ہندی معاشرہ میں نظام عدل و انصاف کے خد و خال اختصار کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ قاضی ہر مدعی کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنا دعویٰ تحریری طور پر پیش کرے اور ایسے گواہ بھی پیش کرے جن سے اس کا دعویٰ ثابت ہوتا ہو عام طور پر گواہوں کی تعداد کم از کم چار مقرر تھی لیکن اگر گواہ ایسا ہوتا جس کی ثقاہت قاضی کے نزدیک مسلم ہوتی تو پھر اس ایک گواہ کی گواہی سے بھی قاضی مقدمہ کا فیصلہ کر دیتا۔ قاضی پر لازم تھا کہ وہ راز داری سے بھی حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے اور ظاہری علامات و قرائن سے بھی استدلال کرے اگر مدعی گواہ پیش نہ کر سکتا تو پھر مدعا علیہ پر لازم تھا کہ وہ قسم اٹھائے مدعا علیہ کے لئے یہ بھی جائز تھا کہ وہ مدعی کو قسم کھانے کے لئے کہے۔ قسم کی مختلف صورتیں تھی جس قسم کا دعوئی ہوتا اسی انداز کی قسم بھی ہوتی اگر معمولی سی چیز کا دعویٰ ہوتا اور مدعا علیہ اس پر رضامند ہو تا کہ مدعی ہی قسم کھائے تو اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ پانچ برہمن عالموں کے سامنے کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے نیک اعمال کا ثواب جو اس دعویٰ کے آٹھ گنا کے برابر ہو اس کو دے دیا جائے اگر دعویٰ سنگین نوعیت کا ہوتا تو اس کے لئے قسم اٹھانے کی یہ صورت تھی کہ قسم اٹھانے والے کے سامنے زہر کا پیالہ پینے کے لئے پیش کیا جاتا اور اسے کہا جاتا کہ اگر وہ سچا ہو گا تو وہ زہر اس پر اثر نہیں کرے گا اس سے بھی سنگین قسم یہ تھی کہ قسم اٹھانے والے کو ایک تیز رفتار اور گہری نہر کے کنارے پر لایا جاتا یا ایسے کنوئیں کے کنارے پر اسے کھڑا کیا جاتا جو بہت گہرا ہوتا اور اس میں پانی کی کثیر مقدار ہوتی اس پانی کو مخاطب کرتے ہوئے ملزم کہتا اے پانی ! تو پاکیزہ ملائکہ میں سے ہے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھے قتل کر دے اگر میں سچ بول رہا ہوں تو میری حفاظت کر ۔ پھر پانچ آدمی اس کو اٹھا کر اس گہری اور تند رو ندی میں یا گہرے کنوئیں میں پھینک دیتے اگر وہ سچا ہوتا تو نہ ڈوبتا اور اگر جھوٹا ہوتا تو پانی اس کو موت کا جام پلا دیتا۔ سب سے زیادہ سنگین نوعیت کی قسم کا طریقہ یہ تھا کہ قاضی فریقین کو اس شہر میں جو سب سے زیادہ قابل احترام بت خانہ ہوتا وہاں بھیج دیتا مدعا علیہ ایک دن پہلے روزہ رکھتا دوسرے دن نیا لباس پہن کر مدعی کے ساتھ مل کر کھڑا ہو جاتا۔ بت خانہ کے خدام اس بت پر پانی ڈالتے اور اس کو پلاتے اگر وہ جھوٹا ہوتا تو فورا اس کو خون کی قے آنے لگتی۔ ایک طریقہ یہ بھی رائج تھا لوہے کو آگ میں اس حد تک تپایا جاتا کہ وہ پگھلنے کے قریب ہو جاتا پھر منکر کی ہتھیلی پر ایک پتہ رکھا جاتا اس کے اوپر یہ گرم ٹکڑا رکھا جاتا۔ اور اسے کہا جاتا کہ وہ سات قدم اٹھائے پھر اس ٹکڑے کو پھینک دے اگر وہ جھوٹا ہو گا اس کا ہاتھ جل جائے گا۔ ورنہ نہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی طریقے تھے جن سے قسم اٹھانے والے کی سچائی یا کذب بیانی کا وہ پتہ لگاتے۔
(تحقیق ماللہند، البیرونی، صفحہ 475 – 747)
ان کے نظام عدل کے بارے میں ایک چیز مزید غور طلب ہے جس نے ان کے نظام عدل کو نظام جور و ستم میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ یہ کہ فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا جاتا کہ ملزم کون ہے اگر ملزم اعلیٰ ذات کا فرد ہوتا تو اس کے لئے اور سزا مقرر کی جاتی اگر ادنی طبقہ کا فرد ہوتا تو اسے اور سزا دی جاتی۔ جو اعلیٰ طبقہ کی سزا سے شدید تر ہوتی اگر قاتل برہمن ہوتا اور مقتول کسی اور طبقہ سے تو برہمن سے قصاص نہ لیا جاتا بلکہ اس پر صرف کفارہ لازم ہوتا یعنی وہ روزہ رکھے، صدقہ خیرات دے اور پوجا پاٹ کرے اور اگر قاتل مقتول دونوں برہمن ہوتے تو قاتل برہمن سے کفارہ بھی نہ لیا جاتا بلکہ اس کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیا جاتا قتل کے سوا دوسرے جرائم جن کی سزا قتل تھی، یہ تھے گائے کو ذبح کرنا، شراب پینا، زنا کرنا، برہمن اور کھشتری کو کوئی سزا نہ دیتے صرف اس کو مالی جرمانہ کرتے یا اس کو ملک بدر کر دیتے۔ (مسلم ثقافت ،صفحہ 16 بحوالہ ستیارتھ پرکاش، گیارہواں سمود اس، صفحہ 738)
ہم نے آغازِ گفتگو میں البیرونی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آریوں کا اصلی مذہب عقیدہ توحید تھا۔ اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے البیرونی نے ویدوں، پاتنجلی، بھگوت گیتا سے حوالے پیش کیئے ہیں لیکن جب مہا بھارت کی جنگ ہوئی تو بڑے بڑے عالم، راجہ، رشی مہارشی، مہابھارت کی جنگ میں مارے گئے تو ویدوں کی تعلیم اور آریہ عقائد کی اشاعت بند ہو گئی مولانا عبد المجید سالک نے اپنی تصنیف ” مسلم ثقافت ” میں ستیارتھ پرکاش کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔مذہب خاص لوگوں کے قبضہ میں آگیا جو من گھڑت عقیدوں کی تبلیغ کرنے لگے۔ برہمنوں نے اپنی روزی کا بندوبست کرنے کے لئے کھشتری اور دوسری قوموں کو یہ اُپدیش دیا کہ ہم ہی تمہارے معبود ہیں ہماری خدمت کے بغیر تم کو مُکتی حاصل نہیں ہوگی ۔
(مسلم ثقافت ،صفحہ 16 بحوالہ ستیارتھ پر کاش، گیارہواں سموداس، صفحہ 738)
ان کے عقائد کے بگاڑ نے عجیب و غریب عملی صورت اختیار کر لی جس کے ذکر سے ہی جبین حیاء عرق آلود ہو جاتی ہے۔ لیکن قارئین کو صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے لئے ان امور کا ذکر کرنا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مولانا سالک اپنی کتاب “مسلم ثقافت ” میں لکھتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہندوستان کے اندر ایک ایسا مذہب پیدا ہو گیا تھا، جو صرف خواہشات نفسانی پر مبنی تھا اس میں شراب کی پوجا کی جاتی۔ اور ایک برہنہ مرد کے ہاتھ میں تلوار دے کر اس کو مہادیو کہہ کر اور ایک ننگی عورت کو دیوی قرار دے کر ان دونوں کی پوجا کی جاتی۔
(مسلم ثقافت ،صفحہ 16)
مندروں میں مرد و زن کے برہنہ مجسمے اور تصویریں اب بھی دیکھنے والوں کو محو حیرت کر دیتی ہیں کیا یہ وہ عبادت گاہیں ہیں جن کا مقصد پاکیزہ سیرت کی تعمیر اور اخلاق کی تعمیر ہے؟ ان مقامات پر اس قسم کے ہیجان انگیز اور اخلاق سوز مجسموں کو لوگ تقدس کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی پوجا پاٹ کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔جب ان کے معبودوں کی عریانی کا یہ عالم تھا تو ان کے پجاریوں کی اخلاق باختگی کا اندازہ لگا لینا مشکل نہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲