Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر55 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: باون) (ہندوستان ~ حصہ دوئم) (ابو ریحان البیرونی)
ابو ریحان البیرونی: قرآن کریم کی تعلیم نے مسلمان علماء میں غور و فکر اور تحقیق و تجسس کا ذوق پیدا کر دیا تھا۔ ہر وہ چیز جو ان کی نگاہوں کے سامنے آتی۔ وہ اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے سرگرم عمل ہو جاتے۔ جن اقوام عالم سے ان کو واسطہ پڑا اور جن مذاہب سے ان کی شناسائی ہوئی انہوں نے ان کے ظاہری اور باطنی حالات جاننے اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اپنی بہترین توانائیاں صرف کر دیں۔ جب مسلمانوں کا تعلق ہندوستان سے ہوا تو انہوں نے اہل ہند کے مذہبی عقائد، رسم و رواج، طرز بود و باش کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اپنی علمی اور فکری قوتیں وقف کر دیں اور اہل علم و دانش کی ایک کثیر تعداد نے اس موضوع پر تحقیق کے لئے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ ابو العباس ایران شاہی استاد ابو سہل نے ہندوستان کے مذہبی اور ثقافتی حالات پر بڑی قیمتی کتب تصنیف کیں لیکن اس سلسلہ میں جو مقام ابوریحان محمد بن احمد البیرونی المتوفى 440ھ بمطابق 1048ء کو حاصل ہے اس کی کوئی مثال نہیں۔ اس فاضل کبیر نے پندرہ سال کا طویل عرصہ ہندوستان کے طول و عرض میں گزارا۔ ان کے مذہبی عقائد، پوجاپاٹ، بود و باش کے طریقوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سنسکرت زبان میں کمال حاصل کیا اور سنسکرت کی اہم کتابوں کا بنفس نفیس مطالعہ کر کے حقیقت پر آگاہی حاصل کی اور اس طویل عرصہ میں ہندوستان کے بارے میں جو معلومات انہیں باوثوق ذرائع سے میسر آئیں اس کو کتابی شکل میں مدون کر دیا اور اس کا نام “تحقیق ماللہند ” تجویز کیا۔ البیرونی مقدمہ میں اپنی اس تصنیف کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ کتاب جدل اور مناظرہ کی کتاب نہیں۔ جس میں مصنف اپنے نظریات اور عقائد کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فریق مخالف کے عقائد و نظریات کا ابطال اور تکذیب کرتا ہے میں نے اس کتاب میں ہندوؤں کے عقائد اور نظریات جو کچھ ہیں، جوں کے توں بیان کر دیئے ہیں۔ میں نے ان کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کی ۔ کہتے ہیں: سالہا سال کی محنت کے بعد میں نے سنسکرت زبان میں کمال حاصل کر لیا اور مجھے ان اصل مراجع تک براہ راست رسائی حاصل ہو گئی۔ میں نے سنسکرت میں اتنی مہارت پیدا کر لی کہ سنسکرت کی دو کتابوں ” سانک ” اور “پاتنجل” کا عربی میں ترجمہ کیا سالہا سال اہل ہند میں رہنے اور ان کی علمی زبان میں دسترس حاصل کرنے کے بعد اہل ہند کے بارے میں وہ اپنی رائے کا یوں اظہار کرتے ہیں۔ہمارے اور اہل ہند کے درمیان بڑے پردے حائل ہیں، ایک بڑی رکاوٹ ان کی زبان ہے جو ہماری زبان سے حروف تہجی اور تلفظ میں کوئی مناسبت نہیں رکھتی اس کی کتابت بائیں سے دائیں طرف ہوتی ہے جب کہ ہماری زبان کی تحریر اس کے بر عکس ہے اس رکاوٹ کو عبور کرنا ہر شخص کے دل گردے کا کام نہیں۔ دوسری بڑی رکاوٹ ان کا مذہب ہے ان کا مذہب ہمارے مذہب سے اصولا فروعا مختلف اور متضاد ہے۔تیسری بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کو ملیچھ (ناپاک) سمجھتے ہیں کسی غیر کے ساتھ مباحثہ، مناظرہ اور تبادلہ خیال تک ان کے نزدیک ناجائز ہے۔ باہمی نکاح، نشست و برخاست اور خورد و نوش کو بھی حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی اجنبی ان کا مذہب قبول کرنا چاہے تو اس کو بھی اپنے مذہب میں داخل نہیں کرتے۔ (تحقیق ماللہند ،خلاصہ، صفحہ 14-15) پھر لکھتے ہیں: “لَقَدْ كَانَتْ خُرَاسَانُ وَفَارِسُ وَالْعِرَاقُ وَالْمُوۡصَلُ اِلٰى حُدُوۡدِ الشَّامِ فِي الْقَدِيۡمِ عَلٰى دِيۡنِهِمۡ (اِبۡرٰهِيۡمَ) اِلٰى اَنۡ نَجَمَ زُرۡدُشۡتُ مِنۡ اٰذَرَبَائِيۡجَانَ وَ دَعَا بَلَخَ اِلَى الْمَجُوۡسِيَّةِ وَرَاجَتْ دَعْوَتُهٗ عِنۡدَ کَسۡتَاسِبَ وَقَامَ بِنَشْرِهَا اِبْنُهٗ اَسْفَنْدِيَارُ فِىۡ بِلَادِ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ قَهۡرًا وَّصُلۡحًا وَنَصَبَ بُيُوۡتَ النِّيۡرَانِ مِنَ الصِّيۡنِ اِلَى الرُّوۡمِ” ترجمہ: پرانے زمانہ میں خراسان ، فارس، عراق، موصل اور شام کے رہنے والے سب اسی مذہب کے پرستار تھے۔ یہاں تک کہ صوبہ آذربائیجان میں زرتشت پیدا ہوا اور اہل بلخ کو مجوسیت قبول کرنے کی دعوت دی۔ گستاسپ بادشاہ نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور اس کی نشر و اشاعت کے لئے اپنے شاہی اختیارات کو استعمال کیا اس کے بعد اس کا بیٹا اسفند یار دین زرتشت کا علمبردار بنا اور جہاں تک ہو سکا مشرق و مغرب میں جبر کے ذریعہ سے یا صلح سے اس دین کو غلبہ بخشا اور چین سے لے کر روم تک سارے علاقہ میں جگہ جگہ آتش کدے تعمیر کئے۔ (تحقیق ماللہند، خلاصہ، صفحہ 15-16) البیرونی کہتے ہیں۔ محمد بن قاسم کی فتوحات کے باعث ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان عداوت اور بڑھ گئی۔ ہندو اپنی نسلی، علمی اور سیاسی برتری کے گھمنڈ میں اس طرح مبتلا ہیں کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اگر ان کو بتایا جائے کہ فلاں ملک میں فلاں فلاں بہت بڑے عالم ہیں تو وہ ایسا کہنے والوں کو جھٹلاتے ہیں۔ اور یہ بات تسلیم کرنے کے لئے کسی قیمت پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ان کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی شخص صاحب علم و دانش ہو سکتا ہے۔ ابتدا میں (البیرونی ) ان کے نجومیوں کے حلقہ درس میں حاضر ہوتا اور شاگردوں کی طرح چپ چاپ بیٹھا رہتا، جب مجھے ان کی زبان پر دسترس حاصل ہو گئی تو میں نے اپنے نجومی استادوں سے طرح طرح کے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے تو وہ ان کا جواب دینے سے قاصر رہے، اس طرح میرے علم کا رعب ان پر بیٹھ گیا اور مجھے بحر العلم (علم کا سمندر ) کے معزز لقب سے ملقب کرنے لگے۔ اگرچہ اہل یونان بھی اپنے بارے میں احساس برتری کا شکار تھے اور کسی غیر یونانی کو قطعا کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہ تھے لیکن ان میں فلاسفہ کا ایک گروہ پیدا ہوا جنہوں نے بحث و تمحیص کا دروازہ کھولا۔ جس بات کو ان میں سے کوئی شخص حق سمجھتا اس پر ڈٹ جاتا اور کسی مخالف کے سامنے سر جھکانے کے لئے تیار نہ ہوتا وہ لوگ آنکھیں بند کر کے عوام کے نظریات کی پیروی نہیں کیا کرتے تھے سقراط نے جب یونان کے عوام کے عقیدہ کی مخالفت کرتے ہوئے ستاروں کو الہ ماننے سے انکار کر دیا تو ایتھنز کے گیارہ بارہ پادریوں نے اس کے مقدمہ کی سماعت کی اور اسے ملحد قرار دے کر موت کی سزا سنائی۔ تو اس نے زہر کا پیالہ بصد مسرت اپنے لبوں سے لگا لیا۔ لیکن اپنے عقیدہ سے روگردانی قبول نہ کی۔ یہ چیز اہل ہند میں مفقود تھی اس لئے ان کو راہ راست پر لانا اور ان کو اس بات کا قائل کرنا کہ ان کے آباء واجداد نے غلط عقائد کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا بہت کٹھن کام ہے۔ (تحقیق ماللہند ،خلاصہ، صفحہ 18-19) اس تمہید کے بعد علامہ البیرونی ان کے عقائد کے بارے میں بڑی تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہیں۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top