Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 82 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

( حصہ:اُناسی)
{جزیرہ عرب : حصہ سوم}
کیا سارا جزیرہ عرب بنجر اور بے آب و گیاہ ریگستان ہے؟

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عرب کے وسیع و عریض علاقہ میں پانی نایاب ہے بارشوں کا فقدان ہے زمینیں بنجر اور ریتلی ہیں اس لئے یہاں کسی قسم کی زراعت و کاشتکاری نہیں ہو سکتی لیکن جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں کا سروے کرنے سے یہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے اور انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جزیرہ عرب میں بعض ایسے وسیع اور زرخیز میدان، شاداب وادیاں ہیں جو اپنی زرخیزی میں ہزاروں سال سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ہزاروں سال ان میں کامیابی کے ساتھ زراعت ہوتی رہی۔ جس کے خوشحال باشندوں نے اپنے اپنے علاقے میں بڑے بڑے شہر اور کثیر تعداد میں خطے آباد کئے۔ یہ زرخیز خطے ساحلی علاقوں میں بکثرت نظر آتے ہیں جنوب مغربی یمن کا علاقہ اپنی سرسبزی اور شادابی میں ضرب المثل تھا قدیم زمانہ کے لوگ اسے “الارض الخضراء” یعنی سرسبز و شاداب سر زمین کہا کرتے تھے۔ جزیرہ عرب کے جنوب میں حضر موت کا علاقہ ہے یہ علاقہ قدیم زمانہ سے بخور کی پیدائش میں عالمی شہرت کا حامل ہے خلیج فارس کے کنارے پر “الاحساء” کا وسیع و عریض خطہ ہے جس کی زمین زرخیزی میں بے مثال تھی۔ اس کا سارا رقبہ زراعت کے قابل تھا۔ اس کا مغربی ساحل بیشک پتھریلا ہے، اس میں ٹیلے اور چٹانیں ہیں، لیکن یہاں بہترین چراگاہیں ہیں جہاں گھوڑے، بھیڑ،بکریاں اور دیگر مویشیوں کی پرورش کے فراواں وسائل موجود ہیں جزیرہ عرب کا وسطی علاقہ جو نسبتاً بلند ہے جسے نجد کہتے ہیں اس میں اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ طویل و عریض وادیاں ہیں ان میں کھیتی باڑی بکثرت ہوتی ہے اس علاقہ میں عرب کے مشہور گھوڑے پالے جاتے ہیں یمامہ جو جزیرہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے اس کی زرخیز اور لائق زمین کے باعث جزیرہ عرب کے باشندوں کی خوراک کی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں گندم، جو اور دیگر خوردنی اجناس میں وہ خود کفیل تھے چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں ان اراضی کی زرخیزی یورپ کی زرخیز ترین زرعی زمینوں سے کسی طرح کم نہ تھی۔ اور بعض خطے تو اتنے زرخیز تھے کہ یورپ کا کوئی خطہ زرعی اجناس کی پیدائش میں ان کی ہم سری کا دعوی نہیں کر سکتا تھا۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد اول، خلاصہ صفحہ 6-7)

جزیرہ عرب کے وہ علاقے جو زراعت کے قابل نہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔

1) الحراء: یہ الحرہ کی جمع ہے۔ یہ وہ زمینیں ہیں جہاں کسی زمانہ میں آتش فشاں پھٹا اور اس سے بننے والا مادہ جم گیا اور اس نے سیاہ رنگ کے سخت پتھروں کی صورت اختیار کر لی پتھر کے یہ ٹکڑے جو وسیع علاقوں میں پھیلے ہوئے جگہ جگہ نظر آتے ہیں یہ عام طور پر گول شکل کے ہوتے ہیں آتش فشاں پھٹنے کا یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا حجاز میں 654ء میں اس قسم کا ایک آتش فشاں پھٹا اور کئی ہفتوں تک اس سے آگ کے انگارے برستے رہے اور اس سے بہنے والا آتشیں مادہ کئی میلوں تک بہتا چلا گیا۔

2) الدہناء: یہ وہ میدان ہیں جن کے اوپر سرخ رنگ کی ریت کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ یہ شمال میں نفود سے لے کر جنوب میں حضر موت اور مہرہ تک، مغرب میں یمن تک اور مشرق میں عمان تک پھیلے ہوئے ہیں اس کا رقبہ ایک لاکھ تیس ہزار کلو میٹر ہے اس میں ریت کے ٹیلوں کے طویل سلسلے ہیں جن کی بلندیاں مختلف ہیں۔ جب ہوائیں چلتی ہیں تو ریت کے یہ ٹیلے بکھر کر بہت سی زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان میں بعض مقامات پر زمین کھودی جائے تو ٹھنڈے پانی کے چشمے بھی دریافت ہو جاتے ہیں اگر ان علاقوں میں بارش ہو جائے تو فوراً رنگ برنگی جڑی بوٹیاں اگ آتی ہیں لیکن قلیل مدت میں خشک ہو کر دم توڑ دیتی ہیں۔ لوگوں نے پانی کی نایابی اور چراگاہوں کے فقدان کے باعث ان علاقوں میں اپنی سکونت ترک کر دی ہے یہاں اکثر تند آندھیاں چلتی رہتی ہیں اور دن میں گرمی اتنی شدید ہوتی ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ جو مقامات یہاں اونچے ہیں وہاں پانی بھی بکثرت دستیاب ہوتا ہے بارشیں بھی برستی ہیں اور گھاس وغیرہ بھی پیدا ہو جاتی ہے یہ علاقے مویشیوں کی بہترین چراگاہ کا کام دیتے ہیں۔ اس دھناء کے جنوبی علاقوں کو علماء جغرافیہ “الربع الخالی ” کے نام سے موسوم کرتے ہیں یعنی جزیرہ کا وہ چوتھائی حصہ جو ہر قسم کی انسانی اور حیوانی زندگی سے خالی ہے یہاں نہ کوئی درخت اگتا ہے اور نہ کوئی گھاس پیدا ہوتی ہے اس ربع خالی کو سب سے پہلے ایک انگریز سیاح نے عبور کیا اسے یہ صحرا عبور کرنے میں اٹھاون دن لگے۔ جن مشقتوں اور تکالیف کا اسے سامنا کرنا پڑا اس کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے۔ دھناء کے مغربی حصہ کو الاحقاف کہتے ہیں یہاں ریت کے بڑے بڑے اونچے ٹیلے ہیں یہی وہ علاقہ ہے، جہاں قوم عاد کبھی آباد تھی۔ اُس وقت یہ علاقہ از حد سرسبز و شاداب تھا، وہاں کے رہنے والوں نے جب اللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری اور فسق و فجور کو اپنا وطیرہ بنا لیا اور اپنے نبی مشفق کی وعظ و نصیحت سے اثر پذیر ہونے کی بجائے الٹا ان کی مخاصمت اور عناد میں تمام حدود کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ سے اس کی زرخیزی اور سرسبزی سلب کر لی ۔ کنوؤں اور چشموں کا پانی خشک ہو گیا اور یہ علاقہ لق و دق صحرا میں تبدیل ہو گیا۔ کچھ عرصہ قبل جہاں ہر سو شاداب کھیت لہلہاتے ہوئے نظر آتے تھے ہر سمت باغات ہی باغات تھے جن میں قطار اندر قطار اشجار ، طرح طرح کے لذیذ پھلوں سے لدے ہوئے تھے ، وہاں یکسر خاک اڑنے لگی آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے وہاں بہت پرانے شہروں کے کھنڈرات دریافت کئے ہیں۔

3) النفود: یہ ایک وسیع و عریض صحرا ہے جس کی ریت کا رنگ سفید اور سرخ ہے اس کے ٹیلوں کو ہوائیں اِدھر سے اُدھر پھینکتی رہتی ہیں یہ تیماء سے شروع ہوتا ہے اور مشرق میں چار سو پچاس کلو میٹر کی مسافت تک پھیلتا چلا جاتا ہے اس کا عرض اڑھائی سو کلو میٹر ہے جو شمر تک چلا گیا ہے پہلے یہ بھی دھناء کے نام سے اور رملہ عالج کے نام سے مشہور تھا لیکن اب اس علاقہ کو النفود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہاں ہوائیں متحرک ریت کے ٹیلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جمع کرتی رہتی ہیں بسا اوقات یہ ٹیلے ڈیڑھ سو میٹر یعنی چار سو پچاس فٹ تک اونچے ہو جاتے ہیں اور مختلف شکلیں اختیار کر لیتے ہیں ان ٹیلوں کی بلندی یکساں نہیں اس لئے نفود کی سطح ہموار نہیں رہتی جہاں ریت کا رنگ سرخ ہوتا ہے، وہاں جب بارشیں برستی ہیں تو سطح زمین پر سبز گھاس کی قالین بچھ جاتی ہے جس میں رنگا رنگ پھول اپنی بہار دکھا رہے ہوتے ہیں اور خالق کائنات کی عظمت و حکمت کے گیت گا رہے ہوتے ہیں، ان علاقوں میں تناور درخت بھی پیدا ہو جاتے ہیں، جنہیں اعرابی ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یہ سبزہ ، پھول دار جھاڑیاں ، اور بیلیں فقط اس علاقہ میں اگتی ہیں جہاں ریت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ جہاں ریت کا رنگ سفید ہوتا ہے وہاں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top