قسط نمبر42 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:انتالیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ ششم) (اہل روم کے معاشرتی حالات ~ حصہ اول)
سلطنت رومہ کی آبادی دو طبقوں میں منقسم تھی۔ ایک طبقہ امراء کا تھا اور دوسرا عوام کا ۔امراء کا طبقہ خوشحال خاندانوں پر مشتمل تھا۔ شہریت کے پورے حقوق انہیں کو حاصل تھے اس طبقہ میں صرف وہ لوگ شامل تھے جو زرعی زمینوں کے وسیع و عریض قطعات کے مالک تھے۔ یا بڑی بڑی جائیدادوں والے کنبوں سے وابستہ تھے اس طبقہ کے تمام افراد عیش و عشرت کی زندگی بسر نہیں کرتے تھے بلکہ کھیتوں میں محنت و مشقت بھی کرتے تھے۔ امراء کے طبقہ میں سے ایک فوجی ہیرو سنسنیٹس (CINCINNATUS) تھا۔ جس نے پانچویں صدی قبل مسیح کے وسط میں دو مرتبہ رومہ کو دشمن کی یلغار سے بچایا تھا۔ اور اسے فتح یاب کیا۔ جب بھی اسے فوج کا سپہ سالار بننے کی دعوت دی گئی۔ ہر مرتبہ وہ اپنے کھیتوں میں ہل چلا رہا تھا۔ آبادی کی بہت بڑی اکثریت کا تعلق طبقہ عوام سے تھا وہ لوگ صرف جزوی حیثیت سے شہری تھے جمہوریت کے ابتدائی دنوں میں انہیں یہ اجازت نہ تھی کہ فوج میں بھرتی ہو سکیں اور دفاعی خدمات بجا لائیں۔ لیکن وہ سپارٹا کے غلاموں کی طرح حد درجہ مظلوم بھی نہ تھے انہیں خاص سیاسی حقوق حاصل تھے۔
بادشاہی کا تختہ الٹا تو پہلے پہل امراء کا طبقہ جمہوریت کے تمام سیاسی اداروں پر قابض ہو گیا۔ سینٹ اور اسمبلی کے ارکان امراء کے طبقہ سے لئے جاتے تھے قونصل کا عہدہ بھی طبقہ امراء کے لئے مخصوص تھا۔ قونصل دو ہوتے تھے جنہیں ایک سال کے لئے انتظامی معاملات میں کلی اختیارات دے دیئے جاتے تھے۔ البتہ ایک قونصل دوسرے قونصل کے خلاف ویٹو کا حق (حق تنسیخ) استعمال کر سکتا تھا۔ اس پابندی کی وجہ سے کوئی پالیسی اس وقت تک بند نہیں ہو سکتی تھی جب تک دونوں قونصل اس کی حمایت پر متفق نہ ہوجاتے۔ عام حالات میں قونصل سینٹ کے مشورہ کے مطابق حکومت کے فرائض انجام دیتے سینٹ کے ممبروں کی تعداد تقریباً تین سو تھی یہ صرف امراء کے طبقہ سے لئے جاتے تھے۔ سینٹ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اسمبلی کے فیصلوں کو ویٹو سے منسوخ کر دے رومہ کے شہری خواہ ان کا تعلق امراء سے ہو یا عوام سے اسمبلی میں شرکت کا حق رکھتے تھے تاہم تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود امراء کا طبقہ ہی اسمبلی میں با اقتدار تھا عوامی طبقوں کو طبقہ امراء کی اجاره داری پسند نہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے بہت جلد حقوق کا مطالبہ شروع کر دیا رومیوں نے مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوئے عوامی نمائندوں کے مطالبات تسلیم کر لئے اور نظام حکومت میں ترمیم کر دی۔
عوام کو امراء کے طبقہ میں شادی کرنے کا حق، سینٹ کارکن بننے کا حق اور قونصل کے عہدہ پر فائز ہونے کا حق دے دیا گیا۔ نیز انہوں نے قرضوں اور مزروعہ اراضی کے متعلق مختلف قوانین بنائے قبل ازیں بہت سے کسان قرضہ نہ ادا کرنے کے باعث اپنی جائیدادیں کھو بیٹھتے اور انہیں غلام بنا لیا جاتا۔ جمہوریت نے مقروضوں کے خلاف سخت سزائیں منسوخ کر دیں اور جاگیروں کے لئے حد مقرر کر دی۔ کوئی آدمی مقررہ حد سے زیادہ جاگیر حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ نئے مفتوحہ علاقوں میں ان کاشتکاروں کو کھیتی باڑی کے لئے قطعات اراضی دیئے جانے لگے جن کے پاس اپنی زمین نہ تھی۔ ان اصلاحات کے باوجود خاندان اور دولت کو رومہ میں خاص اہمیت حاصل رہی سینٹ میں بھی اثر و رسوخ کے حامل یہی لوگ تھے دولت مند لوگ غریب عوام کے مقابلہ میں سیاسی اختیارات سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے تھے صوبوں میں بھی جمہوری ادارے قائم تھے۔ ایک کونسل ہوتی تھی جس میں زیادہ اقتدار بڑے بڑے مقامی زمینداروں کو حاصل تھا۔ وہی تمام معاملات کا انتظام چلاتے تھے۔ مقامی معاملات میں انہیں وسیع اختیارات حاصل تھے۔ مرکز کی طرف سے مداخلت بہت کم ہوتی تھی بشرطیکہ وہ مندرجہ ذیل امور کی پابندی کرتی رہیں۔
1) حکومت کے مقرر کردہ محاصل باقاعدگی سے ادا کرتی رہیں۔
2) بوقت ضرورت فوج کے لئے رنگروٹ (سپاہیوں کی نئی بھرتیاں) مہیا کریں۔
3) شہنشاہ کی پرستش کی رسومات بجا لائیں۔
حکومت نے جمہوریت اور شہنشاہیت کے زمانہ میں درسگاہوں کی کبھی سرپرستی نہ کی اور سرکاری خزانہ سے ان پر کچھ خرچ نہ کیا جاتا تھا۔ چنانچہ اس وقت کی درسگاہوں میں تعلیمی اخراجات بہت زیادہ تھے ۔ وہی بچے درسگاہوں میں تحصیل علم کے لئے داخل ہو سکتے تھے جن کے والدین تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت رکھتے تھے۔ جسیٹنین (JUSTINIAN) نے وہ تمام اسکول بند کر دیے جن میں فنِ خطابت اور فلسفہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور ان کے ساتھ جو جائیدادیں وقف تھیں ان کو بھی ضبط کر لیا ہر کافر کو تعلیم دینے سے روک دیا۔ اس نے ایتھنز میں جتنی درسگاہیں تھیں انہیں ۵۲۹ء میں بند کر دیا اس طرح یونانی فلسفہ گیارہ سو سال تک حکمت کی روشنی پھیلانے کے بعد ختم ہو گیا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲