قسط نمبر56 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ترپّن) (ہندوستان ~ حصہ سوئم) (البیرونی کی تحقیق اہل ہند کے عقائد ~ حصہ اول)
ابتداء میں آریہ عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے تھے اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں ان کا نظریہ یہ تھا کہ:
“اِنَّهُ الْوَاحِدُ الْاَزَلِیُّ مِنْ غَيْرِ ابْتَدَاءٍِ وَّلَا اِنْتِهَاءٍ اَلْمُخْتَارُ فِیۡ فِعۡلِہٖ، الۡقَادِرُ الۡحَکِیۡمُ الۡحَیُّ الۡمُحۡیِ الۡمُدَبِّرُ الۡمُبۡقِیْ اَلۡفَرۡدُ فِیۡ مَلَكُوۡتِهٖ عَنِ الْاَضْدَادِ وَالْاَنْدَادِ لَا يَشْبَهْ شَيْئًا وَلَا يُشْبِھُهٗ شَىۡءٌ”
ترجمہ:وہ یکتا ہے وہ ازلی ہے نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا، وہ اپنے افعال میں مختار کامل ہے وہ قدرت کا مالک ہے دانا ہے خود زندہ ہے دوسری چیزوں کو زندہ کرنے والا ہے مدبر ہے اچھی چیزوں کو باقی رکھنے والا ہے وہ اپنی بادشاہی میں یگانہ ہے نہ اس کی کوئی ضد ہے نہ اس کا کوئی مدمقابل ، نہ وہ کسی چیز سے مماثلت رکھتا ہے اور نہ اس سے کوئی چیز مماثلت رکھتی ہے۔ (تحقیق ماللہند، صفحہ 20)
مندرجہ بالا الفاظ میں علامہ موصوف نے اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں ان کے عقیدہ کا خلاصہ بیان کر دیا ہے یہ وہی عقیدہ ہے جس کی طرف تمام انبیاء نے اپنی امتوں کو بلایا یہ وہی عقیدہ ہے جسے خاتم الانبیاء والمرسلین محمد رسول اللہﷺ نے عالم انسانیت کو قبول کرنے کی دعوت دی۔ عقیدہ توحید کے بارے میں اپنی تحقیق کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد علامہ موصوف ان کی معتبر کتب کے حوالوں سے اس عقیدہ کی تصدیق کرتے ہیں۔ “پاتیجل” ان کی ایک مشہور کتاب ہے پہلے اس کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں سائل اپنے استاد سے پوچھتا ہے: “مَنۡ هٰذَا الْمَعْبُوۡدُ الَّذِيۡ يُنَالُ التَّوْفِيۡقُ بِعِبَادَتِهٖ”
ترجمہ: وہ معبود کون ہے جس کی عبادت سے نیک کاموں کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
استاد جواب دیتا ہے۔ “هُوَ الْمُسْتَغْنِيُ بِاَوَّلِيَّتِهٖ وَوَحْدَانِيَّتِهٖ ….. وَالْبَرِىْءُ عَنِ الۡاِفۡكَارِ لِتَعَالِيۡهِ عَنِ الْاَضْدَادِ الْمَكْرُوۡهَةِ وَالْاَنْدَادِ الْمَحْبُوۡبَةِ وَ الْعَالِمُ بِذَاتِهٖ سَرۡمَدًا….. وَلَيْسَ الْجَهْلُ بِمُتَجِّهٍ عَلَيْهِ فِىۡ وَقۡتٍ مَّا اَوْ حَالٍ”
ترجمہ: وہ اپنی اولیت اور وحدانیت کے باعث تمام ما سوا سے مستغنی ہے، وہ ہر قسم کے افکار سے منزہ ہے کیونکہ وہ تمام نا پسندیدہ اضداد اور پسندیدہ انداد سے ارفع و اعلیٰ ہے وہ بذات خود عالم ہے اور ہمیشہ سے عالم ہے کسی وقت بھی اور کسی حالت میں بھی جہالت اور لاعلمی اس کی طرف منسوب نہیں کی جا سکتی۔
(تحقیق ماللہند ،صفحہ ۲۰)
ایک جگہ وید کا حوالہ دیتے ہیں کہ سائل دریافت کرتا ہے کہ تم ایسی ذات کی کیونکر عبادت کر سکتے ہو جس کو محسوس نہیں کرتے تو مجیب (جواب دینے والا) کہتا ہے کہ جب وہ ایک نام سے موسوم ہے تو اس سے اس کی حقیقت ثابت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہمیشہ اس چیز سے خبر دی جاتی ہے جو موجود ہو ۔ اور جب تک وہ موجود نہ ہو۔ اس کو کسی نام سے موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ وہ حواس سے غائب ہے لیکن عقل نے اس کا ادراک کر لیا ہے اور غور و فکر نے اس کی صفات کا احاطہ کر لیا ہے اور اس کی صفات میں غور و تدبر ہی خالص عبادت ہے اور جب کوئی شخص اس عبادت کو ہمیشہ پابندی سے ادا کرتا ہے تو اس کو سعادت حاصل ہوتی ہے۔
“بھگوت گیتا” جو ان کی شہرہ آفاق کتاب مہا بھارت کا ایک حصہ ہے اس میں باس دیوا اور ارجن کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس میں باس دیوا اپنے بارے میں کہتا ہے۔ “اِنِّيۡ اَنَا الۡكُلُّ مِنْ غَيْرِ مَبْدَاٍ بِوَلَادَةٍ اَوۡمُنۡتَهًى بِوَفَاةٍ”
ترجمہ:میں کل ہوں نہ ولادت سے میری ابتداء ہوئی اور نہ وفات سے میری انتہاء ہوگی۔
(تحقیق ماللہند ،صفحہ ۲۱)
اور جس شخص نے مجھے اس صفت سے پہچانا اور میرے ساتھ اس طرح مماثلت پیدا کی کہ اس کا ہر عمل طمع سے دور ہو گیا:
“اِنۡحَلَّ وَثَاقُهٗ وَسَهَّلَ خَلَاصُهٗ وَعِتَاقُهٗ”
ترجمہ:جن زنجیروں میں وہ جکڑا ہوا ہے وہ ٹوٹ جائیں گی اس کی نجات اور آزادی آسان ہو جائے گی۔
(تحقیق ماللہند ،صفحہ ۲۲)
یہ حوالہ جات ذکر کرنے کے بعد علامہ موصوف فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے بارے میں یہ عقیدہ ان کے خواص اور ان کے علماء کا ہے وہ اپنی زبان میں اسے ایشور کہتے ہیں جن کا معنی ہے۔ “اَلۡمُسْتَغْنِي الْجَوَّادُ الَّذِيۡ يُعْطِيۡ وَلَا يَاْخُذُ”
ترجمہ:وہ غنی وہ سخی جو سب کو دیتا ہے اور خود کچھ بھی نہیں لیتا۔
(تحقیق ماللہند ،صفحہ23)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲