یونان کی سرزمین جہاں فلسفہ پیدا ہوا اور جس کی فضاؤں میں پروان چڑھا۔ اس کے نامور فرزندوں کی عظیم کوششوں کے باعث فلسفہ کی روشنی سے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیا اور شمالی افریقہ کے دور افتادہ ممالک کے در و دیوار بھی جگمگانے لگے جسے بجا طور پر یہ ناز ہے کہ اس نے سقراط، افلاطون، ارسطو جیسے نابغہ روز گار فلاسفر پیدا کئے لیکن جب ہم دقت نظر سے ان عظیم دانشوروں کی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسی خرافات بھی ملتی ہیں، جنہیں پڑھ کر عقل انسانی کی نارسائی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ ابو نصر فارابی جو یونانی فلسفہ کا بہترین ترجمان اور قابل اعتماد مفسر ہے اس نے اپنے رسالہ میں افلاطون اور ارسطو کی آراء و نظریات میں تضاد دور کرنے کی کوشش کی ہے اس رسالہ کا نام”کتاب الجمع بین رأییِ الحکیمین” ہے ۔ہمارے پاس اس کا وہ نسخہ ہے جو مطبع کاثولیکیا نے بڑی تحقیق اور اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اس کا مقدمہ لبنان یونیورسٹی کے ڈاکٹر البیر نصری نادر نے لکھا جو وہاں فلسفہ کے پروفیسر ہیں پروفیسر مذکور اس کے مقدمہ میں لکھتے ہیں۔
افلاطون سے جب پوچھا گیا کہ ہم اپنے شہر کا نظم و نسق کس طرح چلائیں تاکہ وہ آبادی اور خوشحالی میں بام عروج تک پہنچ جائے اور اس میں عدل و انصاف کے تمام قواعد پر عمل ہو سکے اس کے جواب میں افلاطون کہتا ہے کہ اس کے لئے اس شہر کے باشندوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرنا چاہئے ۔حکام ، لشکر اور عوام الناس پہلے دو طبقے اس مثالی شہر کے نگہبان ہیں، داخلی انتشار اور بیرونی حملوں سے بچانا ان کی ذمہ داری ہے اس لئے ان دو طبقوں کی طرف خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ افلاطون پھر تاکید کرتا ہے کہ ان طبقوں کو ہر قسم کی مالی پریشانیوں سے بچانا حکومت کا فرض ہے اس طرح حکومت پر لازم ہے کہ ان کے دلوں سے خاندانی جذبات کی بیخ کنی کر دے اور انہیں اپنا علیحدہ خاندان بنانے سے قانونی طور پر روک دے حکومت کو خوشگوار اوقات میں ایسے مذہبی تہوار منعقد کرنے چاہئیں جن میں یہ چنے ہوئے مرد صحت و جمال میں ہر طرح ممتاز عورتوں کے ساتھ وقتی طور پر رشتہ ازدواج قائم کر سکیں۔ اور اس کا مقصد صرف حکومت کے لئے بہترین بچوں کا پیدا کرنا ہو ۔ جب وہ عورتیں بچے جنیں تو ان بچوں کو ان سے لے لیا جائے اور تمام بچوں کو ایک مکان میں رکھا جائے وہ عورتیں آکر انہیں دودھ پلائیں اور کوئی عورت یہ امتیاز نہ کرے کہ یہ کس کا بچہ ہے اور نہ ان کو پہچان سکے ۔ اس طرح اس طبقہ میں کوئی مخصوص رشتہ داری نہیں پائی جائے گی وہ سب ایک خاندان کے افراد شمار ہوں گے ۔ سب کے ساتھ یکساں نوعیت کی قرابت ہوگی۔ آخر میں افلاطون جیسا فیلسوف کہتا ہے کہ آزادانہ اختلاط کرنے والے مرد اور عورتیں ممتاز صلاحیتوں کے مالک ہوں گے اور ان کی اولاد بھی یقیناً دوسرے لوگوں سےاعلیٰ و برتر ہوگی۔
(کتاب الجمع، صفحہ ۱۸ – ۱۷)
افلاطون جیسے فلسفی کے یہ خیالات پڑھ کر سر چکرانے لگتا ہے کیا یہ وہ شخص ہے جس کی علمیت اور حکمت کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج رہا ہے ؟ کیا یہ وہ شخص ہے جسے دنیا حکیم اور فیلسوف کہتی ہے ؟ کیا انسانی نفسیات سے اس کی بے خبری کا یہ عالم ہے ؟ ذرا آگے بڑھئے ! افلاطون کے فلسفہ کے ایک گوشہ سے نقاب الٹنے پر وہاں افلاطون حکیم کی بجائے آپ کو ایک جلاد نظر آئے گا جس کا دل رحمت و شفقت کے جذبات سے یکسر عاری ہے جس کے سامنے عدل و انصاف کی بات کرنا بھی ان الفاظ کی توہین ہے پروفیسر مذکور ہی کے الفاظ میں افلاطون کے اس نظریہ کو ملاحظہ فرمائیے۔
فَاِنْ وُلِدَ لِلشَّعْبِ وَلِلْحُرَاسِ اَطْفَالٌ فِيْ غَيْرِ زَمَنِ الْمُحَدَّدِ اُعْدِمُوْا وَكَذٰلِكَ يُعْدَمُ الطِّفْلُ نَاقِصُ التَّكْوِيْنِ وَالْوَلَدُ فَاسِدُ الْاَخْلَاقِ وَالرَّجُلُ الضَّعِيْفُ عَدِيْمُ النَّفْعِ وَالْمَرِيْضُ الَّذِيْ لَا يُرْجٰى لَهٗ شِفَآءٌ لِاَنَّ الْغَايَةَ هِيَ اَنْ يَّظَلَّ عَدَدُ السُّکَّانِ فِي الْمَسْتَوَى الَّذِيْ يَكْفُلُ سَعَادَةَ الْمَدِيْنَةِ○
ترجمہ: اگر عوام الناس اور اہل لشکر کے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے اور مقررہ وقت پر وہ پیدا نہ ہوں تو انہیں قتل کر دیا جائے ، اسی طرح وہ بچہ جو جسمانی طور پر ناقص ہو ، وہ لڑکا جس کے اخلاق بگڑے ہوئے ہوں ،وہ کمزور مرد جس سے کوئی نفع نہیں ، وہ بیمار جس کے تندرست ہونے کی کوئی امید نہیں ( ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ) کیونکہ مقصد تو یہ ہے کہ اس مثالی شہر کے باشندوں کی تعداد اس سطح سے اوپر نہ ہو جن کی سعادت مندی کی ذمہ داری اٹھائی جا سکتی ہے۔
(کتاب الجمع، صفحہ ۱۸)
جو فلسفی بے گناہ بچوں کے قتل،بیماروں ، لاچاروں اور کمزوروں کو تہ تیغ کرنے کی یوں کھلی اجازت دے رہا ہے اور اپنے مثالی شہر میں عدل و انصاف کے قیام کی اولین بنیاد قرار دیتا ہے اس سے عدل و انصاف کی توقع سادہ لوحی کی انتہا ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲