Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر52 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: انچاسواں) (مصر ~ حصہ ششم) (اہل مصر کی تعلیم اور اقتصادی حالات)
عام طور پر تعلیم موروثی ہوتی ہے، یعنی باپ اپنا علم اور اپنا فن اپنی اولاد کو سکھاتا ہے۔ لیکن اٹھارہویں خاندان کے عہد حکومت میں بڑے بڑے شہروں میں اسکول بھی کھول دیئے گئے جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے تھے۔ قدیم زمانہ کی مصری عمارتیں خصوصاً مندر اور اہرام ان کے فن تعمیر اور ریاضیات میں مہارت کے ناقابل تردید شواہد ہیں “انسائیکلو پیڈیا گلورئیل” کے مقالہ نگار نے تحریر کیا ہے۔ پٹولیمیز (PTOLEMIES) خاندان کے عہد حکومت میں مصر دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ دولت مند تھا۔ آپ پیچھے اسکندریہ کی فلسفی اور ماہر ریاضی دان ہپاٹیا ( HYPATIA) کے درد ناک قتل کا واقعہ پڑھ چکے ہیں بہر حال اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسکندر یہ علم اور فلسفہ کا مرکز تھا۔ اور لوگ دور دور سے حصول علم کے لئے اسکندریہ کی درسگاہوں اور علماء کی خدمت میں حاضری کے لئے مصر کا سفر کرتے تھے۔ (انسائیکلو پیڈیا گلورئیل، صفحہ 271، جلد ہفتم) مصر کے اقتصادی حالات: جیسے ابتداء میں بتایا گیا ہے کہ دریائے نیل کا پانی زراعت کے لئے از حد مفید ہے۔ ریگستان کا جو حصہ اس دریا کے پانی سے سیراب ہوتا ہے وہ قلیل مدت میں سر سبز و شاداب کھیتوں، لالہ زاروں اور مرغزاروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ ملک معاشی لحاظ سے بہت خوشحال تھا۔ اور دنیا کا کوئی اور ملک خوشحالی میں اس کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا تھا۔ رومیوں نے اسے تیس سال قبل مسیح میں فتح کیا اور 640ء تک اس پر حکمران رہے مصر کی آزادی کا اختتام اس کے لئے موت کا پیغام تھا۔ رومیوں کی غلامی کے بعد اس کی معاشی حالت میں انحطاط اور زوال رونما ہونے لگا یہ روم کے شہنشاہ کے لئے ایک دودھ دینے والی گائے بن گیا جسے رومی تاجدار کی ذاتی جائیداد سمجھا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کی تمام دولت و ثروت نچوڑ لی گئی۔ روم کو سامان خورد و نوش پہنچانے کے لئے یہاں کے غلے پر ٹیکس لگایا گیا اور رومن ممالک کے خزانہ میں سونے چاندی کے انبار لگانے کے لئے ان کی نقدی پر ٹیکس لگایا گیا تین چار صدیوں کی رومن غلامی کے عہد میں مصر کی مالی حالت اتنی دگرگوں ہو گئی کہ تانبے کا معمولی قیمت کا سکہ بھی ٹکسال میں بننا بند ہو گیا اور لوگ جنس کے بدلے جنس فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے رومن دور حکومت کی سب سے بڑی یادگار وہ فسادات ہیں جن میں قتل عام کیا جاتا تھا۔ رومن حکومت عربوں کے چند ہزار شہسواروں کا مقابلہ نہ کر سکی۔ اور اس نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ عربوں کے دور حکومت میں اسلام کے عادلانہ نظام معیشت کی برکت سے اس ملک کی معاشی خوشحالی لوٹ آئی۔ اور اس کا سالانہ خراج اتنا بڑھ گیا کہ اس زمانہ کے تمام ممالک سے زیادہ تھا۔ (انسائیکلو پیڈیا گلورئیل، صفحہ 271، جلد ہفتم) مصر کی زمین جاگیرداروں کی اور بڑے لوگوں کی ملکیت تھی پولیس اور محافظین کے دستے اس زمیندار کے ذاتی ملازم ہوا کرتے تھے مصر کی معاشی حالت کے بارے میں بٹلر رقمطراز ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ رومیوں نے جو ٹیکس لگائے تھے وہ بہت زیادہ اور غیر منصفانہ تھے انہوں نے اعلیٰ طبقات کے لوگوں کو ہر قسم کے ٹیکس ادا کرنے سے مستثنی قرار دے دیا تھا۔ اسکندریہ کے رہنے والوں سے بندرگاہ کا ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا تھا مسلمانوں نے مصر فتح کرنے کے بعد لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کر دیا اور جو طبقات ٹیکسوں سے مستثنی تھے ان سے بھی ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا مسلمانوں نے اہل مصر پر جزیہ کے نام سے جو ٹیکس لگایا وہ دو دینار سالانہ فی کس تھا۔ لیکن اس سے بوڑھے، بچے، عورتیں ، غلام، مجنون اور گداگر مستثنی تھے۔ (عربوں کی فتح مصر از بٹلر، صفحہ 453-454) ” دی ہسٹورین ہسٹری آف دی ورلڈ” کے مصنفین اس موضوع کے بارے میں رقمطراز ہیں مصر اپنے حیران کن قدرتی وسائل اور جفاکش اور محنتی باشندوں کے باعث عرصہ دراز سے رومی مملکت کا ایک بڑا قیمتی صوبہ تھا۔ وہ اپنی آمدن کا بہت بڑا حصہ شاہی خزانہ کی نذر کرتا تھا۔ اس کی زراعت پیشہ آبادی جو سیاسی اثر و نفوذ سے بالکل محروم تھی کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ صرف مختلف قسم کے ٹیکس ہی ادا نہ کریں بلکہ ان کے علاوہ ایک خاص لگان بھی رومی حکومت کو ادا کریں۔ جو مزروعہ زمین پر پیشہ کے طور پر ادا کیا جاتا تھا۔ ان حالات میں مصر کی معاشی حالت دو بزوال تھی۔ (ہسٹورین ہسٹری ،صفحہ 183، جلد ہفتم) یہی مصنفین اسی کتاب کے صفحہ 75 پر حقیقت حال ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ٹیکسوں کی بھر مار کی وجہ سے مصر کی معاشی حالت عمومی انحطاط کا شکار تھی کاروبار کے گھٹ جانے، زراعت کو پس پشت ڈالنے اور مصری آبادی کے رفتہ رفتہ کم ہونے کے باعث بڑے بڑے شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو گئے تھے جو پھر کبھی سنبھل نہ سکے اور ان کی سابقہ خوشحالی کبھی واپس نہ لائی جاسکی۔ (ہسٹورین ہسٹری ،صفحہ 175، جلد ہفتم) جس ملک کے باشندوں کو سائرس جیسے ظالم اور سنگدل گورنر نے دس سال تک آلام و مصائب کی چکی میں پیسا ہو ان کی معاشی خستہ حالی کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top