قسط نمبر 75 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ اول}
چین اور چینی معیشت: اپنے رقبہ کی وسعت اور آبادی کی کثرت کے باعث یہ ملک دنیا کے تمام ممالک پر فوقیت رکھتا ہے 1966ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پچھتر اور ستتر کروڑ کے درمیان تھی۔ اور 1980ء میں چین کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس کا رقبہ جس پر کمیونسٹ حکومت کا قبضہ ہے تیس لاکھ اسی ہزار مربع میل ہے اور تائیوان کا جزیرہ جس پر چینی قومی حکومت قائم ہے اس کا رقبہ چودہ ہزار مربع میل ہے اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے روس اس سے بڑا ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے روس یا کینیڈا کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔ یہ ملک جتنا وسیع ہے اتنی ہی اسکی ثقافت اور تہذیب قدیم ہے یہاں پہاڑ کی ایک چوٹی چوبیس ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند ہے جو دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اس کے شمال مغرب میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ نشیبی علاقہ ہے جو سطح سمندر سے پانچ سو پانچ فٹ گہرا ہے اور طرفان کے نشیب کے نام سے مشہور ہے دیوار چین جو ڈیڑھ ہزار میل لمبی ہے اور ملک کے شمالی صوبوں میں سے گزرتی ہے اس کے راستہ میں پہاڑ بھی ہیں، میدان بھی، صحرا بھی ہیں اور وادیاں بھی اس کو بنے ہوئے دو ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے اُس وقت اس کی دفاعی اہمیت بہت زیادہ تھی اس کی وجہ سے اس کے شمال میں بسنے والے قبائل جو ملک کے دوسرے علاقوں پر حملہ آور ہوتے قتل و غارت کا بازار گرم کرتے اور لوگوں کی دولت لوٹ کر لے جاتے ان کی یلغاروں کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ملک میں امن و امان بحال ہو گیا۔ اب اگرچہ اس کی پہلی دفاعی حیثیت تو باقی نہیں رہی لیکن اپنے بنانے والوں کی عظمت بلند ہمتی اور فن تعمیر میں ان کی مہارت کی یہ روشن دلیل ہے۔ اہل چین کی سائنسی ایجادات اور انکشافات عہد قدیم سے ہی بڑے حیرت انگیز ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جب دنیا کے اکثر ممالک جہالت اور نا خواندگی کے اندھیروں میں لپٹے ہوئے تھے اس وقت بھی چین کے طول و عرض میں علم کی شمعیں فروزاں تھیں۔ چینیوں نے ہی کوئلہ کو بطور ایندھن استعمال کرنا شروع کیا تھا۔چوتھی صدی عیسوی میں انہوں نے لوہے کو پگھلانے کے فن میں مہارت حاصل کی ان کے ماہرین فلکیات نے 28 قبل مسیح میں سورج کے قرص پر جو داغ ہیں ان کا سراغ لگایا انہوں نے 132ء میں وہ آلہ ایجاد کیا جس سے زلزلہ کی جگہ اور اس کی قوت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے بارود کے اجزاء بھی انہوں نے دریافت کئے اس وقت بارود انسانوں کے جسموں کو پرزے پرزے کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے گولے اور پٹاخے چھوڑے جاتے تھے تاکہ خبیث روحوں کو خوفزدہ کر کے بھگا دیا جائے۔ دوسری صدی عیسوی میں انہوں نے درختوں کی چھال، سن کے ریشوں، اور پرانے کپڑوں سے کاغذ بنانے کی صنعت ایجاد کی اس صنعت نے علم و دانش کی نشر و اشاعت میں انقلاب آفریں حصہ لیا اور اس سے پانچ سو سال بعد بلاکوں کے ذریعہ کتابوں کی طباعت کا کام شروع کیا دسویں صدی عیسوی میں نہ صرف چین میں بلکہ کوریا اور جاپان میں بھی کتابوں کی بکثرت اشاعت کا آغاز ہو گیا تھا۔ چین میں بدھ مت کی اشاعت کے بعد چینیوں کی ذہنی اور فنی ترقی کو چار چاند لگ گئے انہوں نے صرف مذہب کو ہی نہیں بلکہ موسیقی کو بھی بڑا فروغ بخشا۔
(ورلڈ سولائزیشن از ای ایم برنز اور پی ایل رالف ،صفحہ 114)
چینی معیشت: اگرچہ سائنسی انکشافات اور صنعتی ایجادات میں ان کے علما و فضلاء نے عظیم الشان کارنامے انجام دیئے لیکن ان کی عوامی معیشت کا دار و مدار زراعت پر تھا۔ ان کی زراعت کے طریقے بہت پرانے تھے ان کے آلات کشاورزی بھی قدیم طرز کے تھے وہاں گندم، باجرا ،چاول کی کاشت ہوتی تھی اس کے علاوہ لوگ مویشی پالتے تھے۔ ان کا دودھ اور گوشت خوراک کے کام آتا تھا۔ کتے اور سُوّر کا گوشت ان کے ہاں بہت پسند کیا جاتا تھا تیر اور کمان ان کے بہترین ہتھیار تھے حالت جنگ میں ان ہتھیاروں سے وہ دشمنوں کا مقابلہ کرتے اور حالت امن میں انہی ہتھیاروں سے وحشی جانوروں کا شکار کیا کرتے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲