہارے سردار کا بیٹا نہیں؟ کیا میں تمہارا حکم نہیں؟ سب نے کہا بے شک۔ پھر اس نے کہا جس کو میں امان دوں کیا تم اس کو امان دو گے؟ جس کو میں اپنے ہاں پناہ دوں کیا تم اس کو پناہ دو گے؟ جس کا میں بیاہ کروں کیا تم اس کو تسلیم کرو گے ؟ سب نے کہا ہے بےشک،عامر نے کہا۔
هٰذَا قُسَّىُّ بْنُ مُنَبَّةٍ وَقَدۡ زَوَّجْتُهٗ اِبْنَتِيۡ ، وَآوَيْتُهٗ مَعِيۡ فِيۡ دَارِيۡ ، وَاَمَّلْتُهٗ○
ترجمہ: یہ قسی بن منبہ ہے میں نے اپنی بیٹی اس کو بیاہ دی ہے۔ میں نے اپنے گھر میں اس کو پناہ دی ہے میں نے اس کو امان دے دی ہے سب نے کہا جو تم نے کیا ہے ہم تسلیم کرتے ہیں عامر نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا اس کے شکم سے تین بیٹے ہوئے۔ عوف، جثم، دارس جب وہ فوت ہو گئی تو اس نے دوسری لڑکی آمنہ کی شادی اس کے ساتھ کر دی۔ اس کے بطن سے ایک بیٹا ناصر اور بیٹی “مسک” پیدا ہوئی، جو ام النمر کی کنیت سے مشہور ہوئی، قسی نے انگور کی وہ بیلیں وج کی وادی میں کاشت کر دیں جو خوب اگیں پھولیں اور پھلیں اس وقت لوگوں نے کہا، ما اثقفہ یہ کتنا دانش مند اور زیرک ہے اس سے اس کا نام ثقیف پڑ گیا۔ اس کی اولاد کافی عرصہ یہاں قیام پذیر رہی یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے انہوں نے وج کے اردگرد ایک فصیل تعمیر کی اس وجہ سے اس شہر کا نام طائف مشہور ہو گیا۔

الیاس بن مضر: الیاس بن مضر کے تین بیٹے تھے۔ قمعہ ،طابخہ اور مدرکہ، جن کی اولاد سے بڑے بڑے قبائل معرض وجود میں آئے مدرکہ کا لڑکا خزیمہ اور خزیمہ کے تین بیٹوں سے ایک کا نام کنانہ اور کنانہ کا بیٹا نضر، نضر کا بیٹا مالک، مالک کا بیٹا فہر۔ یہی فہر قریش کا جد امجد ہے۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، خلاصہ صفحہ 14تا 16)

کنانہ کے جتنے خاندان تھے وہ مکہ کے گرد و نواح میں آباد ہوئے بنی ہذیل بھی مدرکہ کی اولاد میں سے تھے ۔ ہذیل کے دو مشہور خاندان بنو لحیان اور سعد ہیں۔ بنو ہذیل کی رہائش طائف کے ارد گرد تھی اور ان کی زمینیں نجد اور تہامہ میں بھی تھیں بنو اسد ، جو خزیمہ کی اولاد میں سے تھے وہ نجد میں جا کر آباد ہوئے اور بنی طے قبیلہ بھی اس کے پڑوس میں آباد تھا۔ الیاس بن مضر کے بیٹوں مدرکہ اور طابخہ کی اولاد میں لڑائی چھڑ گئی جس میں مدرکہ کو فتح ہوئی بنی طابخہ، تہامہ سے سکونت ترک کر کے نجد اور حجاز میں آ کر آباد ہو گئے فہر بن مدرکہ کی اولاد مکہ کے اردگرد آباد ہوئی یہاں تک کہ قصی بن کلاب کی قیادت میں انہوں نے مکہ کو فتح کیا اور یہاں آ کر آباد ہو گئے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top