Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر41 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: اڑتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ پنجم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ سوئم)
دوسرا واقعہ جو بڑے دور رس نتائج کا باعث بنا اور اس کے عہد میں وقوع پذیر ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے بازنطین کو رومہ کی سلطنت کا دوسرا دارالحکومت بنایا اور اس کو روم ثانی کی حیثیت دے دی یہاں ہی قسطنطنیہ کا شہر آباد کیا گیا جو بعد میں رومی حکومت کا مرکز بنا اس شہر کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ روز اول سے یہ شہر مسیحی تھا۔ اور یونانی ثقافت کا مرکز تھا۔ اسے کبھی بھی بت پرستانہ حکومت کا مرکز نہیں بنایا گیا۔ قسطنطین نے کلیسا کو ریاست کا ایک شعبہ بنایا اور اسے اپنے شاہانہ کنٹرول میں رکھا۔ جب کبھی کسی بادشاہ نے کافرانہ اور بت پرستانہ عقائد کو فروغ دینا چاہا عیسائیت کے پیروکار اس کی مزاحمت کے لئے فوراً میدان میں نکل آئے۔”انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا” کا مقالہ نگار ان نظریاتی تنازعات کا ذکر کرتا ہے جو خود عیسائیوں میں رونما ہوئے اور ان کو متعدد متحارب فرقوں میں تقسیم کر دیا اگرچہ یہ سلسلہ بہت طویل ہے اور اس کا یہاں احاطہ بہت مشکل ہے لیکن ہم چند اہم امور کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس بات پر تو تقریبا سبھی عیسائی فرقے متفقُ الرائے ہیں کہ اللہ تعالی بحیثیت جوہر ہونے کے واحد ہے۔ اور بحیثیت اقانیم تین ہے۔ وجود، علم ،حیات کو اقانیم کہتے ہیں۔ وجود کو باپ، علم کو بیٹا اور حیات کو روح القدس سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کا اختلاف اس میں ہے کہ ان تین اقانیم کا تعلق جوہر سے کیا ہے۔ ایک فرقہ کا یہ مذہب ہے کہ یہ تین اقانیم اور جوہر قدیم ہیں اور الگ الگ ہیں اور ان میں سے ہر ایک خدا ہے اقنوم ثانی (علم) حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم سے متحد ہو گیا، جیسے شراب اور پانی آپس میں ملنے کے بعد یک جان ہو جاتے ہیں اور مسیح بھی ازلی قدیم ہے اور حضرت مریم علیہا السلام نے ازلی قدیم کو جنا ہے۔ دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ بیٹا (مسیح) کی دو حیثیتیں ہیں ایک لاہوتی اور ایک ناسوتی اس حیثیت سے کہ وہ خدا کا بیٹا ہے وہ خدائے کامل ہے اور اس حیثیت سے کہ اس کا ظہور اس جسد عنصری میں ہوا انسان کامل ہے اس لئے بیک وقت یہ قدیم بھی ہے اور حادث بھی۔ قدیم و حادث کا یہ اتحاد نہ قدیم کی قدامت کو متاثر کرتا ہے اور نہ حادث کے حدوث کو ۔ تیسرے گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اقنوم ثانی گوشت اور خون میں بدل گیا اور خدا مسیح کی شکل میں رونما ہوا۔بعض کی رائے یہ ہے کہ الہ قدیم کے جوہر اور انسان حادث کے جوہر میں یوں امتزاج ہوا جیسے نفس ناطقہ کا جسم کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دونوں ایک چیز بن جاتے ہیں اس طرح جوہر قدیم اور جوہر حادث کے مجموعہ کا نام مسیح ہے اور وہی خدا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ خدا، انسان نہ بن سکا۔ لیکن انسان خدا بن گیا۔ جیسے اگر آگ کوئلہ نہیں بن سکتی۔ کوئلہ تو آگ بن جاتا ہے۔ (ضیاء القرآن ،صفحہ 427 ،زیر آیت (۴: ۱۷۱ ) جلد اول) اس سلسلہ کو کہاں تک طول دیں۔ مشتے نمونہ از خروارے بس است (ڈیڑھ میں سے نمونہ کے طور پر ایک مٹھی) “انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا” میں مسیحیت (CHRIS TIANITY) کے موضوع پر جارج ولیم نائس اور سڈنی ہربرٹ میکون نے مل کر جو محققانہ مقالہ لکھا ہے اس میں وہ رقمطراز ہیں مسیح نے خود بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ان کی اصل کوئی مافوقُ الفطرت چیز ہے بلکہ وہ اس پر مطمئن تھے کہ انہیں حضرت مریم علیہا السلام اور جوزف کے بیٹے کی حیثیت سے پہچانا جائے۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، صفحہ 632، جلد پنجم، ایڈیشن 1962) اسی انسائیکلو پیڈیا میں تاریخِ کلیسا (CHURCH HISTORY)کے عنوان سے جو مقالہ لکھا گیا ہے اس کا اقتباس پیشِ خدمت ہے۔تیسری صدی کے ختم ہونے سے پہلے یسوع کو کلام الہی (LOGOS) کا مجسمہ تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن اس کی الوہیت کا عام طور پر انکار کیا جاتا تھا اس اثناء میں ایریئن (ARIAN) کے تنازعہ نے چوتھی صدی کے کلیسا کو جس اضطراب و حیرت میں مبتلا کر دیا تھا اس نے لوگوں کی توجہ کو اس مسئلہ کی طرف مبذول کیا۔ نیقیا (NICAEA) کی کونسل جو 325ء میں منعقد ہوئی اس میں یسوع کی الوہیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ اور مشرق و مغرب کے عیسائیوں نے اسی عقیدہ کو صحیح مسیحی عقیدہ مان لیا بیٹے کی الوہیت کا مظہر یسوع کو قرار دے دینے سے ایک نئی پیچیدگی پیدا ہو گئی جو چوتھی صدی اور اس کے بعد عرصہ دراز تک مابہ النزاع بنی رہی وہ یہ کہ یسوع میں الوہیت اور انسانیت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ کالسیڈن کی کونسل جو 451ء میں منعقد ہوئی اس میں یہ قرار پایا کہ مسیح کی ذات میں الوہیت اور انسانیت دونوں یکساں طور پر مجتمع ہیں اور باہمی امتزاج کے باوجود دونوں کی خصوصیات جوں کی توں قائم ہیں۔قسطنطنیہ کی تیسری کونسل جو ۸۶۰ء میں منعقد ہوئی اس میں اس پر مزید اضافہ کیا گیا کہ ان دو ہستیوں کی الگ الگ مرضی اور مشیت ہے مسیح دونوں مشیتوں کا مالک ہے مسیح کے اندر دو مشیتوں خدائی اور انسانی کے وجود کے نظریات کو مشرق و مغرب کے کلیساؤں نے بحیثیت پختہ اور صحیح عقیدہ کے مان لیا۔ (انسائیکلو پیڈیا، صفحہ 677-678، جلد پنجم) عقائد کے بارے میں ان کے علماء کے باہمی اختلافات اور تنازعات اور ان پر مرتب ہونے والے سنگین اثرات کی کہانی اتنی طویل اور گھمبیر ہے کہ انسان ان کا مطالعہ کرتے کرتے گھبرا جاتا ہے اور اس کا ذہن انتشار کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ ہم یہاں ان تنازعات کی تاریخ بیان نہیں کر رہے ہم تو قارئین کی توجہ صرف اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اسلام کی صبح طلوع ہونے سے قبل رومی مملکت میں جو دنیا کی سب سے بڑی مملکت تھی اُس میں لوگوں کے مذہبی نظریات اور معتقدات کی کیا کیفیت تھی۔ خصوصاً عیسائیت جو اس مملکت کا سرکاری مذہب تھا۔ اور جو مملکت ایک نبی برحق حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کا دعوی کرتی تھی۔ ان کے مذہبی نظریات و افکار کا کیا عالم تھا۔ اس لئے ہم مندرجہ بالا امور پر ہی اکتفا کرتے ہوئے اس موضوع کو یہاں ختم کرتے ہیں اور رومن مملکت کے معاشرتی حالات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top