Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 73 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: ستر)
{ہندوستان : حصہ بیسواں}
(سیاسی حالات)

اگرچہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے آثار قدیمہ کے بر آمد ہونے سے ہمیں یہ تو معلوم ہو گیا کہ ان علاقوں میں ایک اعلیٰ قسم کی تہذیب موجود تھی یہاں کے رہائشی مکانوں کے نقشے، ان میں علیحدہ غسل خانوں کا موجود ہونا، جنوباً شمالاً متوازی وسیع شاہراہیں اور ان سے نکلنے والی چھوٹی گلیاں استعمال شدہ پانی کی نکاسی کا عمدہ انتظام اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی ہیں کہ وہاں کا نظام حکومت بڑا ترقی یافتہ تھا۔ لیکن ابھی تک ان کے نظام حکومت پر کیونکہ پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس لئے ہم اس کے بارے میں مزید وضاحت سے قاصر ہیں۔ لیکن جب آریوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو جو قبیلہ جہاں آباد ہوتا گیا قبائلی نظام کے مطابق وہاں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوتی گئیں اس لئے آریوں کے ابتدائی عہد میں ہمیں ہندوستان کا ملک ان گنت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا معلوم ہوتا ہے ہر قبیلہ کا سردار، ان کا راجہ ہوتا تھا اس کو مشورہ دینے کے لئے قبیلہ کے بزرگوں کی ایک کونسل تشکیل دی جاتی تھی اور راجہ فرائض جہاں بانی انجام دینے میں ان سے مدد لیا کرتا تھا۔ اس کے باوجو راجہ مختارِ مطلق تھا۔ اس کا یہ حق تھا کہ وہ جس طرح چاہے رعایا سے مالیہ اور دیگر ٹیکس وصول کرے۔ لیکن اس کی یہ ذمہ داری نہ تھی کہ وہ اپنی قوم یا قبیلہ کے سامنے تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ کہ اس نے ان کے ادا کردہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی دولت کہاں کہاں خرچ کی ہے۔ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق بھی نہیں تھا ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں باہمی چھیڑ چھاڑ ہوتی رہتی تھی جو بسا اوقات قومی جنگ میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ خون کے دریا بہتے کشتوں کے پشتے لگتے۔ گاؤں اور قصبوں کو نذر آتش کر دیا جاتا جب بدھ حکمرانوں کی یہاں حکومت قائم ہوئی تو اشوکا اور ہرش جیسے عالی ہمت راجوں نے ہندوستان کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ایک عظیم مملکت میں تبدیل کر دیا ان کے بعد جب ہندو مت نے دوبارہ زور پکڑا اور گپتا خاندان کے بادشاہوں، چندر گپتا اور اس کے جانشینوں نے ہندوستان کو متحد کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن اس خاندان کے زوال کے بعد ہندوستان کا وسیع و عریض ملک پھر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل ہو گیا۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ذات پات کے نظام نے ہندوؤں میں ایک قومیت کے تصور کو پنپنے نہ دیا۔ آریہ حملہ آوروں نے ہندوستان کے اصلی باشندوں کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک روا رکھا۔ اس کے بارے میں آپ پڑھ آئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے قدیم باشندوں کو چوتھے طبقے میں شمار کیا۔ جسے وہ بڑی حقارت اور ذلت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ انہوں نے ان کی ترقی اور خوشحالی کی ساری راہیں مسدود کر دی تھیں۔ انہیں شودر بنا دیا تھا ان حالات میں آریوں کے لئے ان کے دل میں ہمدردی اور اخوت کے جذبات کیونکر پیدا ہو سکتے تھے۔ اس کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان کی طویل تاریخ میں چند مخصوص صدیوں کے علاوہ کوئی منتظم حکومت قائم نہ ہو سکی اور کبھی بھی ان کے درمیان ایک قومی نظریہ جڑیں مستحکم نہ کر سکا۔ اس کے علاوہ اس ملک میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی تھیں رہن سہن کے اطوار جدا جدا تھے۔ خوشی اور غم کی تقریبات علیحدہ علیحدہ تھیں ۔ اور تو اور جن خداؤں کی وہ پوجا کرتے تھے ان میں بھی کوئی ریگانگت نہ تھی۔ ہر گاؤں کا علیحدہ دیوتا ہوتا اور گاؤں والوں کی ہر ضرورت پوری کرنے کے لئے علیحدہ علیحدہ بت ہوتے ان بے شمار اختلافات نے ہندوستان کو ایک ملک یا ایک مملکت اور اس کے باشندوں کو ایک قوم بننے نہ دیا۔

معاشرتی حالات: آپ یہ پڑھ آئے ہیں کہ کئی سو سال قبلِ مسیح جب بھارت میں برہمنی تہذیب اپنے شباب پر تھی اس زمانہ میں ہندی معاشرہ کے لئے ایک دستور مرتب کیا گیا جس میں سیاسی، تمدنی اور اخلاقی قواعد و ضوابط کی وضاحت کر دی گئی ملک بھر کے دانشوروں نے اسے بنظر استحسان دیکھا اور اسے ایک آئینی اور قانونی دستاویز کی حیثیت سے قبول کر لیا اس وقت سے لے کر آج تک ہندو دھرم کے پرستار اپنے تمام معاملات میں اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اس دستور کے مصنف “منوجی ” ہیں انہیں کے نام پر اس کتاب کو “منو شاستر” کہا جاتا ہے اور یہ دستور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے تین سو سال قبل مرتب کیا گیا۔ اس متفقہ طور پر منظور شدہ قانونی اور آئینی دستاویز نے اہلیان ہند کو چار طبقات میں تقسیم کر دیا۔ برہمن، کھشتری، ویش اور شودر ۔”انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا” کا مقالہ نگار برہمن ازم (BRAHMANISM) کے عنوان کے تحت جلد 2 صفحہ نمبر 1011 پرقمطراز ہے۔ منوجی کے مرتب کردہ صحیفہ قانون کو ایک آسمانی تقدس حاصل ہو گیا تھا۔ اس کے قوانین ہر شک و شبہ سے بالا تر اور ہر تنقید سے ماورا تھے۔ منو شاستر میں تمام طبقات کی درجہ بندی کر دی گئی۔ اور تفصیل سے ہر طبقہ کے فرائض بیان کر دیئے گئے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سزائیں بھی مقرر کر دی گئیں۔ مقالہ نگار کے مندرجہ ذیل جملے آپ کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔
یعنی جرائم کا ارتکاب اگر برہمن کرے تو ان کی سزاؤں میں غیر معمولی نرمی ملحوظ رکھی گئی ہے اگر نچلے طبقہ کا کوئی فرد اعلیٰ طبقہ کے حکم کو پامال کرے تو اس کے لئے بڑی وحشیانہ اور غیر انسانی سزائیں مقرر ہیں۔ معاشرہ میں مجرم کا درجہ جتنا گھٹیا ہوتا اتنی ہی اسے سزا سخت دی جاتی۔ اگلے صفحہ پر مقالہ نگار لکھتا ہے۔ منو کے آئین کے مطابق شودروں کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا بھی حق حاصل نہیں ایسا اجتماع جس میں نیچ قوم کا کوئی فرد موجود ہو وہاں برہمن کو بھی اجازت نہیں کہ وہ مقدس کتابوں کی تلاوت کرے۔ ایک ہی قوم کے افراد میں قانون کی یہ ناہمواری عدل و انصاف کے تصور کو ہی ختم کر دیتی ہے البیرونی اپنے پندرہ سالہ تجربات اور چشم دید مشاہدات کی روشنی میں لکھتے ہیں۔ شودر کی حیثیت برہمن کے غلام کی ہے۔ اس کو برہمن کے کام میں مصروف رہنا اور اس کی خدمت کرنا چاہیے، ہر وہ کام جو برہمن کے لئے مخصوص ہے مثلا مالا جپنا، وید پڑھنا، آگ کی قربانی، شودر کے لئے منع ہے اگر شودر یا ویش کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے وید پڑھا ہے تو برہمن اس کی اطلاع حاکم کو دے اور حاکم اس کی زبان کاٹ دے۔
(تحقیق ماللہند البیرونی، صفحہ 457)

جناب عبدالمجید سالک، منوسمرتی باب اول منتر 92 تا 101 کے حوالہ سے برہمن کی برتری کے بارے میں لکھتے ہیں: منوجی نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ دنیا میں برہمن سے برتر کوئی نہیں وہ دھرم کی مورت، نجات کا حق دار اور دھرم کے خزانہ کا محافظ ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے سب برہمن کے لئے ہے۔
(مسلم ثقافت ،صفحہ 38- 37)

مولانا سالک ہی نے منوسمرتی چوتھا، آٹھواں اور دسواں ادھیائے کے حوالہ سے شودر پر عدل و انصاف کے نام پر جو ستم ڈھائے جاتے تھے ان کا تذکرہ کیا ہے جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جس نے یہ قانون وضع کئے اور جس قوم نے بلا چوں و چرا اس کو تسلیم کیا اور ہزاروں سال اس پر عمل پیرا رہی، اس کی سنگدلی کے بارے میں پڑھ کر انسان سراسیمہ اور پریشان ہو جاتا ہے لکھتے ہیں کہ شودر برہمن کا پس خوردہ (بچا ہوا کھانا) کھائے۔ شودر مہینہ میں صرف ایک دفعہ حجامت بنوائے ۔ شودر کسی برہمن کو چور کہے تو اس کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دینا چاہئے۔ شودر کسی برہمن کھشتری اور ویش کے ساتھ سخت کلامی کرے تو اس کی زبان میں سوراخ کر دیا جائے اگر شودر کسی برہمن کا نام لے کر کہے کہ تو فلاں برہمن سے نیچ ہے تو اس شودر کے منہ میں بارہ انگلی کی آہنی میخ آگ میں سرخ کر کے ڈالی جائے۔ اگر چھوٹی ذات کا آدمی بڑی ذات کے آدمی کے ساتھ ایک آسن پر بیٹھے تو اس کے چوتڑ کاٹ ڈالنا چاہئے ۔ اس طرح کہ وہ مرے نہیں شودر کسی برہمن کے بال یا پاؤں یا ڈاڑھی پکڑے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے شودر کو کوئی صلاح مشورہ نہ دو دھرم اور بھرت کی تلقین بھی نہ کرو جو شودر کو دھرم کی تلقین کرتا ہے وہ بد ترین دوزخ میں جاتا ہے۔
(مسلم ثقافت، صفحہ 39- 38)

شودروں کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مندروں میں داخل ہو کر پوجا پاٹ کر سکیں نہ انہیں اس بات کی اجازت ہے کہ ان کنوؤں سے پانی بھر سکیں جن سے اونچی ذات کے ہندو پانی بھرتے ہیں وہ عام شہروں میں بھی نہیں رہ سکتے بلکہ شہروں سے الگ تھلگ ان کی مخصوص آبادیاں ہوتی ہیں۔ جس معاشرہ میں اس قسم کی ظالمانہ اور جابرانہ طبقاتی تقسیم موجود ہو بعض طبقے مراعات یافتہ ہوں اور بعض طبقے ہر رعایت سے محروم اور ہر قسم کی محرومی اور نامرادی میں محصور رہیں اور اس ظالمانہ تقسیم کی بنیاد ان کا مذہب اور ان کی آسمانی کتاب ہو تو اس معاشرہ کی زبوں حالی کے بارے میں کچھ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

مرد اور عورت: ایک ہی طبقہ کے مرد و زن کے حقوق بھی یکساں نہیں تھے۔ عورت مرد کی ایک تابع مہمل تھی۔ اگر اس کا خاوند عنفوان شباب میں ہی مرجائے تو اس کے لئے باعزت اور بہترین طریقہ یہ تھا کہ وہ مرد کی لاش کے ساتھ ہی جل کر ستی ہو جائے اور اگر وہ اپنے آپ کو جلا دینے کی جرأت نہیں کر سکتی تو اسے ساری عمر ایسی زندگی بسر کرنا ہوگی جس میں اسے نہ اچھا لباس پہنے کی اجازت ہوگی نہ وہ زیورات سے اپنی آرائش کرنے کی مجاز ہوگی۔ اسے دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ خواہ وہ اس وقت بیوہ ہوئی ہو جب کہ اس نے ابھی جوانی میں قدم رکھا ہو ۔ عورت زیورات کی مالک تو ہو سکتی ہے لیکن کسی غیر منقولہ جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی۔ عورت ہر حالت میں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھی بچی تھی تو باپ کے حکم کی پابند، بیاہی گئی تو خاوند کے ہر حکم کی پابند ، با اولاد ہو گئی تو بچوں کا ہر حکم ماننا اس پر واجب۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ مرد سے پہلے نہ سوئے اور مرد کے بیدار ہونے سے پہلے جاگ اٹھے آریوں کے نزدیک تعدد ازواج کی اجازت تھی چار عورتوں سے بیک وقت وہ شادی کر سکتے تھے اور ان کے راجے مہاراجے ہر قسم کی پابندی سے بالا تر تھے۔ انہیں ان گنت عورتوں کے ساتھ شادیاں رچانے کی کھلی چھٹی تھی۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top