Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر39 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: چھتیسواں) (سلطنت روم ~ حصہ سوئم) (اہل روم کا مذہب ~ حصہ اول)
ابتدائی دور کے رومی قدیم مذہب پر کار بند تھے ایک چھوٹی سی شہری ریاست کے لئے جس میں کسان بستے تھے وہ قدیم مذہب بالکل طبعی تھا۔ وہ ان روحوں کی پرستش کرتے تھے جو گھروں ، چشموں ، کھیتوں اور جنگلات کے دوسرے مقاموں میں کار فرما تھیں سادہ لوح کسانوں کو طلسمی باتوں پر بڑا اعتقاد تھا۔جب یونان کبیر ( رومہ ) اور باقی یونانی دنیا کا الحاق عمل میں آیا تو جمہوریت کے آخری دور کے رومیوں نے کوہ اولمپس کے دیوتاؤں کو اپنا معبود بنا لیا البتہ ان دیوتاؤں اور دیویوں کے نام مقامی ہی رکھے مثلا یونانیوں کے زیوس کا نام رومیوں نے جوپیٹر (مشتری ) اور یونانی ہیرا ( زیوس کی بیوی ) کا نام رومیوں نے جونو (JUNO) رکھ دیا اس طرح پوسیڈن، نیپچون(NEPTUNE) سمندر کا دیوتا زحل (ریرس مارس (MARS) (جنگ کا دیوتا مریخ) ہٹااسٹس ولکن (VULCAN) (آگ کا رومی دیوتا) ایفروڈائٹ وینس (زہرا ) ہتھینا منروا MINERVA) (علم کی دیوی) کہلانے لگے۔ (تاریخ تہذیب ،صفحہ 154، جلد اول) مذہبی رسوم جو یونان میں اولمپائی کھیلوں اور ایتھنز کے ڈرامائی جشنوں کی صورت میں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی تھیں روم میں ان مذہبی رسومات کا کوئی دستور نہ تھا۔ رومیوں کو عبادات میں زیادہ حصہ لینے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ دیوتاؤں کو مقررہ مقامات پر پہنچانے کی ذمہ داری حکومت نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی اور دیوتاؤں کے بارے میں جو مذہبی رسومات تھیں وہ پروہتوں کی ایک جماعت ادا کرتی تھی جن کا رئیس خود بادشاہ ہوتا تھا۔ سیزر نے جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے اپنی رعایا کو اپنی پرستش کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ اور یہ ان کے باطل معبودوں میں ایک نئے فانی معبود کا اضافہ تھا وہ حیات بعدَ الموت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تھے “لو کریشس ” ایک قدیم رومی شاعر کہتا ہے کہ انسان کو موت سے نہیں ڈرنا چاہئے نہ یہ سمجھنا چاہئے کہ موت کے بعد تکلیف واذیت کا کوئی امکان ہے اس کے نزدیک انسانی جسم اور انسانی روح کائنات کی دوسری چیزوں کی طرح عناصر کے وقتی اور عارضی اجتماع کا نتیجہ ہے جب موت آتی ہے ذرات الگ الگ ہو کر بکھر جاتے ہیں جسم و روح بھی الگ الگ ہو جاتے ہیں موت ایک ایسی نیند سے مشابہ ہے جو نہ کبھی ختم ہوگی اور نہ اس میں کوئی خواب نظر آئے گا۔ (تاریخ تہذیب ،صفحہ 156، جلد اول) معبودانِ باطل کی پرستش کا یہ عقیدہ صدیوں جاری رہا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی بعثت ہوئی آپ علیہ السلام کی آمد کے باعث آپ علیہ السلام کی زبان پاک سے لوگوں نے اللہ تعالی کی وحدانیت کا عقیدہ سنا۔ اگرچہ فلسطین اور شام وغیرہ کا علاقہ قیصر روم کے زیر نگیں تھا لیکن مذہبی طور پر یہودیوں کا بڑا اثر و نفوذ تھا۔ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی آمد کو اپنے لئے ایک خطرہ تصور کیا اور آپ علیہ السلام کی مخالفت میں سر دھڑ کی بازی لگادی ہر بیہودہ الزام آپ علیہ السلام پر لگایا۔ ہرتہمت آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کی اور بیت المقدس کے رومی گورنر پیلاطس کو دھمکیاں دیں کہ اگر تم نے اس شخص کا چراغ زیست بجھا نہ دیا تو تمہارے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں گے۔ اس طوفانی مخالفت کے باعث زیادہ لوگ آپ علیہ السلام سے فیضیاب نہ ہو سکے صرف بارہ خوش نصیبوں کو آپ علیہ السلام پر ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی جنہیں حواری کہا جاتا ہے آپ علیہ السلام کے رفع الی السماء (آسمان پر اٹھائے جانے) کے بعد حواریوں نے آپ علیہ السلام کے دین کی تبلیغ کا فریضہ بڑی سرگرمی سے ادا کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ عیسائیت کو قبول کرتے ان کے خلاف نفرت اور غصہ کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا تعذیب واذیت رسانی کا پہلا واقعہ جو سب سے زیادہ مشہور ہے 64 عیسوی میں شہنشاہِ نیرو کے ماتحت پیش آیا۔ ٹیسی ٹس اعلیٰ درجہ کا مورخ ہے وہ کہتا ہے کہ نیرو نے رومہ کی تباہی خیز آتش زدگیوں کا الزام مسیحیوں پر عائد کرنے کی دانستہ کوشش کی عام افواہ یہ تھی کہ آگ بے لگام بادشاہ نے خود حکم دے کر لگوائی ہے اس مورخ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مہذب و شائستہ بت پرست نئے فرقے کے متعلق کیا سمجھتے تھے۔ لہذا افواہ کی روک تھام کے لئے نیرو نے نئے مجرم تلاش کئے اور انہیں انتہائی بے دردی سے سزائیں دیں یہ ایسے آدمیوں کی ایک جماعت تھی۔ جن کی برائیوں سے لوگ متنفر تھے اور انہیں مسیحی کہا جاتا تھا۔ مسیح نے جو اس فرقہ کا بانی تھا تائیبریس کے عہد حکومت میں موت کی سزا پائی تھی۔ اور یہ مذموم اتہام طرازی یعنی مسیحیت تھوڑی دیر کے لئے رک گئی تھی کچھ مدت بعد پھر پھوٹی اور یہودیہ ہی میں نہیں جو بیماری کا گھر تھا، بلکہ دار الحکومت تک پہنچ گئی پہلے وہ آدمی گر فتار کئے گئے جو اس مذہب کا برملا اعتراف کرتے تھے پھر ان کی نشاندہی پر ایک کثیر تعداد کو گرفتار کر لیا گیا ان کے خلاف غصہ آگ لگانے کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ لوگوں کو ان سے نفرت تھی ان کے خاتمہ تک لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے پہلے ان پر درندے چھوڑے گئے۔ پھر کتوں سے پھڑوایا گیا یا انہیں صلیبوں سے باندھ دیا گیا جب سورج غروب ہوا تو صلیبوں کو آگ لگادی گئی تاکہ رات کے وقت چراغوں کا کام دے سکیں۔ (تاریخ تہذیب، صفحہ 176، جلد اول) 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top