قسط نمبر53 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پچاسواں) (مصر ~ حصہ ہفتم ~ آخری حصہ) (اہل مصر کا فن و ثقافت و مصری معاشرہ)
مصر کا فن و ثقافت: مصریوں کے عمومی تذکروں میں ان کی ثقافت اور ان کے فنون کے بارے میں اشارۃً ذکر آپ پڑھ چکے ہیں۔ مصر کے طول و عرض میں ان کے آثار قدیمہ، ان کی بلند ہمتی اور عظمت کی گواہی دے رہے ہیں۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں آپ یونانی مشہور مورخ ہیروڈیٹس کی یہ تحریر ملاحظہ کریں جس میں اس نے جیزا کے ہرم کے بارے میں کچھ تفصیلات دی ہیں:وہ لکھتا ہے ایک لاکھ مزدور بیس سال تک اس کی تعمیر میں مصروف رہے تب جیزا کا ایک حرم پایہ تکمیل تک پہنچا۔ اس کی کل بلندی چار سو اسی فٹ سے زائد ہے اس میں دو لاکھ سے زائد چونے کے پتھر کے تراشیدہ ٹکڑے لگے ہوئے ہیں اور ان کو اس کمال مہارت سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیا گیا ہے کہ آج کا کوئی ماہر معمار بھی اس طرح کی چنائی نہیں کر سکتا۔ ہر پتھر کے ٹکڑے کا وزن اڑھائی ٹن ہے یعنی ستر من ہے۔
(ورلڈ سولائزیشن از ریلیکس، صفحہ 35)
ان کے مندر بڑی طویل و عریض عمارات پرمشتمل ہوتے تھے عمارت کا ہر حصہ ایک خاص کام کے لئے مخصوص ہوا کرتا تھا کہیں عبادت ہوتی تھی کہیں درس و تدریس کا شغل جاری رہتا تھا۔ کہیں مہمانوں کو رہائش کی سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں ۔قاہرہ میں عجائب گھر دیکھنے سے اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے مزید گنجائش باقی نہیں رہتی۔
مصری معاشرہ: مصری معاشرہ میں سب سے اعلیٰ طبقہ مذہبی پیشواؤں اور امراء کا شمار کیا جاتا تھا جو تعداد میں بہت قلیل تھے۔ لیکن اختیارات اور اثر و نفوذ میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ان کے نیچے محنت و مشقت کرنے والے لاکھوں کسان تھے زمین اصلاً فرعون کی ملکیت مانی جاتی تھی۔ عمرانی نظام میں یہ اصول مسلم تھا کہ ہر شخص اوپر سے آئے ہوئے ہر حکم کی پابندی کرے صرف سیاسی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ وہ اسے ایک مذہبی فریضہ بھی سمجھے جو کام کسی کے سپرد کیا جائے۔ اور جہاں کسی کو متعین کر دیا جائے اور اسے چاہئے کہ وفاداری سے اپنے فرض کو بجا لائے۔ قدیم مصر کا معاشرہ مطلق العنانی پر مبنی تھا۔ یونانی بطلیموسیوں کا دور آیا۔ تو انکے ماتحت مصری سلطنت نے ایک سرمایہ دار حکومت کی شکل اختیار کر لی جس میں تمام اقتصادی سرگرمیاں حکومت کی تجاویز کے مطابق عمل میں آتی تھیں۔ عہد قدیم میں مصری بادشاہ اپنی بہن کے ساتھ شادی کر لیا کرتا تھا۔ اور بسا اوقات اپنی بیٹی کو اپنی بیوی بنا لیا کرتا تھا۔ اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ شاہانی خاندان کے خون کو بیرونی عناصر کے خون کی آلودگی سے ہم پاک رکھنا چاہتے ہیں۔ بادشاہوں کی یہ عادت ان کے شاہی محلات تک محدود نہ تھی بلکہ ان کی رعایا میں بھی اس قبیح فعل کو قبول عام حاصل ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ دوسری صدی عیسوی میں ارسینوئی کے دو تہائی باشندے اس طریقہ کار پر عمل پیرا تھے۔ ول ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ عورت کو مرد پر اس زمانہ میں غلبہ حاصل تھا۔ یونان کا ایک سیاح دیودور الصقلی جب مصر آیا اور یہاں کے معاشرہ میں عورت کی بالا دستی کو دیکھا تو اس نے از راہ مذاق کہا یوں معلوم ہوتا ہے کہ وادی نیل کے نکاح نامہ میں جو شرطیں لکھی جاتی ہیں ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ مرد اپنی عورت کا اطاعت گزار ہو گا۔
(قصۃ الحضارة، صفحہ 96، جلد اول ،جز ثانی)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲