Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 76 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

تذکرہ (حصہ: تہتّر)
{چین : حصہ دوم}
(چین سیاسی حالات، معاشرہ اور مذہب)

سیاسی حالات: تاج و تخت شاہی خاندان میں موروثی ہوتا ۔ لیکن بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین نہ ہوتا بلکہ اس کے بھائی کو تاج شاہی پہنایا جاتا بادشاہ کی اہم ذمہ داریوں میں فوج کی قیادت تھی وہی ملک کی افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی اور دیگر تقریبات بھی بادشاہ ہی انجام دیتا۔ پروہتوں کی ایک تعلیم یافتہ جماعت اس سلسلہ میں اس کی مدد کرتی۔ وہ پروہت علم نجوم کے ماہر ہوتے۔ مذہبی رسوم ادا کرنے کے لئے بادشاہ کی اعانت اور راہنمائی کرتے ان کے ہاں جو کیلنڈر (جنتری) رائج تھا وہ شمسی نہیں بلکہ قمری تھا۔ چاند کے مہینوں کا کیلنڈر تیار کرنا ان پروہتوں کی ذمہ داری تھی۔

معاشرہ: چینی معاشرہ کی خشت اول (ابتداء سے ہی) خاندان تھا۔ عام لوگ صرف ایک شادی کرتے لیکن بادشاہ اور امراء کے حرم میں متعدد بیویاں ہوتیں ان پر کوئی پابندی نہ تھی اعلیٰ خاندانوں میں عورت کو بڑی عزت و وقار حاصل تھا۔ غلامی کا رواج تھا اور معاشرہ متعدد طبقات میں منقسم تھا۔

مذہب: شانگ خاندان کے دور حکومت میں چین کے لوگ مختلف مظاہر فطرت کی پوجا کیا کرتے تھے زمین، دریا، ہوائیں اور سمتیں مشرق و مغرب وغیرہ ان کے معبود تھے ان کے لئے قربانیاں دینے کا عام معمول تھا۔ عام طور پر جانوروں کا گوشت جلا دیا جاتا شراب بھی ان کی پسندیدہ قربانی تھی ۔ شانگ اگرچہ مہذب اور متمدن تھے لیکن ان کے ہاں اپنے دیوتاؤں کی قربان گاہ پر انسانی قربانی کا رواج عام تھا عموماً جنگی قیدیوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا۔ بسا اوقات فوجی مہمیں صرف اس مقصد کے لئے بیرون ملک بھیجی جاتیں کہ وہ غیر چینیوں کو قید کر کے لے آئیں تاکہ ان کو قربانی کے طور پر ان کے معبودوں کے لئے ذبح کیا جائے۔ وہ صرف ایسے دیوتاؤں کی پوجا پاٹ کیا کرتے جن کا تعلق ان کے خیال کے مطابق بر وقت بارش برسانے ،عمدہ فصلیں اگانے اور جنگوں میں دشمن کو شکست دینے سے ہوا کرتا ان کے دیوتا کا نام شانگ ٹی(SHANG-T) تھا یہ سارے کام اس کے سپرد تھے اور آخر وقتوں تک اس کی پوجا پاٹ ہوتی رہی اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کے مذہب کی بنیاد روحانیت یا اخلاقیات پر تھی اس کا سارا تعلق انسانی معاشرہ کی خوشحالی اور بہبودی سے تھا جس طرح بابل اور نینوا کے مذاہب تھے۔ وہاں بھی جن معبودوں کی پرستش کی جاتی تھی ان سے ان کے پجاری یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ ان کو قلب کی روشنی، روح کا اطمینان یا اخلاق فاضلہ کے اصولوں کی تعلیم دیں گے۔ بلکہ وہ ان سے صرف اس بات کے امیدوار تھے کہ ان کی وجہ سے ان کی مالی حالت بہتر ہو جائے، معاشرہ میں ان کو بلند مقام نصیب ہو جائے، ان کی زراعت ترقی پذیر ہو اور ان کی تجارت میں روز افزوں اضافہ ہو۔مصر کے حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اہل مصر، فرعون کو الٰہ سمجھتے تھے اور اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ لیکن چین میں بادشاہوں کو یہ حیثیت حاصل نہ تھی ۔ جب تک وہ زندہ رہتے اور تخت حکومت پر متمکن رہتے ان کے احکام کی تعمیل صرف اس لئے کی جاتی کہ یہ احکام ملک کے فرمانروا کے احکام ہیں ان کو الہی احکام کی حیثیت حاصل نہ ہوتی۔ لیکن بادشاہ جب مر جاتا تو پھر اس کی پوجا شروع ہو جاتی مرنے والے بادشاہوں اور ان کی بیویوں کے لئے قربانیاں دی جاتیں۔ زر کثیر صرف کر کے بادشاہوں کے لئے بڑے بڑے مقبرے تیار کئے جاتے اس کے لئے ایک بہت گہرا گڑھا کھودا جاتا اس میں سیٹرھیاں بنائی جاتیں اور لکڑی کا ایک کمرہ اس کی تہہ میں تعمیر کیا جاتا شاہی لاش کے اردگرد بڑا قیمتی ساز و سامان سجایا جاتا تانبے، پیتل اور مٹی کے مجسمے رکھے جاتے اور ایسی چیزیں رکھی جاتیں جن کو قیمتی موتیوں اور ہیروں سے مزین کیا جاتا۔ تجہیز و تدفین کی رسوم ادا کرنے کے بعد اس وسیع گڑھے کو مٹی سے بھر دیا جاتا اور اس کے فرش کو مضبوطی سے کوٹ دیا جاتا۔ چینیوں میں ان فطری طاقتوں کے مظاہر کے علاوہ اپنے اسلاف کی پوجا کا بھی عام رواج تھا ان کا یہ اعتقاد تھا کہ ان کے اسلاف کی روحیں اپنی آنے والی نسلوں کو نفع بھی پہنچا سکتی ہیں اور نقصان بھی اور ان اسلاف کو خوش و خرم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ ان کے نام سے کھانا پکایا جائے چین کے عوام بھی اپنی میت کے ساتھ قیمتی اشیاء کو دفن کر دیا کرتے تھے مالی لحاظ سے کمزور لوگ بھی اپنی بساط کے مطابق اس رواج کی حتی الوسع پابندی کیا کرتے تھے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top