قسط نمبر 74 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ اکیسواں}
(اخلاقی اور معاشی حالات)
اخلاقی حالت: آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ آئے ہیں کہ”سوما” کے پودے کو تمام پودوں کا بادشاہ کہا جاتا اور اس سے کشید کی ہوئی شراب کو پجاری پی کر پوجا کیا کرتے۔ سوما، خود بھی ان کے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی کیونکہ اس سے ایسی عمدہ اور نشہ آور شراب بنتی تھی جسے پی کر انسان سرمست و مخمور ہو جاتا۔ یہ بھی آپ پڑھ آئے ہیں کہ بڑے بڑے مندروں میں دیوداسیوں کے طائفے ہوتے تھے جو ان مورتیوں کے سامنے رقص کیا کرتیں اور گیت گایا کرتیں اور مندر کے پروہت کو اختیار تھا کہ وہ کسی پجاری کو شاد کام کرنے کے لئے کسی دیوداسی کو اس کے پاس شب بسری کے لئے بھیج دے۔ علامہ بیرونی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے مسٹر ویدیا، جو ہندو مورخ ہیں وہ لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ تمام مندروں میں پیشہ ور عورتیں ناچنے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کئے ہوئے تھیں۔ خاص کر شیو جی کے مندروں میں یہ رسم عام تھی اور راجے ان مندروں سے خاص آمدنی حاصل کرتے تھے۔
(مسلم ثقافت، صفحہ 36)
آج بھی ان کے قدیم مندروں کو دیکھا جائے تو ان مندروں کے باہر اور اندر عورتوں کی برہنہ تصویریں اور برہنہ مجسمے جگہ جگہ نظر آتے ہیں مہادیو کے عضو تناسل کی پوجا ان کے ہاں عام ہوتی ہے۔ جس میں مرد و زن پیر و جواں سب شریک ہوتے ہیں اور اس کی شبیہ بنا کر اپنے گلے میں آویزاں رکھتے ہیں سوامی دیانند سرسوتی اپنی کتاب “ستیارتھ پرکاش” میں لکھتے ہیں۔ حقیقت میں ہندوؤں کی خرابی کے آثار مہا بھارت کی جنگ سے ایک ہزار سال پیشتر ہی رونما ہو چکے تھے جہا بھارت کی جنگ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوا، دھڑلے سے کھیلا جاتا تھا۔ جس میں بیویاں اور سلطنتیں تک داؤ پر لگادی جاتی تھیں۔ اچھی خاصی عالی خاندان کی عورتیں بیک وقت پانچ پانچ خاوند کر لیتی تھیں۔
(مسلم ثقافت، صفحہ 40)
سوامی دیانند کے حوالہ سے ہی مولانا سالک لکھتے ہیں۔ اب ان خود غرض مذہبی پیشواؤں نے ایسے باطل مذہبوں کی تلقین شروع کی جس سے کوئی بد اخلاقی گناہ نہ رہی۔ زناکاری کی نہ صرف عام اجازت دے دی گئی بلکہ ایک خاص موقع “بھیرویں چکر” پر شراب خوری اور زنا کاری مذہباً فرض قرار دے دی گئی اس موقع پر مرد و عورت سب ایک جگہ جمع ہوتے مرد ایک ایک عورت کو مادر زاد برہنہ کر کے پوجا کرتے اور عورتیں کسی مرد کو ننگا کر کے پوجتیں اس موقع پر شراب پی جاتی اور بدمست ہو کر کوئی کسی کی عورت کو، کوئی اپنی یا کسی دوسرے کی لڑکی کو ، کوئی کسی اور کی یا اپنی ماں، بہن، بہو وغیرہ کو، جو وہاں موجود ہوتی پکڑ لیتا اور جس کے ساتھ چاہتا بد فعلی کر سکتا تھا۔ اس مذہبی تقریب کے علاوہ عام طور پر زنا کاری کے لئے ایک خاص فقرہ مقرر کیا گیا تھا جس کو پڑھ کر ہر مرد عورت ” سماگم ” (ہم بستری ) کرتے تھے اور ایسی بدکاری میں کسی رشتہ کے لحاظ کی ضرورت باقی نہ رہتی تھی۔
(مسلم ثقافت ،صفحہ 41)
ان کی عام بود و باش: اس کے بارے میں البیرونی کا ایک اقتباس پہلے درج کیا جا چکا ہے جس میں ان کی بود و باش کی تفصیلات مذکور ہیں جنہیں کوئی سلیم الطبع انسان اپنے لئے پسند کرنے کے لئے تیار نہیں۔
معاشی حالات: آپ پڑھ آئے ہیں کہ آریوں نے کسب معاش کے لئے دو طریقے اختیار کئے ہوئے تھے وہ جانوروں کا شکار کرتے۔ اور ان کے گوشت سے اپنی خوراک کا انتظام کرتے اور ان کے چمڑوں کو مختلف ضروریات کے لئے کام میں لاتے۔ ان کا دوسرا پیشہ گلہ بانی اور مویشی پالنا تھا لیکن ہندوستان میں آباد ہونے کے بعد انہوں نے زراعت کو اپنا پیشہ بنالیا۔ پنجاب کے زرخیز میدان ، گنگا اور جمنا کے درمیان کا زرخیز علاقہ، ان کے تسلط میں تھا جہاں وہ کھیتی باڑی کرتے تھے ضرورت کے مطابق اجناس خوردنی کی کاشت کرتے جو اناج پیدا ہوتا اس میں سے کچھ حصہ حکومت کو بطور خراج ادا کرتے اور بقیہ اناج سے اپنی ضروریات پوری کرتے اس وقت عالی شان محلات اور بڑے بڑے شہروں کو آباد کرنے کا عام رواج نہ تھا۔ لوگ کچے مکان یا سر کنڈے کی جھونپڑیاں بنا کر گاؤں میں اپنی زندگیاں بسر کرتے لباس کے لئے دھوتی استعمال کرتے اور بعض لوگ دو بالشت چوڑی لنگوٹی کے استعمال پر قناعت کرتے۔ سوامی دیانند کے قول کے مطابق ہندوؤں میں قمار بازی (جوا بازی) اور سود خوری عام تھی۔ براعظم ایشیاء کے اس عظیم ملک میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا نقشہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ یہ نا گفتہ بہ حالات تھے جب مسلمانوں نے یہاں قدم رنجہ فرمایا اور اس کو سونے کی چڑیا بنا دیا۔
نظر ثانی حرم مکہ مکرمہ جنوب مشرقی بر آمدہ میں جہاں سے کعبہ مشرفہ دل و نگاہ کو منور کر رہا ہے۔
“اَلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِيۡنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَحْمَةٍ لِّلْعٰلَمِيۡنَ وَ عَلٰى اٰلِهٖ وَصَحۡبِهٖ وَحَمۡلَةِ لِوَآءِ دِيۡنِهٖ اِلٰى يَوْمِ الدِّيۡنِ”
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲