Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF} عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر67 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چونسٹھ) {ہندوستان : حصہ چودہواں}

برہمنی اقتدار کے خلاف بغاوت: آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ آریوں کی جملہ عبادات میں قربانی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور لوگ از خود قربانی کی رسم ادا نہیں کر سکتے تھے۔ برہمن ہی ان کی طرف سے اس رسم کو ادا کرنے کے مجاز تھے یہ امر ان کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ جس سے برہمن خاندان بڑی خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے جب غیر فطری عقائد اور نا قابل فہم پوجا پاٹ کی رسوم سے لوگ دل برداشتہ ہو گئے تو برہمنوں کے مسلط کئے ہوئے اس دھرم کے خلاف متعدد تحریکیں زور پکڑنے لگیں جن میں بدھ مت اور جین مت کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس کا تفصیلی تذکرہ ابھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے یہاں صرف ایک بات بتا دینا مناسب ہے کہ جب قربانی کے ذریعہ ان کی آمدنی کا دروازہ بند ہو گیا اور بدھا نے ان پر شدید تنقید کی اس نے کہا کہ اس قربانی میں جانوروں کا ضیاع ہے اس کے بجائے نیک لوگوں کو صدقہ و خیرات دینے کی تلقین کی بڑھانے اس بات پر زور دیا کہ جانوروں کو ذبح کرنے کے بجائے اپنی ذات کا انکار کرو اور روشنی حاصل کرو۔ اشوکا نے اپنی ساری مملکت میں جانوروں کی قربانی کی ممانعت کر دی۔ اس طرح ہندوستان میں گوشت نہ کھانے کا آغاز ہوا اس کی ابتداء تو بدھ مت کے پیرو کاروں نے کی لیکن آہستہ آہستہ ہندوؤں میں بھی گوشت کا استعمال متروک ہوتا چلا گیا اور وہ ہندو جو وشنو اور شیوا کے پیرو کار تھے انہوں نے بھی گوشت کھانا چھوڑ دیا اس طرح قربانی کے ذریعہ برہمنوں کو جو کثیر آمدنی ہوتی تھی اس کا دروازہ بند ہو گیا۔

اس کے علاوہ ایک دوسری وجہ سے ان کی اس آمدنی پر کاری ضرب لگی پہلے برہمنوں اور کھشتریوں میں گہرے تعلقات تھے یہی طبقہ خوشحال تھا۔ اور قربانی دینے کی استطاعت رکھتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے دکانداروں میں یہ ہمت کب تھی کہ وہ اس بار گراں کو اٹھا سکیں۔ لیکن جب اشوکا وغیرہ بدھ بادشاہوں نے ایک عظیم مملکت قائم کر کے ملک میں امن و امان قائم کر دیا اور کاروبار کو ترقی ہوئی اور تجارت پیشہ طبقہ دولتمند ہو گیا تو انہوں نے قربانی دینے کی طرف کبھی توجہ ہی نہ کی اگر کوئی قربانی دینا چاہتا تو وہ از خود جانور ذبح کر دیتا۔ نہ وہ برہمنوں کو قربانی دینے کی زحمت دیتا اور نہ اس کی بھاری بھر کم اجرت ادا کر کے برہمنوں کی جیبوں کو گرم کرتا اس طرح پریشان کن اور تکلیف دہ حالات سے برہمنوں کو واسطہ پڑا لیکن انہوں نے بڑی اولوالعزمی سے حالات کا رخ اپنے حق میں موڑ لیا پہلے وہ قربانی کی رسم ادا کر کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے اب انہوں نے تعلیم دینے کا پیشہ اختیار کیا اس وقت کی علمی زبان سنسکرت تھی اور اس زبان میں یہ لوگ مہارت رکھتے تھے انہوں نے اپنی اس مہارت سے لوگوں کو مستفید کرنا شروع کیا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں اپنے مقام کو اور اپنے احترام کو برقرار رکھا۔ نیز انہوں نے حالات کی نزاکت کا جائزہ لیتے ہوئے بر وقت یہ قدم اٹھایا پہلے چھوٹے طبقوں کو وہ درْ خورِ اِعتِنا (توجہ کے لائق) نہیں سمجھتے تھے، اب انہوں نے اپنی توجہ ان کی طرف مبذول کی اور جن دیوی دیوتاؤں کی ادنی طبقہ کے لوگ پرستش کیا کرتے تھے ان کو پہلے سنسکرت کے ناموں سے موسوم کیا۔ پھر اپنے مندروں میں ان کے بتوں کو سجایا۔ یوں چھوٹے طبقات کی ہمدریاں جیت لیں وہ سنسکرت میں ہی ان لوگوں کی مذہبی رسوم کو ادا کرتے یہ بات ادنی طبقہ کے لوگوں کے لئے باعث صد افتخار تھی چنانچہ انہوں نے اس کے عوض برہمنوں کی عزت و تکریم کے ساتھ ساتھ ان کی مالی خدمت بھی دل کھول کر کرنا شروع کی اس طرح برہمنوں نے ان نا گفتہ بہ حالات میں اپنے گرتے ہوئے وقار کو سنبھالا دیا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top