قسط نمبر 61 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اٹھاون)
کائنات نام ہے گردشوں کے لامتناہی تسلسل کا۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ تسلسل وشنو دیوتا کی زندگی سے وابستہ ہے بنیادی گردش کو “کالپا” کہتے ہیں جس کا معنی ہے برہما کا دن ۔ اس کی مقدار چار ہزار دو سو ملین زمینی سالوں کے برابر ہے ان کی دیو مالائی اصطلاح میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کائناتی دن کے آغاز میں وشنو، شیش ناگ، جس کے ہزار سر ہیں، کی گود میں سویا رہتا ہے یہ ناگ لامتناہی زمانہ کی علامت ہے وہ کائناتی قدیم سمندر میں جھولا جھولتا رہتا ہے وشنو کی ناف سے کنول کا پھول اگتا ہے اور اس کی لپٹی ہوئی پتیوں سے برہما دیوتا جنم لیتا ہے، جو خالق کائنات ہے۔ یہ جہان کی تخلیق کرتا ہے پھر وشنو جاگتا ہے اور اس پر حکمرانی کرتا ہے کالپا کے اختتام سے پہلے وشنو ایک مرتبہ پھر سو جاتا ہے اور ساری کائنات اس کے جسم میں ضم ہو جاتی ہے اب ہم جس زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس کا آغاز تین ہزار ایک سو دو سال ق م میں ہوا جب مہا بھارت کی جنگ ختم ہوئی اس زمانہ کی کل میعاد چار لاکھ بتیس ہزار سال ہے اس میعاد کے مکمل ہونے پر ساری دنیا آگ اور طوفان سے تباہ ہو جائے گی بعض کہتے ہیں کہ وشنو ایک مجسم صورت میں آکر اس تباہی کو پر سکون انقلاب سے تبدیل کر دے گا۔ نیند سے بیدار ہو کر وشنو اپنے آسمان کے تخت پر بیٹھا ہے اور اس کے پہلو میں اس کی ملکہ دیوی لکشمی بیٹھی ہے لیکن جب کائنات خطرات سے دو چار ہونے لگتی ہے تو وشنو کبھی مکمل اور کبھی نامکمل صورت میں ظاہر ہو کر کائنات کو بربادی سے بچاتا ہے۔ اس کے نامکمل مظاہر تو بے شمار ہیں جو اب بھی مختلف رشیوں کی شکل میں موجود ہیں، آج تک وہ نو مکمل مظاہر میں جلوہ گر ہوا ہے اس کے پہلے چھ مظاہر یہ ہیں مچھلی، کچھوا، سور، شیر، (انسانی شکل میں) پارا، سوراما۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 225)
اس اوتار میں آکر اس نے جنگجو ٹولے کی قوت کو پاش پاش کر دیا اور برہمنوں کی عظمت کو بحال کیا لیکن اس کے اہم ترین اوتار ساتویں اور آٹھویں ہیں جب وہ راما اور کرشنا کے روپ میں ظاہر ہوا انہیں اوتاروں کی صورت میں اس کی پوجا کی جاتی ہے رام کی کہانی تو مشہور ہے البتہ کرشنا میں اس کے ظہور کے کئی روپ ہیں۔
1) موٹے تازے شرارتی بچے کا روپ۔
2) ایک بانکا سجیلا نوجوان جو بندرا بن کے چرواہوں کے درمیان رہتا تھا ۔ اس نے ان کی بیویوں اور بیٹیوں کے دل موہ لئے تھے چاندنی رات میں جب وہ رقص کرتیں تو وہ بانسری بجاتا اور رقص میں ان کے ساتھ شریک ہوتا اس کی مخصوص محبوبہ “رادھا” کے ساتھ اس کے معاشقے زبان زد خاص و عام ہیں۔
3) تیسرا وہ روپ ہے جب وہ ایک بہادر، لڑاکے، جنگ جو کے روپ میں مہا بھارت کی جنگ میں شریک ہوا اور اپنے دوست ارجونا کو بھگوت گیتا کا درس دیا۔
ان تینوں روپوں میں بھارت کے طول و عرض میں اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ وشنو کا ناواں روپ، بدھا کی شکل میں ظاہر ہوا۔ وشنو کا ایسے روپ میں آنا جو نہ ویدوں کا قائل ہو نہ خدا کا قائل۔ بڑا تعجب خیز ہے، جب بدھ مت کو بھارت میں زوال آیا تو برہمنوں نے اس “مت ” کو ہڑپ کرنے کے لئے یہ نظریہ پیش کر دیا کہ بدھا کوئی غیر نہیں وہ بھی تو وشنو کا اوتار تھا۔ اس لئے اس کی مورتی کو اپنے مندروں میں سجانا اور اس کی پوجا کرنا ہمارا حق ہے وشنو کا آخری ظہور ” کالکن” کے روپ میں ہو گا، جو ابھی باقی ہے اس وقت وہ ایک طاقت ور جنگ جو بن کر آئے گا۔ نقرے گھوڑے پر سوار ہو گا اس کے ہاتھ میں تلوار ہوگی جو شعلے برسا رہی ہوگی تمام برائیوں کا قلع قمع کر دے گا اس وقت سنہرے عہد کا آغاز ہو گا۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 226)
دوسرا اہم دیوتا “شیوا” ہے، جس کی بہت خوفناک شکل ہے اس کے گلے میں انسانی کھوپڑیوں کا ہار لٹکا رہتا ہے اور جب وہ ڈراؤنا ناچ ناچتا ہے تو بد روحیں اس کے گرد حلقہ بنائے رقص کر رہی ہوتی ہیں اس زمانہ کے اختتام پر ساری کائنات کو وہ بھسم کر دے گا اسے کیلاش کے پہاڑوں میں مراقبہ میں مصروف بھی دکھایا جاتا ہے۔ اس کے سر پر ہلال ہے جس سے گنگا کا دریا نکلتا ہے اسے انسانی اور حیوانی افزائش نسل کا دیوتا بھی کہتے ہیں پیر و جواں، مرد و زن اسکے آلہ تناسل کی پوجا میں مصروف رہتے ہیں۔ دُرگا اور پاراوتی شیوا دیوتا کی بیوی کے دو نام ہیں، یہ لکشمی سے زیادہ اہم ہے جب وہ خوفناک شکل میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کو دُرگا اور کالی کہا جاتا ہے اور جب وہ دلکش روپ میں ظاہر ہوتی ہے تو اسے پاراوتی کہا جاتا ہے۔ ماتا دیوی کی اہمیت کو بڑھانے کے لئے یہ نظریہ گھڑا گیا کہ اعلیٰ و ارفع دیوتا بالکل نکما اور بیکار ہے اس کی تخلیقی قوت مجسم بن کر اس کی بیوی درگا میں منتقل ہو گئی ہے تخلیق کائنات کا عمل مرد و زن کے جنسی اختلاط کی طرح ہے اسی وجہ سے جنسی اختلاط کو ہندو اپنی عبادتوں کی رسموں میں شمار کرتے ہیں یہ بھی فرض کر لیا گیا ہے کہ بڑا دیوتا کیونکہ نکما ہے اس لئے اس کی عبادت کی ضرورت نہیں تمام مقاصد کے لئے ماتا دیوی درگا کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اس کی پوجا کرنا چاہئے بد شکل، بوڑھی، ساحرہ کے روپ میں اسے نمایاں کیا جاتا ہے اس کی پوجا کے وقت جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے قدیم زمانہ میں زندہ انسانوں کو بھی اس کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ ان تین بڑے دیوتاؤں کے علاوہ ہندوستان میں چھوٹے دیوتاؤں کی پوجا بھی کی جاتی ہے شیوا کے بیٹے گنیش ، جس کا سر ہاتھی کی مانند ہے اس کی بھی ہندو پوجا کرتے ہیں شیوا کے دوسرے دو بیٹوں سکندا اور سوبرا مانیا (SUBRAH MANYA) کو بھی پوجتے ہیں آخری دیوتا ، دیوتاؤں کی فوج کا کمانڈر انچیف ہے اور عفریتوں سے جنگ کرتا ہے ان کے علاوہ مقامی معبودوں کا ایک لشکر جرار ہے جن کی لوگ بڑے شوق سے پوجا پاٹ کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بڑے دیوتاؤں کو اپنے بڑے کاموں سے فرصت نہیں ملتی عوام کی مشکلات یہ چھوٹے بت ہی حل کرتے ہیں۔
(انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھ، صفحہ 232)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲