قسط نمبر45 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اکاون) (ہندوستان ~ حصہ اول)
چند سال پہلے تک مؤرخین اور تہذیب انسانی کے ماہرین کے ہاں یہ خیال سند قبول حاصل کر چکا تھا کہ ہندوستان میں آریوں کی آمد کے بعد تہذیب و ثقافت کا آغاز ہوا ۔ اس سے پہلے اس برصغیر پر جہالت اور بربریت کی ظلمت چھائی ہوئی تھی تمدن و شائستگی کا نام تک نہ تھا۔ لوگ گھاس پھوس کے بنے ہوئے جھونپڑوں میں زندگی بسر کرتے تھے ادنی درجہ کا لباس پہنتے اور درختوں کے پتوں پر کھانا رکھ کر تناول کرتے لیکن موہنجوداڑو(سندھ) اور ہڑپہ(پنجاب) میں کھدائی کے بعد عجیب و غریب انکشافات ہوئے ہیں یہ کھدائی سر جان مارشل کے زیر نگرانی 1920ء میں آثار قدیمہ کی سروے سوسائٹی آف انڈیا نے کرایا۔ اس سے پرانے زمانے کے شہروں کے جو آثار و کھنڈرات دستیاب ہوئے ہیں انہوں نے ہندوستان کے مورخین کی سوچ کا رخ بدل دیا ہے، یہ ایسی ناقابل تردید شہادتیں ملی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج سے پانچ ہزار سال قبل کم از کم ان علاقوں میں جو سینکڑوں مربع میل کے رقبہ پر پھیلے ہوئے ہیں ایسی تہذیب موجود تھی جو آج کی جدید ترین تہذیب اور تمدن کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ گرولیئر انسائیکلوپیڈیا (GROLIER ENCYCLOPEDIA) مطبوعہ امریکہ کے مصنفین نے انڈیا کے عنوان کے تحت اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
متعدد مٹی میں مدفون شہروں کی دریافت جو سندھ میں موہنجوداڑو اور پنجاب میں ہڑپہ کے مقام پر ہوئی اس نے ہندوستان کی تاریخ کو 2750 ق م پر پہنچا دیا ہے، یہ یقین سے کہا جاتا ہے کہ وادی سندھ کے وسیع و عریض خطہ میں پانچ ہزار سال پہلے سے تہذیب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی جو مصر، سومر (نینوا) کی تہذیبوں کے ہم عصر تھی۔ سر جان مارشل جن کی نگرانی میں ان شہروں کی کھدائی کی مہم تکمیل کو پہنچی وہ لکھتے ہیں۔بہت سے گھروں میں کنوئیں اور غسل خانوں کے آثار ملے ہیں اور اس کے ساتھ گندے پانی کے نکاس کا بہترین نظام دریافت ہوا ہے جس سے وہاں کے باشندوں کے معاشرتی حالات کا علم ہوتا ہے جو یقینا ان کی معاصر تہذیبوں، بابل اور مصر میں پائے جاتے تھے۔ موہنجوداڑو میں گھریلو استعمال کے برتن، رنگدار نقوش والے ظروف، شطرنج کے مہرے اور سکے جو آج تک دریافت ہونے والے سکوں میں قدیم ترین ہیں۔ بہترین قسم کے ایسے برتن جن پر اعلیٰ قسم کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں دو پہیوں والی گاڑی، سونے چاندی اور جواہرات کے زیورات جنہیں اس عمدگی سے بنایا گیا ہے اور ان پر بہترین پالش کی گئی ہے جو موجودہ دور کے بہترین زیورات میں پائی جا سکتی ہیں ان کی ساخت اور چمک دمک کو دیکھ کر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا تعلق پانچ ہزار سال قبل از زمانہ تاریخ سے ہے۔ زراعت وادی سندھ کے باشندوں کا اہم پیشہ تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا بہترین نظام رائج تھا، موہنجوداڑو صنعت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ یہاں کی مصنوعات برآمد کی جاتی تھیں ان دستکاروں کے آلات صنعت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے یہاں کے پارچہ باف بہترین قسم کا کپڑا تیار کرتے تھے جو بابل اور ایشیاء کے دوسرے معروف شہروں میں برآمد کیا جاتا تھا۔ نظام بلدیہ کی عمدگی کا ثبوت ان منصوبوں سے ملتا ہے جن کے مطابق شہر آباد کئے جاتے تھے صفائی اور حفظان صحت کے لئے جو انتظامات کئے گئے تھے انہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ موہنجوداڑو مستطیل شکل پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی گلیاں بہت وسیع اور سیدھی تھیں۔ جو شمال سے جنوب کی طرف جاتی تھیں۔ اور دوسری بڑی گلیوں کے ساتھ متوازی تھیں، چھوٹی گلیاں جب بڑی سڑک سے نکالی جاتیں تو نوے درجہ کے زاویہ کے مطابق نکالی جاتیں بالکل اسی طرح جیسے جدید امریکہ کے شہروں کا حال ہے۔ بڑی گلیاں تینتیس فٹ چوڑی ہوتیں اور چھوٹی گلیاں اٹھارہ فٹ چوڑی ہر گلی کوچہ میں فالتو پانی کے اخراج کی نالیاں بنی ہوئی تھیں جن کو بڑی مہارت سے بہترین اینٹوں سے چھت دیا گیا تھا۔ مناسب مقامات پر سوراخ رکھے گئے تھے تاکہ ان کی صفائی کی جاسکے۔ موہنجوداڑو میں پانی کے اخراج کا جو نظام تھا۔ وہ انیسویں صدی میں یورپ کے تمام نظاموں سے بہترین تھا۔ موہنجو داڑو کے باشندوں کو موسیقی اور رقص سے بڑی دلچسپی تھی۔ سانڈوں اور مرغوں کی لڑائی، شکاری کتوں کے ساتھ جانوروں کا شکار ان کی بہترین تفریح تھی۔
(گرولیئر انسائیکلو پیڈیا ،خلاصہ صفحات 110اے، 110 بی ،جلد گیارہ)
ان علاقوں کے باشندوں کے مذہبی عقائد کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ماتا دیوی کی پوجا کیا کرتے تھے۔ جو ان کی زمینوں کی زرخیزی میں اضافہ کا باعث بنتی تھی ان کے زرخیز کھیت، بہترین اجناس پیدا کرتے تھے۔ جن کی مقدار بھی وافر ہوتی اور کیفیت و نوعیت میں بھی بہترین ہوتیں ان کے عقیدہ کے مطابق ماتا دیوی کی وجہ سے ان کے مویشی زندہ و سلامت رہتے، پھلتے پھولتے اور اپنے مالکوں کی مالی حالت کو مستحکم کرتے تھے۔ ان کی اہم عبادت جانوروں کی قربانی تھی جو ماتا دیوی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وہ دیا کرتے تھے۔ اس کے خون سے اس دیوی کے بت کو بھی رنگین کرتے تھے۔ ان کی معیشت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کا انحصار زراعت پر تھا۔ اور ان میں سے بیشتر قبائل خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔
(ورلڈ سویلائزیشن از رالف اینڈ برگ ،صفحہ 77)،(انسائیکلو پیڈیا گرولیئر، صفحہ 110 بی، جلد گیارہ)
اسی علاقہ میں ہندو مذہب، ہندو معاشرہ اور ہندو تمدن نے جنم لیا اور نشوونما پائی اور آریہ کی آمد سے لے کر ڈیڑھ ہزار سال تک اس علاقہ کی سیاسی تاریخ نامعلوم ہے، جو ایک حیرت انگیز بات ہے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آریہ لوگ نوشت و خواند سے بے بہرہ تھے فن تاریخ سے ان کو کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس لئے انہوں نے تحریری طور پر اسے مدون نہ کیا جس کی وجہ سے اس کو فراموش کر دیا گیا۔ آج ہمارے لئے اس کے حُسن و قُبج پر رائے زنی کرنا ممکن نہیں رہا۔ البتہ مختلف کتب کے مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ آریہ اپنے وطن سے سکونت ترک کر کے افغانستان سے گزرتے ہوئے کوہ ہندوکش کے راستہ سے ہندوستان آئے انہوں نے پندرہ صدیاں سندھ طاس میں گزاریں اس کے بعد ان کے بعض قبائل نے مشرقی ہند کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ پہلے گنگا جمنا کے دو آبہ (دو دریاؤں کے درمیان علاقہ) پر اپنا تسلط جمایا اس کے بعد وہ کامروپ یعنی صوبہ بہار تک بڑھتے چلے گئے اس طرح وسطی ہند میں انہوں نے اپنی سیاسی بالا دستی قائم کرلی اور ہندوستان کے قدیم باشندوں دراوڑوں کو انہوں نے جنوبی ہند کی طرف بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ جو دراوڑ قبیلے کسی وجہ سے نقل مکانی نہ کر سکے آریوں نے ان کو اپنے اندر مدغم (داخل) کر لیا اور بندھیا چل کے جنوبی علاقہ کو دراوڑوں کا علاقہ قرار دے دیا گیا اور آرین انہیں بڑی نفرت و حقارت سے دیکھا کرتے۔ کچھ عرصہ بعد ان دونوں ثقافتوں کی باہمی آمیزش سے ہندو مذہب اور سنسکرت زبان جو آریوں کی زبان تھی تمام ہندوستان میں اظہار خیال کا ذریعہ بن گئی۔ دراوڑوں نے اپنی زبان کو بھی باقی رکھا اور اس میں بہترین لٹریچر تخلیق کیا۔ 300 ق م میں ہندوستان میں پندرہ آزاد حکومتیں قائم تھیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں “چندر گپتا موریا” نے شمالی ہندوستان کو ایک سلطنت میں متحد کر دیا اس کے پوتے اشوکا نے اس سلطنت کی توسیع کی اور بہت سے علاقوں کو اس میں شامل کر لیا۔ موریہ خاندان کے زوال کے بعد بھارت پھر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔گپتا خاندان کے بادشاہ دو سو سال تک اس علاقہ میں حکمرانی کرتے رہے انہوں نے پھر شمالی ہند کو متحد کر کے ایک مملکت قائم کی ۔ (انسائیکلو پیڈیا گرولیئر، صفحہ 110بی ، جلد گیارہ)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲