قسط نمبر50 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: سینتالیسواں) (مصر ~ حصہ چہارم) (اہل مصر کے مذہبی عقائد ~ حصہ سوئم)
علامہ ابو العباس احمد بن علی المقریزی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایلفرڈ ٹیلر لکھتا ہے کہ:ایرانیوں نے مصر میں فتح کے بعد بے شمار عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ اور ان میں سے بے شمار لوگوں کو جنگی قیدی بنایا ان کے بہت سے گرجوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا یہودیوں نے عیسائیوں کے اس قتل عام اور گرجوں کے انہدام میں ایرانیوں کی مدد کی۔ ایک دفعہ تو خسرو نے رومی مملکت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ بیت المقدس پر قبضہ کر کے وہاں بیس روز تک قتل عام اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ نوے ہزار عیسائی مارے گئے ہزار بشپ اور نن ( راہبہ عورتیں ) تہ تیغ کر دی گئیں۔ اور ان کے گرجے گرا دیئے گئے اور وہ صلیب جس پر عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو معاذ اللہ پھانسی دیا گیا تھا جو ان کے نزدیک مقدس ترین چیز تھی۔ خسرو نے وہ بھی ان سے چھین لی اور رومی مملکت کے بہت سے صوبے فلسطین، شام، مصر وغیرہ پر اپنا قبضہ کر لیا، اس تباہ حالی کے بعد ہرقل نے کمر ہمت باندھی اور اس جرأت و بہادری سے حملہ آور ہوا کہ بالکل نقشہ بدل کر رکھ دیا، بیت المقدس کو ایرانیوں سے آزاد کرایا، وہ مقدس صلیب بھی ان سے واپس لے لی۔
رومی سلطنت کے جن علاقوں میں خسرو قابض ہو گیا تھا ان سب کو از سر نو فتح کیا ہرقل کی پے در پے فتوحات اور خسرو کی پے در پے شکستوں کے باعث عیسائی دنیا میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود ساری عیسائی ملت ہرقل کو اپنا ہیرو سمجھنے لگی۔ مصر کے دو عیسائی فرقے قبطی اور ملکانیہ جو صدیوں سے ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے، ان دونوں نے ان فقید المثال فتوحات پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا یہ زریں موقع تھا اس سے فائدہ اٹھا کر ساری مسیحی ملت کو متحد اور منظم کیا جا سکتا تھا، ہرقل نے کوشش بھی کی کہ عیسائیوں کو متحد کر دے۔ اور اس نے اپنی طرف سے تین مشرقی اسقفوں کے مشورے سے ایک ایسا فارمولا تیار کیا۔ جس پر سب عیسائی فرقوں کا اتحاد ظہور پذیر ہو سکتا تھا لیکن اس نے اس بات کا خیال نہ کیا کہ ہو سکتا ہے کہ مصر کا کلیسا اس کے فارمولے کو پسند نہ کرے اس صورت میں ہرقل کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا کہ وہ تشدد سے اپنے فارمولے کو زبردستی نافذ کرے اور مصریوں کو اسے قبول کرنے پر مجبور کر دے چنانچہ ہرقل نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنے اس نظریہ کو سارے ملک میں نافذ کر کے رہے گا۔ اور اس کے زیرنگیں بسنے والے تمام عیسائی فرقوں کو طوعا و کرھا اس کی پابندی کرنا پڑے گی۔ اس موقع پر ہرقل سے ایک اور خطرناک غلطی سرزد ہوئی کہ اس نے فیسس (PHASIS) کے بشپ سیرس (CYRUS) کو اسکندریہ کا اسقف اعظم بنا دیا اور ساتھ ہی اس کو مصر کا گورنر بھی مقرر کر دیا۔ یہ ایسا غلط انتخاب تھا جس نے اتحاد کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا وہ دس سال تک اس عہدہ پر متمکن رہا۔
اور تاریخ میں اس بات کی کوئی ادنی شہادت بھی نہیں کہ اس نے قبطیوں کے اسقف کے ساتھ افہام و تفہیم یا مصالحت کرنے کی کبھی کوئی کوشش کی ہو۔ سائرس نے پہلے یہ ظاہر کیا کہ وہ عیسائیت کے فرقوں میں باہمی اتحاد و اتفاق قائم کرنے کے لئے یہاں آیا ہے اس نے جب سب کے سامنے ہرقل کا وہ فارمولا پیش کیا جس سے ہرقل کو یہ امید تھی کہ وہ ملکانیہ اور قبطی فرقوں کو اس کے ذریعہ متحد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن اس کی یہ امید بر نہ آئی سائرس اس اجتماع میں اس فارمولا کو نہ صحیح طور پر بیان کر سکا اور نہ صحیح طور پر سمجھا سکا اور نہ سامعین نے اس کو صحیح طور پر پذیرائی بخشی۔ ملکانیہ فرقہ کے نمائندوں کو یہ بدگمانی ہو گئی کہ بادشاہ نے کالسیڈن کی کونسل کے اس فیصلہ کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور وہ اپنے مذہب سے ارتداد کا مرتکب ہوا ہے قبطیوں نے اس فارمولا کو سنا تو وہ یہ سمجھے کہ جب اس طرح مسیح کی ایک مشیت اور ایک عمل کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو لازمی طور پر مسیح کی ایک فطرت بھی تسلیم کرلی گئی ہے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سائرس نے ان کے عقیدہ کو قبول کر لیا ہے سائرس نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ایک اور مذہبی اجلاس طلب کیا لیکن وہ بے سود رہا۔ اور اس فارمولا کی جو تعبیر سائرس نے اس اجلاس میں کی اس نے قبطیوں کو برافروختہ کر دیا۔ انہوں نے اس فارمولا کو بڑی سختی سے مسترد کر دیا اگر دونوں فریق روا داری اور فراخدلی سے کام لیتے تو اختلاف کی اس خلیج کو پاٹا جا سکتا تھا۔
لیکن دونوں فرقوں کے سربراہوں کی تنگ دلی نے اس زریں موقع کو ضائع کر دیا پھر دونوں فرقوں کو اس کے نقصانات برداشت کرنے پڑے اور قبطیوں کے لئے مصائب و آلام کے ایسے دور کا آغاز ہوا جس کا تصور کر کے ہی انسان لرز جاتا ہے۔ سائرس نے جب محسوس کیا کہ سرزنش اور خوشامد دونوں ذریعوں سے وہ قبطیوں کے دل نہیں جیت سکا اور انہیں اپنا طرفدار نہیں بنا سکا تو اس نے سخت رویہ اختیار کیا اور اس میں شک نہیں کہ اسے اس اقدام میں ہرقل کی اشیرباد بھی حاصل تھی۔ سائرس نے ہرقل کے پیش کردہ فارمولا میں کسی ایسی ترمیم کی کوشش نہ کی جس کے باعث قبطی خوشدلی سے اس کو قبول کر لیں بلکہ اس نے قبطیوں کے سامنے دو تجویزیں پیش کیں یا تو وہ کالسیڈن کے منظور کردہ فارمولے کو من و عن تسلیم کر لیں یا ہر قسم کی اذیت رسانی بلکہ موت کے لئے تیار ہوں۔ سائرس نے اسکندریہ میں اکتوبر 631ء میں مجلس کنیسہ منعقد کی اور قبطیوں کو راہ راست پر لانے کے لئے ہر قسم کے اقدامات کی منظوری لے لی ۔ اس کے ایک یا دو ماہ بعد تشدد اور ایذا رسانی کا ایک ایسا ہولناک سلسلہ شروع ہوا جس کے ذکر سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور جس کا ایک ہی نتیجہ نکلا کہ قبطی عیسائی، رومی عیسائیوں سے ہمیشہ کے لئے متنفر ہو گئے وہ اغیار کی غلامی کا طوق ڈالنے کے لئے تیار تھے لیکن انہیں اپنے ہم مذہب رومیوں کی رعایا بن کر رہنا گوارا نہ تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنے مذہب کو قربان کر دیا تا کہ انہیں اپنے ہم مذہب مد مقابل فریق پر فتح حاصل ہو سکے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲