قسط نمبر48 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پنتالیسواں) (مصر ~ حصہ دوئم) (اہل مصر کے مذہبی عقائد ~ حصہ اول)
ابتداء میں ہر قبیلہ کا الگ خدا ہوتا تھا اور ہر قبیلہ صرف اپنے ہی خدا کی پوجا کرتا تھا۔ کسی دوسرے قبیلہ کے خدا کو پہلے قبیلے والے اپنا خدا نہیں تسلیم کرتے تھے۔ اس طرح ایک محدود قسم کی توحید کا تصور پایا جاتا تھا۔ ایک دوسری صورت بھی تھی کہ وہ ایک موقع پر کسی ایک دیوتا کی پرستش کرتے اور اس کے ساتھ کسی اور کی پرستش نہ کرتے اور دوسرے موقع پر اسی طرح ایک اور دیوتا کو اپنی پوجا پاٹ کے لئے مختص کر لیتے اور اس وقت کسی اور دیوتا کی رسم پرستش ادا نہ کرتے۔ البتہ ایک مکتبہ فکر “ہیلیوپولس” کے مذہبی رہنما ایک الہ کے قائل تھے “را” یعنی سورج دیوتا کی پرستش کرتے تھے اور ایک محدود وقت کے لئے صرف اسی کو رب کائنات سمجھا جاتا تھا۔ ایمن ہوٹپ-3 (AMENHOTEP III) کے زمانہ میں صرف اور صرف قُرص آفتاب (سورج کی ٹکیا) کی پرستش کی جاتی تھی اور اس کے بیٹے اخناتون نے اس مکتب فکر کو حکومت مصر کا سرکاری مذہب بنا لیا تھا۔ اور سب اہل مصر کو اس عقیدہ پر ایمان لانے کی پر زور اور پر جوش تبلیغ کیا کرتا۔ اس کی زندگی تک تو یہ مکتب فکر رُو بَہ ترقی رہا، لیکن جب اسکی وفات ہوئی تو اہل مصر خوشیاں مناتے ہوئے اپنی قدیم اصنام پرستی کی طرف لوٹ گئے۔ اہل مصر میں سے جو تعلیم یافتہ تھے انہیں خدا کا تصور تو تھا، لیکن وہ ایک خدا کو نہیں مانتے تھے۔ ان کی یہی سب سے بڑی توحید تھی کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک دیوتا کی پرستش کرتے۔
(انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، صفحہ 52-53 جلد ہشتم)
جن خداؤں کے بارے میں ہمیں صحیح علم ہے وہ یہ تین خدا ہیں۔ اوسیرس (OSIRIS)، آئس (ISIS)، ہورس (HORUS) عوام الناس کے ہاں یہی تین افراد کا کنبہ بہت مقبول تھا۔ آہستہ آہستہ ان میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کے معبودوں کا سلسلہ ایک گورکھ دھندا (نہ حل ہونے والا مسئلہ) بن گیا جو نہ سمجھنے کا اور نہ سمجھانے کا۔ ان کے نزدیک سانپ ، نیولا، گوبر میں پیدا ہونے والا بھنورا سب کو تقدس حاصل تھا اور ان کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی۔ بالائی مصر کے معبود اور زیریں مصر کے معبود الگ الگ تھے۔ جیسے تحریر کیا گیا ہے کہ ابتداء میں ہر قبیلہ کا ایک خدا ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ کسی اور کی نہ عبادت کرتے تھے اور نہ اس کی الوہیت کو تسلیم کرتے تھے جب قبیلوں کا آپس میں امتزاج شروع ہوا تو دو خداؤں کی پرستش ہونے لگی۔ ایک خاوند کے قبیلہ کا خدا اور دوسرا بیوی کے قبیلہ کا خدا۔ اگر بیوی خاوند کے قبیلہ کے علاوہ کسی اور قبیلہ کا فرد ہوتی اور ان سے جو اولاد پیدا ہوتی ان کا الگ خدا ہوتا۔ اس طرح ایک خاندان میں ایک کے بجائے تین خداؤں کی پرستش ہونے لگی۔ آگے چل کر نئے خدا مقرر کئے گئے۔ اس طرح یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا آخر کار خداؤں کی ایک بھیڑ لگ گئی۔ جن کو ہم چار قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
1) وہ خدا جن کا تعلق حیوانات سے تھا۔
2) وہ خدا جن کا تعلق انسانوں سے تھا۔
3) وہ خدا جن کا تعلق نظام شمسی سے تھا۔
4) وہ خدا جو مادہ اور صورت سے مجرد تھے۔
جیسے وہ دیوتا جو باپ تھا۔ وہ دیوی جو ماں تھی۔ پیدا کرنے والا خدا۔ سچائی کا خدا وغیرہ وغیرہ۔ یہ افسانے بھی مروی ہیں کہ وہ اپنے خداؤں کا شکار کرتے ان کو قتل بھی کر دیتے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے اعضاء کو پکاتے اور اس پر جشن مناتے ۔ یہ افسانے اس وقت سے پہلے کے ہیں جب مصریوں نے اوسیرس کی پوجا شروع کی مصری یہ سمجھتے تھے کہ اس دیوتا نے مصریوں کو آدم خوری اور تشدد کی عادتوں سے نجات دلائی ہے مصریوں کے یہ عقائد قبل از تاریخ کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مصر جب تاریخ کے دور میں داخل ہوا تو اس کے اہم دیوتا یہ تھے ۔ہر موپولس، مین بن باس اور لق لق کی پرستش ہوتی تھی۔ ڈیلٹا کے شہروں میں شیر کی۔ بوباسطس (BUBASTIS) کے مندر میں بلیوں کی، ممفس ہیلیو پولس، ہرمونتھس میں سانڈوں کی، منڈس اور تھیبسں میں مینڈھے کی۔ فیوم میں مگرمچھ کی، ہیرا کون پولس (HIERAKON POLIS) اور کوپٹاس (COPTOS) میں شاہین کی اور بٹو ( BUTO) میں ناگ کی اور کئی قسم کی مچھلیوں کی پوجا کی جاتی تھی وغیرہ وغیرہ، وہ معبود جو محض انسان تھے وہ یہ تھے اوسیرس۔ آئس۔ نبھاتھ اور ہورس۔ وہ خدا جن کا تعلق نظام شمسی سے تھا۔ ان میں “را” (آفتاب) جس کو آتن (ATEN) بھی کہتے تھے۔اور انہر (فلک) سوپڈو (روشنی) گیب (GEB) زمین وغیرہ تھے اور مجرد خداؤں میں فتا (PTAH) خالق کائنات مِن (MIN) باپ ہاتھور (HATHOR) ماں ۔ ماتھ (MAAT) سچائی وغیرہ تھے۔
(انسائیکلوپیڈیا گرولیر (GROLIER) ،صفحہ 273، جلد ہفتم)
ان عقائد میں صرف ایک بار وقتی تبدیلی آئی جب کہ اخناتون نے تمام خداؤں کی خدائی کا تختہ الٹ دیا۔ اور صرف آتن ( آفتاب ) کو خدائے واحد تسلیم کیا اس نے یہ کوشش کی کہ مصری قوم صرف سورج دیوتا کی پوجا کرے، اس کے ضمن میں یہ تصور کار فرما تھا کہ سورج دیوتا ہی انسان کی قسمت کا مالک کامل ہے نیکی پیدا کرنے والا ہے امن پسند لوگوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور مجرموں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا ہے فقط یہ ہی ایک خدا ہے اس کے علاوہ اور کوئی خدا نہیں۔
(ورلڈ سولائزیشن، صفحہ 34)
چوتھی صدی قبل مسیح تک مصریوں کے تیس خاندان حکمران رہے، پھر مصر پر سکندر نے قبضہ کر لیا۔ اور بطلیموسیوں کا یونانی شاہی خاندان مصر پر حکومت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اینٹونی اور قلو پطرہ نے شکست کھائی، تمہیں قبل مسیح سے 640ء تک یعنی مسلمانوں کی فتح مصر تک، مصر رومیوں کے زیرنگین رہا۔ اس وقت رومی خود بت پرستی کی لعنت میں مبتلا تھے۔ اس لئے مصر پر قابض ہونے کے بعد مصری اپنے دیوتاؤں کی پرستش کرتے رہے اور رومی اپنے دیوتاؤں کی، جب چوتھی صدی عیسوی کی ابتدا میں قسطنطین نے عیسائیت قبول کی اور عیسائیت کو سلطنت کا سرکاری مذہب قرار دے دیا گیا تو عیسائی مشنریوں نے رومی سلطنت کے تمام صوبوں میں بڑے زور و شور سے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی۔ مصر بھی ان کا ایک مقبوضہ خطہ تھا، یہاں بھی عیسائی مبلغین مصریوں کو اپنے قدیم آبائی عقائد سے برگشتہ کر کے عیسائی بنانے میں مصروف رہے اور اس میں انہیں کافی حد تک کامیابی ہوئی۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲