بدھ مت: جین مت سے بھی زیادہ اہم اور اثر آفرین بدھ مت کی تحریک تھی جس کے بانی کا نام “گوتم” یا “گوتما” تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں شمالی ہند کے معاشرتی اور سیاسی حالات کے بارے میں ایک محقق “کوسمبی” (D.D.KOSAMBI) کے حوالہ سے ٹریور لنگ، اپنی کتاب “ہسٹری آف ریلیجن” میں لکھتا ہے۔اس وقت قبائلی حکومتیں جن کا سربراہ راجہ ہوا کرتا تھا، وہ اپنی کونسل کے تجربہ کار اور کہنہ سال ممبروں کے مشورہ سے حکومت کے فرائض انجام دیا کرتا تھا۔ ایسی حکومتیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں اور بڑے بڑے بادشاہ وسیع علاقوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ ان بادشاہوں کے حکمرانی کے طور طریقے قبائلی راجوں کے طریقوں سے بالکل مختلف تھے پرانی قسم کے لوگ ان نئے حالات میں اپنے آپ کو ذہنی پراگندگی کا شکار محسوس کرنے لگے اس وقت یہ سوالات لوگوں کو پریشان کر رہے تھے اور وہ ان کے جوابات معلوم کرنے کے لئے از حد بے چین اور بے قرار رہتے تھے۔
1) روح کی حقیقت کیا ہے؟
2) بعد از مرگ انسان کا مقدر کیا ہو گا؟
3) انسان کیوں رنج والم میں گرفتار ہوتا ہے؟ اور وہ بھی بسا اوقات بلا وجہ
4) ان مصائب سے نجات کی راہ کیا ہے؟
5) خیر اعلیٰ کیا ہے۔ اور اسے کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟
یہ حالات تھے جب 563 ق م میں گوتم پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں زرتشت ایران میں اپنے نظریات کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرم تھا۔ نیپال، بھارت کے سرحدی علاقہ میں ساکیا (SAKYA) کا قبیلہ حکمران تھا۔ اس قبیلہ کے راجہ نے گنگا کے شمالی کوہستانی علاقہ میں قبائلی ریاستوں کا ایک مضبوط وفاق قائم کر دیا تھا۔ اس حکمران کے گھر 563 ق م میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام گوتم یا گوتما رکھا گیا اور جو آگے چل کر بدھ یعنی روشن ضمیر کے لقب سے چار دانگ عالم میں معروف ہوا۔ گوتم نے اس شاہانہ ماحول میں پرورش پائی اپنی رعایا اور معاشرہ کے عام حالات کو دیکھ کر وہ گہری سوچ میں مستغرق ہو جاتا ایک بار پے در پے چند ایسے واقعات پیش آئے جس نے اسے بے چین کر دیا، ایک بار اس نے پہلے ایک پیر فرتوت کو دیکھا جس کی قوتیں جواب دے گئی تھیں اور بڑھاپے کی کمزوریوں اور ناتوانیوں نے اس کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھا کر چل رہا تھا تھوڑی دیر بعد اس کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو ایک موذی اور انتہائی تکلیف دہ بیماری کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا اور کراہ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے دیکھا کہ ایک مردہ کی لاش اس کے احباب جلانے کے لئے مرگھٹ کی طرف لے جا رہے ہیں اس کے رشتہ دار اور دوسرے دوست سر جھکائے بڑی خاموشی سے چلتے جا رہے ہیں ان مناظر نے اسے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا پے در پے ان المناک مناظر کو دیکھنے کے بعد اس کی نظر ایک تارک الدنیا جوگی پر پڑی جو بڑے اطمینان اور سکون سے سڑک پر چلا جا رہا تھا۔ گویا وہ ہر قسم کے غم و اندوہ سے آزاد ہے اس سے بھی وہ بہت متاثر ہوا آخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی اس شاہانہ شان و شوکت کو اس شاندار اور آرام دہ قصر شاہی کو چھوڑ کر کسی ایسے کامل کی تلاش میں نکلے جو اسے اس جوگی کی طرح ہر قسم کے تفکرات اور آلام و مصائب سے نجات دلا کر سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال کر دے۔
ایک رات جب کہ اس کی جواں اور خوبرو بیوی اپنے پلنگ پر محو خواب تھی اور اس کا کمسن بچہ اس کے پہلو میں لیٹا ہوا تھا، گوتم نے ان دونوں پر شوق بھری نگاہ ڈالی شاہی محل اور شاہانہ زندگی کو الوداع کہتے ہوئے اپنے مقصود کی تلاش میں روانہ ہو گیا اس کے جسم پر قیمتی پوشاک تھی جس میں ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے وہ بھی اتار کر اس نے اپنے باپ کی طرف بھیج دی اور اپنے سر کے بال منڈا دیئے اس نے ایسے راہبر کامل کی تلاش میں سالہا سال سیاحت میں گزارے لیکن اسے گوہر مقصود دستیاب نہ ہوا وہ انسانیت کے دکھوں کا نہ سبب معلوم کر سکا اور نہ ان کا علاج دریافت کر سکا۔ اثناء سفر اس نے برہمن فلسفیوں کے حلقہ درس میں بھی شرکت کی اور ان سے فلسفہ کا علم حاصل کیا لیکن بے سود۔ پھر اس نے ریاضت شروع کی اور لگاتار چھ سال تک وہ شدید قسم کی ریاضتیں کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن کر رہ گیا لیکن اس سے بھی مدعا حاصل نہ ہوا آخر اس نے ریاضت کو ترک کر دیا اور غور و فکر کے لئے مراقبہ کرنا شروع کیا وہ پہروں مراقبہ میں مشغول رہتا۔ اس کی زندگی کا بہترین اور ناقابل فراموش لمحہ طویل انتظار کے بعد اس وقت آیا جب وہ شکستہ دل اور تھکا ماندہ ہو کر بڑ کے ایک بڑے درخت کے نیچے مراقبہ کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ غور وفکر میں کھویا ہوا تھا۔ یکایک اس کے دل میں روشنی کی ایک لہر دوڑ گئی اس روشنی سے اس پر وہ راز فاش ہوئے جن کی تلاش میں وہ سالہا سال سے مارا مارا پھر رہا تھا۔ یہ گیان، اسے “گیا” کے مقام پر حاصل ہوا “گیا” صوبہ بہار کا ایک شہر ہے اور دریائے گنگا میں آکر ملنے والے ایک چھوٹے دریا ” نیرنجارا” (NERANJARA) کے کنارے پر آباد ہے اس روشنی سے اس نے بدی اور مصیبت کی حقیقت کو سمجھ لیا۔ چار ہفتے مزید اسی مراقبہ میں وہ منہمک رہا۔ بجائے اس کے کہ وہ اس روشنی کے دیدار میں محو رہتا اور اس سے عمر بھر لطف اندوز ہوتا رہتا اس نے یہ مناسب اور مفید سمجھا کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستہ کی نشاندہی کرے جس پر چل کر انہیں بھی یہ روشنی نصیب ہو۔ اس واقعہ کے بعد چالیس سال تک تا دم واپسیں وہ اپنے شاگردوں اور چیلوں کو جو حقیقت اس پر منکشف ہوئی تھی اس کی تعلیم دیتا رہا یہاں تک کہ اسی سال کی عمر میں اس نے وفات پائی اس طویل عرصہ میں وہ بھیک مانگ کر اپنا پیٹ بھرتا رہا اور اپنے مشن کی تکمیل میں روز و شب مصروف رہا۔ اس نے اپنا پہلا تبلیغی خطاب بنارس کے قریب ایک شہر سارناتھ میں کیا۔ ایک روایت میں گوتم کی تاریخ پیدائش 623 اور وفات 543 ق م بتائی گئی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔ بدھا نے اپنے نظریہ کو چار مقدس سچائیوں سے تعبیر کیا۔
1) ساری زندگی مصائب و آلام سے عبارت ہے۔ بدھوں کی اصطلاح میں اس کے لئے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ دُکھا (DUKKHA) ہے اس کا معنی برائی یا بیماری یا مصائب کیا گیا ہے۔
2) اس کا سبب خواہش ہے۔
3) اپنی خواہش کو جو شخص ختم کر دیتا ہے گویا اس نے اپنے مصائب کو ختم کر دیا ہے۔
4) خواہش کو ختم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اس راستہ کو اختیار کیا جائے جو راستہ بدھا نے بتایا ہے۔
بدھا نے جو راستہ بتایا ہے اس کے تین مرحلے ہیں:
(1) حسن عمل
(۲) غور و فکر یا مراقبہ
(۳) حکمت
حسن عمل سے مراد یہ ہے کہ کسی زندہ چیز کی جان تلف نہ کرے۔ کذب بیانی سے باز رہے ایسی چیز نہ لے جو اس کا مالک اسے نہ دے یعنی چوری سے اجتناب کرے ، جنسی بد کاری سے مکمل پرہیز کرے۔ اور منشیات کا استعمال کلیۃ چھوڑ دے۔ بدھ دھرما جس کو بدھ دھرنا بھی کہتے ہیں اس کی یہ اساس ہے کہ اس کے بغیر بدھ کا کوئی پیرو کار ترقی نہیں کر سکتا۔
دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنا بیشتر وقت غور و فکر میں گزارے اور مراقبہ میں ایک چیز پر ہی اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ یہ بدھ دھرما کی نمایاں ترین خصوصیت ہے۔ اس حسن عمل اور مراقبہ کا حاصل یہ ہے کہ وہ براہ راست اس حقیقت کا مشاہدہ کرنے لگے جس حقیقت کے بارے میں بدھ نے بتایا بدھ نے جو انقلاب آفریں اقدامات کئے وہ یہ تھے۔
1) اس نے ویدک دیوتاؤں کو ختم کر دیا۔
2) قربانی ممنوع کر دی ۔
3) ذات پات کے امتیازات کو ختم کر دیا۔
4) برہمنوں کی مذہبی بالا دستی کو خاک میں ملا دیا۔
5) سنسکرت کے بجائے عوام کو ان کی مادری زبانوں میں تعلیم دینا شروع کی ۔
کیا بدھ مت میں خدا پر ایمان لانا ضروری تھا یا نہیں؟ اگر اس امر میں کوئی صداقت ہے کہ گوتم سالہا سال تک “گیا” کے مقام پر مراقبہ میں مستغرق رہا۔ پھر اچانک اسے ایک ایسی روشنی نظر آئی جس کی برکت سے زندگی کے الجھے ہوئے مسئلے حل ہو گئے اگر یہ بات صحیح ہے تو یقیناً اس روشنی کے منبع یعنی ذات خداوندی کا عرفان بھی اسے نصیب ہوا ہو گا اور اس نے اس کی ذات کو بھی اور اس کی شان وحدانیت کو بھی پہچان لیا ہو گا اور اس پر پختہ ایمان لے آیا ہو گا۔ اور اس کی وحدانیت کی تبلیغ کرتا رہا ہو گا اور اس کے نور معرفت سے لوگوں کے بے چین اور مضطرب دلوں کو سکون و قرار کی دولت سرمدی سے مالا مال کرتا رہا ہو گا اور کچھ عرصہ بعد دیگر پیغمبران توحید کی تعلیمات کی طرح اس کی تعلیمات میں بھی تحریف و تبدیل کا دروازہ کھل گیا ہو گا اور اس کے دین توحید کو اس کے مفاد پرست پرستاروں اور عقیدت مندوں نے کیا سے کیا بنا دیا ہو گا۔ اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، سب من گھڑت افسانے ہیں جن کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ جن کا کوئی وجود ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲