Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر59 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھپن) (ہندوستان ~ حصہ ششم) (البیرونی کی تحقیق کے مطابق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ سوئم)
ورلڈ سویلائزیشن کے دونوں مصنف لکھتے ہیں۔ اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندو ازم کو مذہب نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے کے لئے تیار ہوتا ہے تمام رسم و رواج کو اختیار کر لیتا ہے خواہ وہ قدیم زمانہ کے گھناؤنے رسم و رواج ہوں یا عصر جدید کے اعلیٰ و ارفع رسم و رواج ۔ ہندومت کے کوئی مقررہ عقائد و اصول نہیں۔ جن کو ماننا اس مذہب کے ہر پیرو پر لازمی اور ناگزیر ہو۔ اس کے ماننے والے کہیں ایک جگہ جمع ہو کر عبادت نہیں کرتے ان کا کوئی مسلمہ کلیسا نہیں ہے البتہ برہمنوں کے بارے میں ان کے خاص معتقدات میں مخصوص طریقہ ہائے کار ہیں جن کی سارے ہند میں پیروی کی جاتی ہے برہمن اپنے ماننے والوں کے لئے ضروری نہیں سمجھتے کہ وہ کسی مخصوص عقیدہ پر ایمان لے آئیں اور نہ کسی نئی بدعت کے خلاف جنگ آزما ہونے کی انہیں دعوت دیتے ہیں وہ صرف اس بات پر اصرار کرتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہیں کہ ان کا ہر ماننے والا اس بات کو تسلیم کرے۔ کہ دیوتا اور انسان کے درمیان صرف برہمن ہی واسطہ اور ترجمان کا فریضہ ادا کر سکتے ہیں برہمن ازم میں جن نکات پر زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہیں۔ 1) برہمنوں کی تعظیم کی جائے اور ہر معاملہ میں ان کی اعانت کی جائے۔ 2) حیوانی زندگی کو مجروح نہ کیا جائے (یعنی نہ انہیں ذبح کیا جائے نہ ان کا گوشت کھایا جائے) 3) عورت کا مقام معاشرہ میں مرد سے فروتر ہے۔ 4) ذات پات کی تقسیم کو قبول کیا جائے۔ (ورلڈ سولائزیشن، صفحہ 88) ذات پات کے باعث عورت کا مرتبہ گر گیا، بیوہ عورت کو ہر وقت یہ غم نڈھال کئے رکھتا ہے کہ اس کے کسی گناہ کے باعث اس کا خاوند مرا ہے اس کو دوسری شادی کی اجازت نہیں خواہ وہ ابھی عنفوان شباب میں ہی ہو ۔ عورت کو یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ اس کی عزت و ناموس اس میں ہے کہ وہ اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ جل کر خاکستر ہو جائے نیز اس ذات پات کے نظام میں شودروں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بڑا شرمناک ہے انہیں انسان ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ جنوبی ہند میں تو ان کا سایہ کنوئیں پر پڑ جائے تو وہ کنواں بھڑشت ( ناپاک) ہو جاتا ہے وہ آبادی سے باہر جھونپڑوں میں رہنے پر مجبور ہیں مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان انسانیت سوز اور قبیح رسوم کو دنیا کی تعلیم یافتہ اور اپنے آپ کو عقل مند کہلانے والی قوم ہزاروں سال سے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ (ورلڈ سولائزیشن، صفحہ 11) انسائیکلو پیڈیا آف لونگ فیتھ (زندہ مذاہب کا دائرۃ المعارف) میں اے ایل بوشم (A.L.BOSHAM) نے ایک مقالہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے ہندو ازم (ہندو مت) یہ مقالہ صفحہ 217 سے صفحہ 254 تک پھیلا ہوا ہے۔ اس فاضل سکالر نے بھی ہندو مت کے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہم اس کے ضروری اقتباسات بھی ہدیہ ناظرین کرتے ہیں تاکہ ہندومت کے بارے میں ان کی معلومات میں اضافہ بھی ہو اور ان میں پختگی بھی پیدا ہو جائے۔ اگرچہ بعض مقامات پر مضامین کا تکرار ہے لیکن یہ تکرار اکتا دینے والا نہیں امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین کی رسائی ہندو مذہب کے ان تاریک گوشوں تک ہو جائے گی جو عوام کی نظروں سے ابھی تک اوجھل تھے۔ مقالہ نگار اپنے اس مقالہ کا آغاز اس طرح کرتا ہے: (ہر مذہب کی تعریف کی جا سکتی ہے، لیکن ہندو مت کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ آپ نے ان وجوہات کا مطالعہ ابھی ابھی کیا ہے جن کے باعث ہندومت کو مذہب کہنا مشکل ہے) البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندو وہ ہے جو برہمن اور گائے کی عزت کرتا ہے، ذات پات کے نظام کا قائل ہے اور نظریہ تناسخ پر ایمان رکھتا ہے، یعنی روح یکے بعد دیگرے کئی جسموں میں داخل ہوتی ہے اور ایک مقررہ مدت پوری کرنے کے بعد موت کا پیالہ پیتی ہے اس جسم کو چھوڑ کر ایک نئے جسم میں داخل ہوتی ہے ضروری نہیں کہ وہ جسم انسان کا ہی ہو ۔ بلکہ وہ کسی حیوان، کتے، بلے، گدھے وغیرہ اور نباتات کے پیکر میں بھی ورود کر سکتی ہے، یہاں تک وہ سفر کرتے کرتے اپنی آخری منزل پر پہنچ جاتی ہے اگر نیک ہے تو سرگ باش (جنت) ہوتا ہے ورنہ نرک (دوزخ) کا ایندھن بنتا ہے اگرچہ ویدوں کو ہندوؤں کی مذہبی کتب کہا جاتا ہے لیکن جو مذہب ہندو مت کے روپ میں ہمارے سامنے موجود ہے اس کا ویدوں کے پیش کردہ مذہبی نظام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ بہت سے دیوتا جن کی پوجا کرنے کا حکم ویدوں میں مذکور ہے وہ اب متروک ہو چکے ہیں آریوں کا بڑا جنگی دیوتا ” اندرا” کا درجہ اب بہت گھٹ کر رہ گیا ہے اب اسے صرف بارش برسانے والا کہا جاتا ہے اسی طرح وارونا جس کو پہلے سارے عالم کا محافظ یقین کیا جاتا تھا۔ اور بڑی شاہانہ شان و شوکت سے اعلیٰ مسند پر بیٹھا کرتا تھا اب اس کے پجاری شاذ و نادر ہی اس کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے دیوتا مونث و مذکر دونوں قسم کے تھے۔ مونث کو ماتا دیوی (MOTHER, GODDESS) کہا جاتا اور اس کی پوجا کی جاتی۔ جس طرح کئی قدیم تہذیبوں میں اس کے پوجنے کا رواج تھا اس کے علاوہ آریہ ایک مذکر دیوتا کی بھی پوجا کیا کرتے تھے جس کا نام شیوا تھا جس کے آلہ تناسل کی پوجا کی جاتی۔ جس کا نشان مرد و زن اپنے گلے میں لٹکائے رکھتے۔ (انسائیکلو پیڈیا آف لیونگ فیتھس ،صفحہ 218) ان کے علاوہ کئی جانور جیسے بیل، کچھوا وغیرہ اور کئی درخت پیپل، تلسی وغیرہ مقدس سمجھے جاتے۔ سندھ طاس والوں کا قدیم مذہب آریہ کی آمد کے باوجود بھی برقرار رہا۔ بعد میں ہندو مت میں وہ دوبارہ عود کر آیا آریہ عام طور پر مذکر دیوتاؤں کی پوجا کرتے ان کے لئے قربانی دینے پر بڑا زور دیا جاتا۔ خصوصا سوما (SOMA) کی قربانی بہت اہم تھی یہ ایک پہاڑی بوٹی ہے جس سے شراب کشید کی جاتی ہے۔ اسے بھی سوما کہتے ہیں آریہ لوگ اگرچہ وحشی اور جنگجو قوم تھے لیکن ان کے ساتھ ہی مذہبی پروہتوں کا ایک گروہ بھی تھا۔ جو حمد کے گیت بھی لکھتا تھا اور پرانے گیتوں کو بھی ازبر کئے ہوئے تھا۔ قربانی کے وقت ان گیتوں کو پڑھا جاتا۔ فن تاریخ سے لوگ ناواقف تھے ان کی قوت یاد داشت بڑی عمدہ تھی ان کو وہ گیت زبانی یاد تھے رگ وید کے کئی مشہور دیوتا فراموش کر دیئے گئے اور کئی غیر اہم دیوتاؤں کو بڑا اونچا رتبہ دے دیا گیا جیسے وشنو ، لڈرا، جس کو بعد میں شیوا کہا جانے لگا۔ شیوا کا معنی ہے بھاگوان، شبھ ، مبارک۔ یہ ہندوؤں کا اہم ترین معبود بن گیا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top