قسط نمبر51 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اڑتالیسواں) (مصر ~ حصہ پنجم) (اہل مصر کے مذہبی عقائد ~ حصہ چہارم ~ آخری حصہ)
سائرس نے جو مظالم قبطیوں پر ڈھائے ان کی فہرست بہت طویل ہے ان میں سے صرف ایک واقعہ بطور مثال ہم پیش کرنا چاہیں گے۔بنیامین، قبطیوں کا ایک معزز پادری تھا اس کا بھائی میناس (MENAS) قبطی عقیدہ کا پیرو کار تھا۔ اسے سائرس کے سامنے پیش کیا گیا اور بڑا ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہا۔ پھر مشعلیں روشن کر کے اس کے پہلوؤں کے قریب کی گئیں جنہوں نے اس کی جلد اور گوشت کو جلا دیا اور چربی پگھل کر نیچے گرنے لگی لیکن اس کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی تب اس کے منہ سے ایک ایک کر کے دانت اکھیڑ لئے گئے پھر اسے ایک ریت کی بوری میں بند کر دیا گیا اور اسے سمندر کے ساحل پر لے گئے، تین مرتبہ اسے کہا گیا اگر اسے زندگی عزیز ہے تو اپنے عقیدہ سے توبہ کرے۔ اور کالسیڈن کی کونسل کا منظور شدہ عقیدہ اپنا لے تینوں بار اس نے ان کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ پھر اسے سمندر میں ڈبو دیا گیا۔ (عربوں کی فتح مصر از ایلفرڈ بٹلر، صفحہ 174)
قبطی عیسائیوں اور رومیوں میں جو نفرت جڑ پکڑ چکی تھی وہ آگے چل کر بڑے المناک حادثات کا سبب بنی۔ مسلمانوں نے بابلیون ( مصر کا ایک شہر) کا محاصرہ کر لیا۔ رومی محاصرہ کی شدت کی تاب نہ لا سکے اور ہتھیار ڈال دیئے اور وعدہ کیا کہ وہ تین دن کے اندر شہر کو خالی کر کے چلے جائیں گے۔ اتفاق ملاحظہ کیجئے کہ مسلمانوں نے جس روز بابلیون پر حملہ کیا وہ گڈ فرائیڈے (6 اپریل 641ء) تھا۔ یہ عیسائیوں کا ایک بڑا مقدس دن ہے اور عیسائیوں کی وہاں سے اخراج کی تاریخ ایسٹر منڈے تھی۔ یہ دن بھی عیسائیوں کا ایک مقدس مذہبی تہوار تھا۔ اس کے باوجود کہ مسلمان تین دن بعد اس شہر میں داخل ہونے والے تھے اور مسیحیت کا پرچم یہاں ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہونے والا تھا ان سنگین حالات میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے ان کی باہمی نفرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو قبطی عیسائیوں اور رومی عیسائیوں کے درمیان تھی۔ اس واقعہ سے پہلے رومیوں نے بابلیون کے بہت سے قبطیوں کو گرفتار کر کے قید خانہ میں ڈال دیا تھا۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ رومیوں کے اصرار کے باوجود انہوں نے اپنے عقیدہ سے دست بردار ہونا منظور نہ کیا یا انہیں یہ اندیشہ تھا کہ یہ قبطی ہمارے ساتھ بے وفائی کریں گے ایسٹر کے دن انہوں نے ان قیدیوں کو جیل سے نکالا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ ان قیدی قبطیوں کے ہاتھ کاٹ دیں کیونکہ اس فروعی اختلاف کے باعث رومی قبطیوں کو بت پرستوں سے بھی زیادہ غلیظ اور پلید سمجھتے تھے۔
اہل مصر کے مذہبی حالات کے بارے میں آپ نے تفصیلی جائزہ پڑھ لیا۔ اب ان کے مذہب کے چند دوسرے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مصری ابتداء سے ہی حیات بعد الموت کے قائل تھے۔ ان کا یہ ایمان تھا کہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کیا جاتا ہے اور اس کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جاتی ہے اس عقیدہ کے پیش نظر ان کے ہاں مردوں کی تکفین و تدفین کے بارے میں بڑی عجیب و غریب رسمیں تھیں۔وہ ان کی قبر میں اور چیزوں کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ دیا کرتے تھے اور جب ان کا کوئی بادشاہ مرتا تو اس کے لئے پہاڑوں کو کھود کر بہت وسیع و عریض مدفن تیار کیا جاتا جو کئی کمروں پر مشتمل ہوتا ۔ ماہرین آثار قدیمہ نے صعید مصر میں وادی ملوک اور وادی ملکات دریافت کی ہیں وادی ملوک میں بادشاہوں کے مقبرے ہیں اور ان کا نقشہ عام طور پر ایک ہی قسم کا ہوتا ہے۔ داخلہ کے لئے پہاڑی کھود کر وسیع و عریض راستہ بنایا جاتا۔ جو چھ سات فٹ چوڑا اور چھ سات فٹ اونچا دور تک پہاڑی میں چلا جاتا۔ اس سے آگے ایک کمرہ کے برابر گڑھا کھود دیا جاتا۔ پھر اس سے آگے دوسرا کمرہ ہوتا جس میں شاہی تابوت رکھا جاتا جس میں بادشاہ کی حنوط شده ممی (لاش) رکھی ہوتی اس کے دائیں بائیں دو کمرے ہوتے جن میں بادشاہوں کی ضرورت کا سامان شاہانہ انداز سے رکھ دیا جاتا سونے کے زیورات، سونے کا تخت، سنہری کرسی اور دیگر قیمتی چیزیں ان اشیاء کے علاوہ کئی برتنوں میں گندم اور دوسری کھانے کی چیزیں رکھ دی جاتیں پانی سے بھرے ہوئے کئی مٹکے بھی رکھ دیئے جاتے ماہرین آثار قدیمہ نے جو مقبرے دریافت کئے ہیں اور انکی کھدائی کی ہے وہاں سے یہ ساری چیزیں دستیاب ہوئی ہیں جن سے کئی چیزیں مصر کے عجائب گھر میں بھی موجود ہیں صرف اسی پر اگر اکتفا کیا جاتا تو اس کو یہ کہہ کر برداشت کر لیا جاتا کہ انہوں نے اپنے مذہبی جذبات کی تسکین کے لئے اتنی دولت کا ضیاع کیا۔
لیکن اس سے بھی سنگین امر یہ ہے کہ اس عقیدہ کے پیش نظر کہ دفن کرنے کے بعد بادشاہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا اور اس کو اس دنیوی زندگی کی طرح خدام اور خادماؤں کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے خادموں اور خادماؤں کی ایک جماعت اس مقبرہ کے ایک کمرے میں کھڑی کر دی جاتی۔ اس اہتمام کے بعد داخلہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا۔ اس کے سامنے بڑی بڑی چٹانیں ، مٹی اور ریت کے ڈھیر لگا دیئے جاتے اور اس کو باہر سے اس طرح بند کر دیا جاتا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہاں کوئی بادشاہ اپنے زیورات اور ہیروں اور جواہرات کے ساتھ مدفون ہے۔ بادشاہ کی میت پر تو جو گزرتی ہوگی وہ گزرتی ہوگی لیکن ان زندہ خدام اور خادماؤں پر جو گزرتی ہوگی اس کا تصور کر کے ہی لرزہ طاری ہو جاتا ہے کچھ وقفے کے بعد اس گھپ اندھیرے میں جب وہ پیاس اور بھوک کی شدت سے تڑپتے ہوں گے اور بے بسی کے عالم میں دم توڑ دیتے ہوں گے تو کیا انسانیت اپنے فرزندوں کی اس بہیمانہ ہلاکت پر سر نہیں پیٹ لیتی ہوگی۔ لیکن یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ ان مقابر سے جہاں سے کھدائی کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کو بادشاہ کے زیورات شاہی، تخت شاہی، کرسی، گندم کے دانوں سے بھرے ہوئے مٹکے اور دوسری چیزیں ملی ہیں وہاں ان بے زبان اور مظلوم خادموں اور خادماؤں کے ڈھانچے بھی ملے ہیں جو اس غلط نظریہ کی بھینٹ چڑھتے رہے اور عقل انسانی کی کج فہمی اور نارسائی پر ماتم کرتے رہے ۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اس ظلم شنیع پر نہ کسی مذہبی پیشوا کو اعتراض کرنے کی جرأت ہوئی اور نہ ان بیکسوں اور بے بسوں کی دردناک موت پر کسی کا دل تڑپا۔ اور نہ ہی ملکی خزانہ کے اس ضیاع پر کسی نے احتجاج کی ضرورت محسوس کی اور یہ سلسلہ صدیوں جاری رہا۔ اور ایک بادشاہ کے بعد جب دوسرا بادشاہ داعی اجل کو لبیک کہتا تو اس کے ساتھ بھی ان بے بس غلاموں کا ایک گروہ ہلاکت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲