قسط نمبر 80 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ اول}
ملک عرب ایک جزیرہ نما ہے جو ایشیا کے برّاعظم کے انتہائی جنوب مغربی حصہ میں واقع ہے انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس کا حدود اربعہ یوں تحریر کیا ہے۔ اس کے جنوب مغرب میں بحر احمر جنوب میں خلیج عدن اور بحیرہ عرب ، شمال مشرق میں خلیج عمان اور خلیج فارس ( خلیج عرب ) واقع ہے، اس کی شمالی سرحد جو خلیج فارس کے دہانہ سے شروع ہو کر خلیج عقبہ تک چلی گئی ہے یہ پوری طرح واضح نہیں۔ اگرچہ سعودی عرب کی مملکت اور کویت کی سرحدوں کو جزیرہ عرب کی شمالی سرحد کہا جاتا ہے، ان مذکورہ حدود کے مطابق صحرائے شام، جزیرہ عرب کا حصہ نہیں لیکن در حقیقت معاملہ اس کے بر عکس ہے یہ علاقہ اپنی طبعی اور جغرافیائی خصوصیات اور آبادی کے لحاظ سے جزیرہ عرب ہی کا حصہ ہے، قدیم اور جدید جغرافیہ دان بالاتفاق اسے جزیرہ عرب کا حصہ شمار کرتے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کا رقبہ تقریباً دس لاکھ مربع میل ہے، جو فرانس کے رقبہ سے دو گنا ہے، اس کی سب سے طویل سرحد وہ ہے جو بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلی گئی ہے اس کا طول چودہ سو میل ہے اس کا سب سے زیادہ عریض وہ علاقہ ہے جو یمن سے عمان تک چلا گیا ہے، جس کی چوڑائی بارہ سو پچاس میل ہے موجودہ دور میں جزیرہ عرب سیاسی طور پر مندرجہ ذیل مملکتوں میں منقسم ہے۔ سعودی عرب، یمن، مسقط، اومان، عدن، جو پہلے انگریزی استعمار کے زیر نگین تھا اور یمن سے علیحدہ ایک انگریزی نو آبادی تھی اب یہ آزاد ہو گیا ہے اور یمن کی عظیم بندر گاہ ہے۔ متحدہ عرب امارات جو دوبئی، ابوظہبی، قطر، بحرین پر مشتمل ہیں نیز کویت لبنان ، اردن ، شام اور فلسطین جس کے کچھ حصہ پر اسرائیل نے اپنا غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے بیت المقدس بھی اس حصہ میں واقع ہے یہ مملکتیں جزیرہ عرب کے شمال مغربی حصہ میں واقع ہیں۔ سعودی عرب کی سرحدیں اردن اور عراق سے ملحق ہیں اور خلیج عقبہ کے سرے پر اس کی حدود مصر اور اسرائیل سے بھی جاکر ملتی ہیں۔
(انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا مطبوعہ 1962ء، جلد 2، صفحہ 128 – 129)
جرجی زیدان نے اپنی کتاب ” العرب قبل الاسلام ” میں تحریر کیا ہے کہ تاریخ قدیم میں مصر کے فراعنہ، اشوریین، اور فینیقیین کے عہد میں ان صحرا نشینوں کو عرب کہا جاتا تھا، جو جزیرہ عرب کے شمالی حصہ میں اور وادی نیل کے مشرقی حصہ میں آباد تھے یعنی مشرق میں دریائے فرات اور مغرب میں دریائے نیل کے درمیانی دو آبہ کو عرب کہا جاتا تھا اس میں عراق کے ریگستان، ملک شام اور سینا اور مشرقی ڈیلٹا کے ساتھ متصل علاقے بھی یعنی نیل اور بحر احمر کے درمیانی علاقہ کو بھی جزیرہ عرب کا حصہ شمار کیا جاتا تھا۔ جرجی زیدان نے مشہور مورخ ہیرو دونس سے نقل کرتے ہوئے اپنی کتاب “العرب قبل الاسلام “میں یہ تحریر کیا ہے۔
(العرب قبل الاسلام ،صفحہ 41)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲