Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر40 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: سنتیسواں)(سلطنت روم ~ حصہ چہارم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ دوئم)
جو لوگ مسیحی عقائد اختیار کرتے تھے ان کے خلاف ایذارسانی اور تعذیب کا سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا لیکن آخر کار اس مذہب نے تمام رومن سلطنت میں اپنی فتح کا پرچم لہرا دیا اس کے بعد بھی یہ کوششیں جاری رہیں کہ اس سلطنت کی سابقہ بت پرستانہ حیثیت کو بحال کیا جائے آخری بڑی کوشش بادشاہ جولین نے 361 تا 363 میں کی جو رومیوں کے حکمران طبقے کی روایات سے گہری وابستگی رکھتا تھا اسے واقعی یقین تھا کہ مسیحی لوگ یونانی اور رومی ثقافت کی شائستگیوں کے خلاف مشرق کی ایک گھٹیا اوہام طرازی مسلط کر دینے کی فکر میں ہیں یہ شائستگیاں بڑی محنت و مشقت سے حاصل کی گئی تھیں لیکن یہ صرف دو سال بادشاہ رہنے کے بعد انتقال کر گیا اس طرح مسیحیت نے بہت جلد سابقہ حیثیت حاصل کر لی۔ گبن نے ان وجوہات کی نشاندہی کی ہے جن کے باعث مسیحیت کو یہ شاندار فتح نصیب ہوئی ۔ان میں سے چند وجوہات درج ذیل ہیں۔ 1) یہودیوں میں اپنے مذہب کے لئے انتہائی جوش و انہماک پایا جاتا تھا لیکن ان کی تنگ نظری کے باعث غیر یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قانون سے متنفر ہوتے گئے عیسائیوں نے یہودیوں کے مذہبی جوش و خروش کو تو اپنایا لیکن ان کی تنگ نظری سے اپنے آپ کو بچایا اس طرح دوسرے لوگوں کے لئے مسیحیت میں داخل ہونے کا دروازہ کھول دیا۔ 2) آئندہ زندگی کا عقیدہ جسے اس طرح بنا سنوار کر پیش کیا گیا کہ اس میں مزید وزن اور اثر پیدا ہو گیا۔ 3) وہ معجز نما قوتیں جو کلیسا کے ابتدائی دور سے منسوب تھیں۔ 4) مسیحیوں کے پاک اور راہبانہ اخلاق۔ 5) مسیحی جمہوریت کا اتحاد اور نظم ۔ (تاریخ تہذیب ،صفحہ 187، جلد اول) کرین بر نٹن اپنی مشہور کتاب “تاریخ تہذیب” میں اعتراف کرتا ہے کہ مسیحیت صرف اس لئے کامیاب نہ ہوئی کہ اس نے بت پرست مذاہب کی خرابیوں کے خلاف عَلم جہاد بلند کیا بلکہ اس کی کامیابی کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں بت پرستی کی بہت سی چیزیں شامل کر لی گئی تھیں۔ اس نئے مذہب میں قدیم تر مذاہب کے اصول و اعمال مستعار لینے اور اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت موجود تھی مثلا مسیحیوں نے حیات جاودانی اور قیامت کے بارے میں جو تصورات پیش کئے ان کا مصریوں، یونانیوں اور یہودیوں کے تصورات سے گہرا تعلق تھا۔ (تاریخ تہذیب ،صفحہ 188، جلد اول) “انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا” میں رومن کیتھولک کے عنوان کے نیچے مجسّموں کی عبادت کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مقالہ نگار نے بڑے واضح الفاظ میں اس بات کی تصدیق کی ہے وہ لکھتا ہے۔ یونانیوں کے لئے مسیحیت میں کوئی نرالا پن نہ تھا، بلکہ وہ یونانیوں کی بت پرستی کے تسلسل کا دوسرا نام تھا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پرانے معبود اور ہیرو جو پہلے ان کے شہروں کی حفاظت کیا کرتے تھے اب بھی وہ ان کے نگہبان اور پاسبان تھے لیکن ان کی شکل و صورت بدل گئی تھی اب دیوی دیوتاؤں کی جگہ خدا رسیدہ بزرگوں اور فرشتوں نے لے لی تھی اور یہ ان کے لئے اس قسم کے عجائبات کا اظہار کیا کرتے۔ کافرانہ بت پرستی کی جگہ اب عیسائیت کے مجسموں کی عبادت نے لے لی تھی۔ جسے ایشیائے کوچک وغیرہ کے عیسائی سراپا بت پرستی کہتے تھے۔ شاہ لیو سوم نے فرمان جاری کیا کہ مجسموں اور تصویروں کی تعظیم ترک کر دی جائے لیکن اس فرمان کے باعث دارالحکومت میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی اور یونان میں ایک انقلاب برپا ہو گیا پادری اس فرمان کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان مقدس تصویروں کی تصویر سازی میں ان کی روزی کے اسباب مضمر تھے۔شاہ لیو کے بعد اس کے بیٹے کنسٹنٹائن پنجم نے اپنے باپ کی بت شکنی کی پالیسی کو زور شور سے جاری رکھا اور راہبوں کی شدید مخالفت کا دلیری سے مقابلہ کیا اس کے عہد میں ایک جنرل قونصل 753ء میں منعقد ہوئی جس میں مجسموں کی پرستش پر نفرت و حقارت کا اظہار کیا گیا لیکن یہ تحریک اس وقت ناکامی کا شکار ہو گئی جب کنسٹنٹائن ششم کی والدہ نے مجسمہ پرستی کی اجازت از سرنو دے دی یہ سلسلہ جاری رہا۔ لیکن آخری فتح مجسموں کے پرستاروں کو ہوئی جب تھیوڈر نے 743ء میں مجسمہ پرستی کی تائید میں فرمان جاری کیا۔ (انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا، صفحہ 448-439، جلد 19) اگرچہ عیسائیت نے چوتھی صدی کی ابتداء میں رومی سلطنت کے آئینی مذہب کی حیثیت حاصل کرلی تھی اور اس کے پیرو کاروں پر جبر و تشدد اور بت پرستانہ مذاہب سے مقابلہ کا دور ختم ہو گیا لیکن خود مسیحیت کے اندر مختلف عقائد و رسوم کے بارے میں طویل اور تشویش ناک کشمکش شروع ہو گئی۔ شاه قسطنطین کے عہد میں دو بڑی دور رس تبدیلیاں رونما ہوئیں پہلی یہ کہ اس نے بت پرستی کو چھوڑ کر عیسائیت کو قبول کیا۔ اس سے پہلے روم کے بادشاہوں کی پرستش کی جاتی تھی اس نے اس باطل رسم کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top