قسط نمبر 81 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ دوم}
(جزیرہ عرب کی تقسیم)
علماء جغرافیہ نے جزیرہ عرب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
(1) التہامہ (2) الحجاز (3) النجد (4) العروض (5) یمن
پھر ہر حصہ کی ذیلی تقسیمیں بھی کی گئی ہیں ہم یہاں ان بڑے پانچ حصص کے بارے میں قارئین کی خدمت میں مختصر کچھ عرض کریں گے۔ ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن اپنی کتاب ” تاریخ الاسلام ” کی جلد اول میں ان حصص کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
التہامہ: یہ وہ نشیبی علاقہ ہے جو بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ ینبوع سے نجران (یمن) تک چلا گیا ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ التہم جو اس کا مادہ اشتقاق ہے اس کا معنی ہے گرمی کی انتہائی شدت اور ہوا کا رک جانا۔ اس علاقہ میں گرمی نا قابل برداشت حد تک شدید پڑتی ہے اور ہوا رکی رہتی ہے، جس سے اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کو “تہامہ ” کہتے ہیں اس علاقہ کا دوسرا نام “الغور” ” ہے کیونکہ نجد کے مقابلہ میں یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اس لئے اسے اس نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
الحجاز: یہ علاقہ یمن کے شمال اور تہامہ کے مشرق میں واقع ہے یہ متعدد وادیوں کا مجموعہ ہے جن کے درمیان سے جبل سرات گزرتا ہے، یہ سلسلہ کوہ شام سے شروع ہوتا ہے اور یمن میں نجران تک چلا جاتا ہے۔ ایک فرانسیسی محقق ” جوسٹاف لیبون” اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ایک پہاڑی اور ریتلی اقلیم ہے شمالی منطقہ معتدلہ کے وسط میں واقع ہے اس کے سامنے بحر احمر ہے اس میں دو مقدس شہر آباد ہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ۔ حجاز کو حجاز اس لئے کہتے ہیں کہ یہ تہامہ اور نجد کے درمیان حد فاصل ہے۔
نجد: یمن کے جنوب میں اور صحرائے ” سماوہ ” کے شمال میں پھیلا ہوا ہے عروض اور عراق اس کے ایک جانب واقع ہیں اس کو نجد اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی سطح اونچی ہے۔
یمن: یہ نجد کے علاقہ سے بحر ہند کے جنوب اور بحر احمر کے غرب سے گزرتا ہے اور مشرقی جہت سے یہ حضر موت اور الشحر اور عمان سے ملا ہوا ہے یمن اور حضرموت کے میدانوں میں کئی داخلی لڑائیاں بھی لڑی گئیں اور بیرونی حملہ آوروں سے بھی معرکہ آرائی ہوتی رہی انہیں داخلی جنگوں اور اندرونی فتنہ و فساد کے باعث خاندانِ تُبع، تباہ و برباد ہوا۔ جس کے بادشاہوں نے مآرب، عمدان اور ظفار کے محلات تعمیر کئے اور اس زمانہ میں مآرب کے مقام پر ایک “سد” (ڈیم) تیار کیا جو موجودہ دور میں مصر کے اسوان کے ڈیم سے مماثلت رکھتا تھا۔
العروض: یہ علاقہ یمامہ، عمان اور بحرین پر مشتمل ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ یمن، نجد اور عراق کے درمیان حدِ فاصل ہے عمان اور بحرین پہلے جزیرہ عرب سے علیحدہ تھے اور اس کی دو وجہیں تھیں ایک طبیعی اور دوسری سیاسی، طبیعی وجہ تو یہ تھی کہ ان کے درمیان اور جزیرہ عرب کے درمیان لق و دق صحرا، جنگل اور خشک ریگستان حائل تھے۔ سیاسی وجہ یہ تھی کہ عمان اور بحرین حکومت ایران جو ایک غیر عرب مملکت تھی اس کے زیر نگین تھے۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد اول، خلاصہ صفحہ 5-6)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲